Updated: September 01, 2026, 9:03 PM IST
| Lucknow
’’مرزا پور:دی مووی‘‘ کی سنیما گھروں میں ریلیز سے قبل اداکار علی فضل نے لکھنؤ کا خصوصی دورہ کیا، جہاں وہ اپنے نانا احمد سعید صاحب کی پہلوانی سے جڑی یادوں اور خاندانی وراثت سے دوبارہ جڑے۔ اس موقع پر علی فضل ایک اکھاڑے میں پہنچے اور دیسی کشتی و پہلوانی کی اس روایت کو قریب سے محسوس کیا، جو ان کے نانا کی پرورش کا اہم حصہ رہی تھی۔
علی فضل۔ تصویر:آئی این این
’’مرزا پور:دی مووی‘‘ کی سنیما گھروں میں ریلیز سے قبل اداکار علی فضل نے لکھنؤ کا خصوصی دورہ کیا، جہاں وہ اپنے نانا احمد سعید صاحب کی پہلوانی سے جڑی یادوں اور خاندانی وراثت سے دوبارہ جڑے۔ اس موقع پر علی فضل ایک اکھاڑے میں پہنچے اور دیسی کشتی و پہلوانی کی اس روایت کو قریب سے محسوس کیا، جو ان کے نانا کی پرورش کا اہم حصہ رہی تھی۔علی فضل کے لیے یہ دورہ خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ اکھاڑے میں کھڑے ہو کر انہیں اپنے نانا اور بچپن میں سنی ہوئی ان کی تربیت و زندگی کی باتیں یاد آگئیں۔
اکھاڑے کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے علی نے کہا ’’جب آپ اس جگہ میں قدم رکھتے ہیں تو آپ کا غرور ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے نانا کی تربیت پہلوانی کے ماحول میں ہوئی تھی۔ علی کے مطابق ’’میرے نانا کی تربیت پہلوانی میں ہوئی ہے۔‘‘ علی فضل نے بتایا کہ انہوں نے خود کبھی کشتی نہیں لڑی اور ابتدا میں اکھاڑے میں جانے کو لے کر قدرے جھجھک بھی محسوس کر رہے تھے۔ تاہم اس جگہ کا ماحول انہیں اپنی طرف کھینچ لایا۔ ان کے مطابق، پہلے وہ وہاں آنے کے بارے میں تھوڑا ہچکچا رہے تھے کیونکہ انہوں نے کبھی کشتی نہیں کی، لیکن اکھاڑے میں کچھ ایسا احساس تھا جو انہیں واپس اپنی جڑوں کی طرف کھینچ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’پشپا ۲‘‘ میں خاتون کا کردار ادا کرنا میری زندگی کا سب سے ’الفا‘ کام تھا: اللو ارجن
اکھاڑے کا یہ تجربہ علی فضل کو اس مارشل آرٹ کی یاد بھی دلاتا ہے جسے انہوں نے فلم ’’مرزا پور‘‘ میں گڈو پنڈت کے کردار میں واپسی کی تیاری کے دوران سیکھا تھا۔ علی نے پہلوانی اور جوجوتسو کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وہ دوبارہ جوجوتسو کی طرف کھنچے چلے گئے، اسی طرح اکھاڑے کا ماحول بھی انہیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے جوجوتسو کے حوالے سے بتایا کہ اس میں تکنیک اور جسمانی توازن بہت اہم ہے اور مقابلے کے دوران پیٹھ کے بل گرنے سے پوائنٹس ضائع ہو سکتے ہیں۔
گڈو پنڈت کے کردار میں واپس آنے کے لیے علی فضل نے صرف عام ورزش پر انحصار نہیں کیا بلکہ جوجوتسو کو بھی اپنی تربیت کا حصہ بنایا۔ اس کا مقصد کردار کے لیے درکار طاقت، لڑنے کی صلاحیت، جسمانی پھرتی اور مضبوطی کو بہتر بنانا تھا۔ اب لکھنؤ کے اکھاڑے میں پہلوانی کی روایت سے ان کا یہ ذاتی تعلق گڈو پنڈت کی جسمانی تیاری کو ایک جذباتی اور ذاتی پہلو بھی فراہم کرتا ہے۔
علی فضل نے اپنے نانا کی روایتی غذائی عادات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس طرزِ زندگی کی ایک جھلک شیئر کی جو پہلوانوں کی دنیا سے وابستہ رہی ہے اور جس کے بارے میں وہ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ ان کے لیے پہلوانی صرف جسمانی طاقت کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط، سخت محنت، مضبوط رہنے اور انا کو پیچھے چھوڑنے کی ایک سوچ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یو ایس اوپن میں واپسی کرتے ہوئے الکاراز نے سفیولین کو آسانی سے ہرایا
علی فضل کا لکھنؤ کا یہ دورہ دو مختلف دنیاؤں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ ایک طرف ان کے نانا کی پہلوانی کی وراثت ہے اور دوسری طرف جوجوتسو جیسی جنگی فنون کی تربیت، جس نے انہیں گڈو پنڈت کے کردار کے لیے تیار ہونے میں مدد دی۔ دونوں کے درمیان مشترک بات نظم و ضبط، جسمانی مضبوطی، مسلسل محنت اور انا کو قابو میں رکھنا ہے۔علی فضل ایک بار پھر گڈو پنڈت کے کردار میں نظر آئیں گے۔ ’’مرزا پور‘‘ فلم ۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء کوسنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔