• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نخرےوالی: بھیس بدلنے اور رومانوی الجھنوں پر مبنی مزاحیہ کہانی

Updated: November 07, 2026, 1:01 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

ویسے تو یہ آیوشمان کھرانہ کی ’ڈریم گرل۲‘ سے مشابہ ہے لیکن چند منفرد مزاحیہ واقعات اور کردار اسے اپنی الگ شناخت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

Ansh Duggal and Pragati Srivastava can be seen in a scene from the film `Nakhray Wali`. Photo: INN
فلم’نخرے والی‘کےایک منظر میںانش دگل اور پرگتی شریواستوکو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

نخرے والی (Nakhrewaalii)
اسٹارکاسٹ: انش دگل، پرگتی شریواستو، آکاش ماکھیجا،گوپال دت، کمود مشرا، آیوشی ورما،کاجول بھدانا،رشی راج بھسین
ڈائریکٹر: راہل شنکلیا
رائٹر: دیوی ندھی شرما،ستیہ ویاس
پروڈیوسر: آنند ایل رائے،جیوتی دیشپانڈے، ہمانشو شرما
موسیقی: تنشک باگچی، گورو چٹرجی، امن پنت،شرن راوت 
ایڈیٹر: آنند ابھیشیک
سنیماٹو گرافر: داس چرنتن
کاسٹیوم ڈیزائن: انکتا جھا
کاسٹنگ: مکیش چھابرا
اپروڈکشن ڈیزائن: اپوروا بھگت، نکھل کووالے
یمرہ اور الیکٹریکل: شانتنو داس مہاپاترا
ریٹنگ: ***

یہ بھی پڑھئے: میٹھے میں کیا ہے: آپسی رشتوں او ر تہوار کے پس منظر پر مبنی فلم

آنند ایل رائے کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’نخرےوالی‘ کی کہانی میں کئی ایسے پہلو ہیں جو آیوشمان کھرانہ کی فلم ’ڈریم گرل۲؍‘ کی یاد دلاتے ہیں۔ دونوں فلموں میں بھیس بدلنے، مرد کا عورت کا روپ اختیار کرنے، غلط فہمیوں اور رومانوی الجھنوں کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ’نخرےوالی‘ میں کچھ ایسے منفرد مزاحیہ واقعات اور کردار بھی ہیں جو اسے اپنی الگ شناخت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

فلم کی کہانی

راہل شنکلیا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں انش دگل اور پراگتی سریواستو مرکزی کرداروں میں ہیں۔ فلم کی کہانی سمت مشرا (انش دگل)کے گرد گھومتی ہے، جو ایک لاابالی اور غیر ذمہ دار نوجوان ہے۔ اس کی سوچ خواتین کے بارے میں خاصی روایتی اور متعصبانہ ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ خواتین کو زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ آسانیاں حاصل ہیں اور وہ اکثر اپنے مطالبات منوانے میں بھی کامیاب رہتی ہیں۔کہانی میں سمت کی زندگی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب اس کی پرانی گرل فرینڈ کسی دوسرےشخص سے شادی کرلیتی ہے۔ اس واقعے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئےدہلی چلا جاتا ہے۔ وہاں اس کی ملاقات اپنے مکان مالک کی بیٹی پریِدھی (پراگتی سریواستو) سے ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب راغب ہونے لگتے ہیں اور ان کے درمیان قربت بھی بڑھتی ہے، لیکن سمت کی سوچ ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی ہوتی۔وہ پریِدھی کو صرف وقت گزاری کے لیے مناسب سمجھتا ہے، جبکہ کالج کی ایک دوسری لڑکی، جو اسے پسند کرتی ہے اور جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ وہ کنواری ہے، اسے شادی کے لیے زیادہ موزوں خیال کرتا ہے۔ تاہم حالات اس وقت بدل جاتے ہیں جب سمت کو احساس ہوتا ہے کہ وہ پریِدھی سے محبت کرنے لگا ہے۔ اب اس کے سامنے ایک نئی مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔پریِدھی کے والدین اس کی شادی کیلئےسرکاری ملازمت کرنے والے لڑکے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ سمت کو ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے سرکاری نوکری حاصل کرنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ وہ اس مشکل سے کیسے نکلتا ہے، یہی فلم کی باقی کہانی کا محور ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اڑتا تیر: جاسوسی، طنز و مزاح اور حب الوطنی کا دلچسپ امتزاج

ہدایت کاری

فلم کی کہانی اگرچہ کوئی نئی یا انوکھی نہیں ہے، لیکن ہدایت کار راہل شنکلیااور مصنف دویہ ندھی شرما نے اسے دلچسپ بنانے کی کوشش کی ہے۔ فلم کے پہلے حصے میں کئی مزاحیہ مکالمے اور دلچسپ واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسرے حصے میں بھی ہنسی مذاق کا سلسلہ برقرار رہتا ہے، جو فلم کے حق میں جاتا ہے۔ صنفی شناخت اور بھیس بدلنے جیسے موضوعات کو مزاح کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔تاہم فلم میں کچھ ایسی خامیاں بھی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر مرکزی کردار کے حلیے میں تسلسل برقرار نہیں رکھاجاسکا۔ کہانی کے ایک بڑے حصے میں سمت عورت کا بھیس اختیار کرتاہے، لیکن مختلف مناظر میں اس کی شکل و صورت میں واضح فرق نظرآتا ہے۔ ایک منظر میں اس کا چہرہ بالکل صاف شیو ہوتا ہے، لیکن اسی دن شام تک اس کے چہرے پر دو سے تین دن کی داڑھی کے بال دکھائی دینے لگتے ہیں۔شادی کے ایک منظر میں بھی، جہاں واقعات مسلسل آگے بڑھتےہیں، اس طرح کی غلطی نمایاں ہوجاتی ہے۔ بظاہر یہ معمولی باتیں ہیں، لیکن چونکہ فلم کی بنیاد ہی بھیس بدلنے اور حلئے کی تبدیلی پر ہے، اس لیے ایسی غلطیاں ناظرین کی توجہ کہانی سے ہٹا دیتی ہیں۔

اداکاری

اداکاری کے معاملے میں انش دگل اور پراگتی سریواستو دونوں نےاپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ دونوں کی اسکرین پر موجودگی اچھی لگتی ہے۔ کمود مشرا نے ایک سرکاری افسرکا اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ کی طرح اپنی اداکاری سے متاثر کرتےہیں۔گوپال دت نے پریِدھی کے والد کاکردار نبھایا ہے۔ ان کے مزاحیہ مکالمے فلم میں ہنسی کے کئی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ وہیں آکاش ماکھیجا نے سمت کے دوست جھاڑی کا کردار ادا کیا ہے اور اپنے انداز سے ناظرین کو محظوظ کرتے ہیں۔

کیوں دیکھیں؟

اگر آپ ہلکے پھلکے مزاح والی فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں تو آپ اس فلم کو ایک مرتبہ دیکھ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK