کرائم تھریلرز کی بھرمار کے درمیان اوٹی ٹی پر جرائم کی نئی سیریز کیلئے توجہ حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن، ’راکھ ‘یہاں نسبتاً مختلف راہ پر نظرآتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 11:21 AM IST | Inquilab Desk | Mumbai
کرائم تھریلرز کی بھرمار کے درمیان اوٹی ٹی پر جرائم کی نئی سیریز کیلئے توجہ حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن، ’راکھ ‘یہاں نسبتاً مختلف راہ پر نظرآتی ہے۔
راکھ
(Raakh)
اسٹریمنگ ایپ: امیزون پرائم ویڈیو(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: علی فضل، سونالی بیندرے، عامر بشیر، راکیش بیدی، آکاش مکھیجا، رمن دیپ یادو، دیویہ شرما، ویوان شرما
ڈائریکٹر: پروست رائے
رائٹر: انوشا نند کمار، سندیپ ساکیت
پروڈیوسر: دیپک دھر، رشی نیگی، مرنالی جین، شیام راٹھی
موسیقی: اجےجینتی، پارتھ پانڈیا
سنیماٹو گرافر: سومیانندا ساہی
ایڈیٹر: مانس متل
ریٹنگ:****
او ٹی ٹی کرائم تھریلر سے بھرا ہوا ہے۔ تقریباً ہر دوسرے ہفتے، قتل کا ایک نیا معمہ، ایک نیا سیریل کلر، یا پولیس کی نئی تفتیش کی کہانی اسکرینوں پر آتی ہے۔ ایسے میں، جرائم کی نئی سیریز کے لیے توجہ حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن، ’راکھ ‘یہاں نسبتاً مختلف راہ پر نظرآتی ہے۔ یہ سیریز ۱۹۷۸ء کے بدنام زمانہ ’رنگا بلا‘ کیس سے متاثر ہے، جسے ہندوستان کے ہولناک جرائم میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کیس کو پہلے ’کرائم پیٹرول‘، ’بھنور‘ اور حال ہی میں ’بلیک وارنٹ ‘ جیسے پروجیکٹوں میں مختلف طریقوں سے پیش کیاجا چکا ہے، لیکن ’راکھ‘ صرف یہ نہیں بتاتی کہ جرم کیسے ہوابلکہ اس میں اس خوف کی منظر کشی کی کوشش کی گئی ہے جو اس طرح کے جرائم کے بعد معاشرہ میں پھیل جاتا ہے۔ پروسیت رائے جس نے ’پری ‘اور ’پاتال لوک ‘جیسی تاریک دنیائیں تخلیق کیں، یہاں بھی ویسا ہی چین ماحول پیدا کیا ہے۔
کہانی
کہانی دہلی کے ایک ہائی پروفائل خاندان سے شروع ہوتی ہے۔ مونا اروڑا (سونالی بیندرے) اور ان کے شوہر اشوک اروڑہ (عامر بشیر) کے دو بچے، سمن اور ساحل، ایک ریڈیو پروگرام میں شرکت کیلئے گھر سے نکلتے ہیں لیکن واپس نہیں آتے۔ کچھ ہی دیر میں خاندان کی پریشانی پولیس کیس میں بدل جاتی ہے۔ لیکن کہانی لاپتہ بچوں کی تلاش تک محدود نہیں ہوتی۔ اسی دوران بابو اور رجّو نامی دو مجرموں کہانی بھی سامنے آتی ہے۔ دونوں چھوٹے چھوٹے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن ایک غلط فیصلہ چیزوں کو خطرناک موڑ پر لے جاتا ہے۔ یہیں سےناظرین کو یہ لگنے لگتا ہےکہ معاملہ جتنا نظر آرہا ہے، اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہاں، پولیس افسر جئے پرکاش (علی فضل) کو کیس سونپا جاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ جئے پرکاش کا کردار ایک عام فلمی پولیس والے کی طرح نہیں لکھا گیا۔ وہ ہر پانچ منٹ میں چیختا نہیں ہے، بڑےبڑے ڈائیلاگ نہیں دیتا یا ہیرو بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کی اپنی جدوجہد ہے۔ ان کے والد (راکیش بیدی) چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا سسٹم میں اپنا نام بنائے، لیکن جئے پرکاش اپنی محنت سے اپنا نام بنانا چاہتا ہے۔ ۷؍ قسطوں پر مشتمل اس سیریز میں اس درد ناک واقعے کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، مجرموں کی بے رحمی اور پولیس کی بے چینی دونوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دی پیرامڈ اسکیم: دھوکہ دے کر پیسہ اینٹھنے والی اسکیموں کی پول کھول
اداکاری
علی فضل نے اس بار اپنی اداکاری سے چونکا دیا ہے۔ ’مرزا پور ‘ میں ’ گڈو پنڈت ‘کے رول کے بعد انہیں ایک پُرسکون اور اندر ہی اندر ٹوٹے ہوئے پولیس افسر کے کردار میں دیکھنا ایک الگ تجربہ ہے۔ بہت سے واقعات میں، وہ اپنے چہرے کے تاثرات کے ساتھ، زیادہ کچھ کہے بغیر سین کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ یہی چیز ان کی کارکردگی کواور بھی مضبوط بناتی ہے۔
سونالی بیندرے، ایک طویل عرصے کے بعد، ایک ایسے کردار میں نظر آتی ہیں جہاں وہ صرف پرانی یادوں کے سہارے دن گزارنے والی ماں کا کردار نہیں نبھاتیں بلکہ اپنی بے چینی اورٹوٹنے کو پوری سچائی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ عامر بشیر ہمیشہ کی طرح بھروسہ مند نظر آتے ہیں، لیکن، آکاش مکھیجا اور رمندیپ یادو نے شدید حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بابو اور رجو کے کرداروں میں، دونوں نہ صرف بہترین اداکاری کی ہے بلکہ کئی جگہوں پرانہوں نے حقیقی معنوں میں خوف پیدا کیا ہے۔ ان دونوں کو دیکھ کر اکثرناظرین میں جو غصہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ اپنے فن میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ دیویہ شرما اور ویوان شرما نے اپنے چھوٹے لیکن اثر انگیز کرداروں میں اچھا کام کیا ہے۔ دیویندو بھٹاچاریہ نے بھی اپنے کردار سے کہانی کو تقویت بخشی۔ شکایت صرف راکیش بیدی سے ہے۔ سیریز میں ان کا کردار اچھا ہے لیکن ’دھرندھر‘ کے بعد شائقین کو جیسی توقع تھی، وہ اثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔
سیریز کہاں کمزور پڑتی ہے؟
’راکھ‘ کی سب سے بڑی خرابی اس کی سست رفتار ی ہے۔ اگر آپ ہر۱۵؍ منٹ میں ایک موڑ کے ساتھ سیریز دیکھنے کے عادی ہیں، تو ابتدائی قسطیں آپ کے صبر کا امتحان ثابت ہوسکتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیریز بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سنگین بنادیتی ہے۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ میکرز نےکہانی کو آگے بڑھانے کے بجائے ماحول کو سنگین بنانے پر زیادہ توجہ دی ہے۔ کلائمکس اچھا ہے، لیکن سیریز کبھی کبھی اس تک پہنچنے میں ضرورت سے زیادہ لمبی محسوس ہوتی ہے۔ سیریز ایک ساتھ بہت سی باتوں کو ایک ساتھ کہنا چاہتی ہے، لیکن ہر بات اتنی قوت سے سامنے نہیں آپاتی۔