Updated: July 15, 2026, 9:22 AM IST
| Nashik
ناسک کے اگت پوری میں بھوالی ڈیم گھومنے گئی ایک فیملی کے ساتھ سرعام چھیڑ چھاڑ اور مار پیٹ، گھر لوٹتے وقت غنڈوں نے ۱۵؍ کلومیٹر تک ان کی گاڑی کا پیچھا کیا ا ور گاڑی کے شیشے توڑ دئیے، پولیس میں شکایت درج، ۹؍ ملزمین گرفتار، متاثرہ فیملی شدید خوف و ہراس میں مبتلا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ دھونڈو پنت سوامی ملزموں کے خلاف کارروائی کے بارے میں بتاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر کے ناسک میں بھوالی ڈیم اور آبشار گھومنے آئے ایک خاندان کے ساتھ جوکچھ ہوا وہ ریاست میں عوامی سیکوریٹی اورغنڈوںکی سینہ زوری کی قابل تشویش صورتحال سامنے لاتا ہے۔فیملی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ غنڈوں نے چھیڑ خانی کی بلکہ مخالفت کرنے پران کے ساتھ مار پیٹ کی اورجائے وقوع سےنکلنے کے بعد گھر لوٹتے وقت ان کی گاڑی کا پیچھا کیا ۔ پہلے تو فیملی کی خواتین نے چھیڑخانی کی مخالفت کی جس پربدمعاشوںنے ان کے ساتھ نا زیبا سلوک کیا ۔ حملہ آوروں نے نہ صرف خاندان پر حملہ کیا بلکہ تقریباً۱۵۔۲۰؍کلومیٹر تک ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور توڑپھوڑ کی۔ متاثرہ خاتون کی شکایت پر ناسک میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ناسک سٹی اور دیہی پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے ۹؍ افراد کو حراست میں لیا ہے۔
فیملی کی خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے تنازع کو جنم دیا
پولیس شکایت کے مطابق ناسک کا بھاگوت پریوار اتوار کو ناسک ضلع کے اگت پوری میں بھوالی ڈیم گھومنے گیا تھا۔ آبشار کے پاس کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔ اہل خانہ کے پہنچتے ہی ملزموں نے ان پر نازیبا تبصرہ کیا۔ انہوں نے ایک خاتون پر سیٹی بجائی اور اس کے ساتھ نا زیبا حرکت کی۔ جب اہل خانہ نے احتجاج کیا تو حملہ آور پُرتشدد ہوگئے اور فیملی کے اراکین کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور گالم گلوچ پر اتر آئے۔ بھاگوت خاندان نے بتایا کہ جیسے ہی بدمعاش مار پیٹ پر اتر آئے،وہ کسی طرح اپنی جان بچانے کے لیے موقع سے بھاگ نکلنے میںکامیاب ہوگئے۔اس فیملی میں۸؍ اراکین تھےجن میں ۴؍ بچے بھی تھے۔
غنڈوں نے کار کا پیچھا کیا
یہ معاملہ ہونے کے بعد جب گھر والے وہاں سے واپس جانےلگے توبدمعاشوںنے موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے سلاخوں اور لاٹھیوں کے ساتھ۱۵؍ کلومیٹر تک گاڑی کا پیچھا کیا۔ گاڑی پرلاٹھی کھینچ کر بھی ماری جس سے گاڑی کے شیشےٹوٹ گئے ۔ ایک متاثرہ خاتون کے شوہر نے بتایا کہ جب وہ ٹول پلازہ پار کر رہے تھے تو ایک کار آئی اور کار سواروں نے ان پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے ٹول پلازہ کی رکاوٹیں تک توڑ ڈالیں اور ایک تنگ سڑک پرگاڑی اتاردی ۔ وہاں بھی ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے مدد مانگی اور پھر کسی طرح ناسک کے ایک پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔
۹؍ ملزم پولیس تحویل میں، تفتیش جاری
ناسک پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ناسک سٹی اور دیہی پولیس کی مشترکہ ٹیم نے ملزموں کی شناخت کر لی ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ دھونڈو پنت سوامی نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے ویڈیو کا جائزہ لیا ہے ا ورتکنیکی جانچ سمیت معاملے کی باریکی سے چھان بین کی ہے جس کی بنیاد پراب تک ۹؍ ملزموں کی شناخت ہو چکی ہے۔ ابتدائی ایف آئی آر میں ۶؍ یا ۷؍ مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا تھالیکن تفتیش کا دائرہ وسیع کر کے ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے ملزموں کو پناہ دی تھی یا کسی نہ کسی طرح ان کے ساتھ تھے۔۹؍ ملزموں کو حراست میں لے کر پولیس نے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
مجھے لگا کہ وہ لوگ ہمیں مار ڈالیں گے
فیملی کی ایک متاثرہ خاتون نےجس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی ، بدمعاشوںکا سامنا کیا اوراس کے شوہر نے بھی غنڈوں کے خلاف مزاحمت کی مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا اس بارے میںخاتون کا کہنا ہےکہ اسے لگا کہ وہ بدمعاش انہیںمار ڈالیں گے ۔متاثرہ خاتون نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی سوچا نہیںتھا کہ بدمعاش اتنے ڈھیٹ ہوں گے کہ ان کا ۲۰؍کلومیٹر تک پیچھا کریں گےاور ان پر دن دہاڑے حملہ کریں گے۔خاتون کے مطابق’’ انہوں نے ہماری گاڑی پر سلاخوں سے حملہ کیا اور ہر طرف سے ہمارا تعاقب کیا۔جو ہمارے ساتھ ہوا ،وہ میں الفاظ میںبیان نہیںکرسکتی۔‘‘خاتون نے مزیدکہا کہ ہم ڈر گئے تھے کہ اگر ہم نے گاڑی روکی تو وہ لوگ ہمیںمار ڈالیں گے ۔فیملی نے خاطیوں کو سخت سزا دینے کی مانگ کی ہےجو دوسروں کیلئے عبرت ہو۔