فلم کے ذریعہ صرف تفریح نہیں سماجی بیداری کا پیغام دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے، شریاس تلپڑے،کاجل کی اداکاری عمدہ ہے۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 10:06 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
فلم کے ذریعہ صرف تفریح نہیں سماجی بیداری کا پیغام دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے، شریاس تلپڑے،کاجل کی اداکاری عمدہ ہے۔
دی انڈیا اسٹوری (The India Story)
اسٹارکاسٹ:شریاس تلپڑے، کاجل اگروال، ہاردکا جوشی، اشونی بھانڈے،آلوک کپور، ہرشیتا ملک، شام مشالکر،
ڈائریکٹر:چیتن ڈی کےl رائٹر:ساگر بی شندے
پروڈیوسر:ساگر بی شندے،سومیت بگاڑے، انیتا جادھو، پریم جوشی، پریم راج جوشی،دیویانی کھوراٹے، ونایک سائیدانی،کلپیش شاہ
موسیقار:منگیش دھاکڑے
سنیماٹو گرافر:نشانت بھاگوتlایڈیٹر:اشیش مہاترے
کاسٹنگ ڈائریکٹر:سنکیت بوڑکے، امریش شرما
ریٹنگ:***
یہ بھی پڑھئے: الفا:عالیہ بھٹ کو ایکشن کوئین کے طور پر پیش کرنے والی فلم
عام طور پر فلموں کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ سنیما کا مقصد صرف تفریح فراہم کرناہے، لیکن کچھ فلمیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، انہیں بیدار کرتی ہیں، آنکھیں کھولتی ہیں اور اندر تک جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ جنوبی ہند کے فلم ساز چیتن ڈی کے کی پہلی ہندی فلم ’دی انڈیا اسٹوری‘بھی محض تفریح کے لیے نہیںبلکہ فصلوں میں کیڑے مار دواؤں کے بڑھتے ہوئے استعمال سےانسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کے بارے میں عوام کو بیدار کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔یہ فلم جمعہ، ۲۴؍جولائی کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز ہوئی ہے۔
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی سابق فوجی افسر میجر یوگیش پاٹل (شریاس تلپڑے) کے گرد گھومتی ہے، جس کی سات سالہ بیٹی پری (ترشا شاردا) اچانک بلڈ کینسر میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ یوگیش اپنی بیٹی کے علاج کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے، مگر وہ اسے بچا نہیں پاتا۔بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ پری کے کینسر کی بنیادی وجہ خوراک میں شامل خطرناک کیڑے مار دوائیں تھیں۔ اس انکشاف کے بعد وہ حکومت، کیڑے مار ادویات بنانے والی کمپنیوں اور زیادہ پیداوار کی خاطر ان زہریلے کیمیکلز کا بے دریغ استعمال کرنے والے کسانوں، سب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔
اس جدوجہد میں یوگیش کا ساتھ ایڈوکیٹ ارچنا (کاجل اگروال)دیتی ہیں، جو اس مقدمے کے ذریعے ملک میں کیڑے مار ادویات کے استعمال سے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آخرکار یوگیش اور ارچنا کی اس قانونی جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے آپ کو تھیٹر میں جاکر فلم دیکھنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کاک ٹیل ۲‘‘ میں کئی مشروبات کی کمی واضح محسوس ہوتی ہے
ہدایت کاری
مصنف ساگر بی شندے کی یہ کہانی ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہے۔ موضوع کے اعتبار سے یہ نہایت مضبوط، بروقت اور اہم فلم ہے۔ فلم اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے پنجاب کی مشہور ’کینسر ٹرین‘سے لے کر کیرالہ کے ان علاقوں تک کا سفر کرتی ہے جہاں کینسر کے مریضوں کی تعداد غیر معمولی ہے۔ فلم دکھاتی ہے کہ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی دوڑ میں پھلوں اور سبزیوں پر کس طرح خطرناک کیمیکل چھڑکے جا رہے ہیں اور ملاوٹ شدہ دودھ کس طرح ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔
تاہم ہدایت کار چیتن ڈی کے اس مضبوط اور حساس موضوع کو ایک مؤثر اور گرفت رکھنے والے سنیمائی تجربے میں تبدیل کرنے میں مکمل طور پرکامیاب نہیں ہو پاتے۔ کورٹ روم ڈرامے اور جذباتی سانحے کے درمیان بکھری ہوئی اسکرین پلے ناظرین کو پوری طرح باندھ کر نہیں رکھ پاتی۔ فلم کا پہلا حصہ کسی دستاویزی فلم کا احساس دلاتا ہے، جبکہ عدالتی کارروائی بھی یک طرفہ محسوس ہوتی ہے۔ ہیروئن کے مقابلے میں سینئر وکیل موجود ہونے کے باوجود مؤثر دلائل، بحث و مباحثہ اور قانونی چالوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
ہدایت کار نے میڈیا، کسانوں کے احتجاج، کیڑے مار دوائیں بنانے والی کمپنیوں اور حکومت کے ردعمل کو بھی سطحی انداز میں پیش کیا ہے۔ البتہ یوگیش، پری اور ارچنا کی ذاتی زندگی کے جذباتی پہلو ناظرین کو متاثر ضرور کرتے ہیں۔ خاص طور پر چائلڈ آرٹسٹ ترشا شاردا اپنی معصوم اداکاری سے کاجل اگروال اور شریاس تلپڑے جیسے تجربہ کار فنکاروں پر بھی سبقت لے جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میں واپس آئوں گا: ادھوری محبت، ہجرت کا درد اور یادوں کا سفر
اداکاری
کاجل اگروال اور شریاس تلپڑے اپنی اداکاری سے وہ گہرا اثر چھوڑنےمیں کامیاب نہیں ہوتے جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے، تاہم مختصر کردار میں مرلی شرما نے اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا ہے۔مجموعی طور پر’دی انڈیا اسٹوری‘تفریح کے معیار پر ایک اوسط فلم ہے، لیکن انسانی صحت سے جڑے ایک نہایت اہم مسئلے کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانے میں ضرور کامیاب رہتی ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ کیڑے مار دواؤں کے بے تحاشا استعمال اور اس کے انسانی صحت پر پڑنے والے سنگین اثرات اور سماج میں پھیلی بد عنوانیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو’دی انڈیا اسٹوری‘ ضرور دیکھی جا سکتی ہے۔