خوبصورت یادگاروں سے لے کر مزیدار بریانی اور روایتی کھانوں کی لذتوں تک، حیدرآباد سیاحوں کیلئے بہت کچھ پیش کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 12:17 PM IST | Inquilab Desk | Hyderabad
خوبصورت یادگاروں سے لے کر مزیدار بریانی اور روایتی کھانوں کی لذتوں تک، حیدرآباد سیاحوں کیلئے بہت کچھ پیش کرتا ہے۔
حیدرآباد میں سیاحتی مقامات کی کوئی کمی نہیں ہے ۔خوبصورت یادگاروں سے لے کر مزیدار بریانی اور روایتی کھانوں کی لذتوں تک، حیدرآباد سیاحوں کیلئے بہت کچھ پیش کرتا ہے ۔ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے سیاح شہر بھر میں بکھرے مقبروں، محلات، قلعوں اور مساجد کے شاندار فن تعمیر کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ ان کالموں میںشہر کے کچھ مشہور مقامات کا تعارف پیش کیاجارہا ہے:
گولکنڈہ قلعہ
خوبصورت شہر حیدرآباد کے مغربی حصے میں حسین ساگر جھیل سے تقریباً ۹؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گولکنڈہ قلعہ خطے کی بہترین محفوظ یادگاروں میں سے ایک ہے ۔ قلعہ کی تعمیر ۱۶۰۰ءکی دہائی میں مکمل ہوئی۔ تقریباً۴۰۰؍ فٹ اونچا یہ ڈھانچہ مسافروں، مؤرخوں اور عام لوگوں کیلئے ایک خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ قلعہ گولکنڈہ کا فن تعمیر، کہانیاں، تاریخ اور اسرار اس کی رغبت میں اضافہ کرتے ہیں اور اسے حیدرآباد کے انتہائی پُرکشش مقامات میں سے ایک بناتے ہیں۔
راموجی فلم سٹی
اگر آپ فلم کے شوقین ہیں تو آپ کو حیدرآباد میں راموجی فلم سٹی ضرور جانا چاہئے۔ راموجی گروپ کے سربراہ راموجی راؤ کے ذریعے۱۹۹۱ء میں قائم کیا گیا راموجی فلم سٹی حیدرآباد سے باہر ایک شاندار سیاحتی مقام ہے۔۲۵۰۰؍ایکڑ پر پھیلے ہوئے اس اسٹوڈیو کو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کے سب سے بڑے فلم اسٹوڈیو کمپلیکس کے طور پر سند دی ہے۔یہاں تفریح کیلئے بہت سی سرگرمیاں موجود ہیں۔
چار مینار
چارمینار حیدرآباد کے مرکز میں واقع سب سے نمایاں مقام ہے۔ یہ یادگار قلی قطب شاہ نے حیدرآباد کے قیام کے موقع پر تعمیر کی تھی۔ ۱۵۹۱ءمیں اس کی تعمیر کے بعد سے چارمینار اور حیدرآبادثقافتی حیثیت میں ایک دوسرےکیلئے لازم وملزوم بن گئے ۔ چار مینار کے اطراف مشہور لاد بازار ہے۔
حسین ساگر جھیل
ایشیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل کے طور پر مشہور حسین ساگر جھیل شہر کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ۔ اس جھیل کو ابراہیم قلی قطب شاہ نے۱۵۶۳ءتعمیر کیا تھا اور جھیل کے بیچ میں نصب بدھ کا یک سنگی مجسمہ اس کی دلکشی کو مزید بڑھاتا ہے۔اپنی منفرد دل کی شکل کی وجہ سے حسین ساگر جھیل کو اقوام متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے(یو این ڈبلیو ٹی او)’دنیا کا دل‘ قرار دیا ہے۔ لادبازار کی چوڑیاں بہت مشہور ہیں۔
چومحلہ محل
حیدرآباد میں تاریخی لحاظ سے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک چومحلہ پیلس ہے۔ یہ نظاموں کی سرکاری رہائش گاہ ہوا کرتی تھی اور اب ایک اہم یادگار ہے۔ شاندار یادگار میں دو کشادہ صحن اور ایک عظیم الشان ڈائننگ ہال ہے جسے ’خلاوت ‘کہا جاتا ہے۔کمپلیکس خوبصورت فوارے، وسیع باغ، کئی محلات،گھنٹہ گھر اور کونسل ہال سے مزین ہے۔ محل جمعہ کو بند ہوتا ہے۔
سالار جنگ میوزیم
شہر کا مشہور سالار جنگ میوزیم اپنی نایاب تاریخی وراثت اور منفرد نوادرات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اسی ذخیرے میں ایک خاص کشش مغلیہ دور سے وابستہ ملکہ نورجہاں کا چاقو ہے جسے جیڈ پتھر سے تیار کیا گیا ہے۔ سالار جنگ میوزیم ہندوستان کے تین قومی عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔اس کے علاوہ شہرپکوانوں میںبریانی اور حلیم کیلئے مشہور ہے۔یہاں ریستوانوں اور ہوٹلوں کی کمی نہیں ہے۔
چڑیا گھر (نہروزولیوجیکل پارک )
حیدر آباد چڑیا گھر میں ۱۵۰۰؍سے زیادہ پرجنگلی حیات کی انواع اورقسمیں موجود ہیں۔ نہرو زولوجیکل پارک میر عالم تالاب کے قریب واقع ہے۔ اس پارک میں ہندوستانی گینڈے، ایشیائی شیر، بنگال ٹائیگر، ہندوستانی ہاتھی کے ساتھ ساتھ چیتے، اژدھا اور ہرن موجود ہیں۔بچوں کیلئے بہت ساری تفریحی سرگرمیاں دستیاب ہیں، جن میں ڈائنوسار پارک کا دورہ، منی ٹرین اور ہاتھی کی سواری شامل ہے۔
کیسے پہنچیں
بذریعہ ہوائی جہاز : راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ مصروف ایئرپورٹ ہےجو ملک کے وسیع فضائی نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے۔
بذریعہ ٹرین :ہر بڑے شہر سے حیدر آباد کیلئے ٹرینیں دستیاب ہیں۔
بذریعہ سڑک :یہ شہر این ایچ ۹؍ اور این ایچ ۵؍ کے ذریعے چنئی ،این ایچ ۷؍ کے ذریعے بنگلور اوراین ایچ۹؍ کے ذریعے ممبئی پونے ایکسپریس وے سےجڑا ہوا ہے۔ متعدد شہروں سے ٹورسٹ بسیں حیدر آبادکیلئے چلتی ہیں۔