Inquilab Logo Happiest Places to Work

گارو ہلز میں آبشار، غار، جنگلات اور قبائلی ثقافت ایک ساتھ نظر آتے ہیں

Updated: July 29, 2026, 10:20 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

میگھالیہ کا سب سے کم دریافت شدہ اور نسبتاً پرسکون خطہ گارو قبیلے کا آبائی وطن ہے،یہاں قدرتی مناظر ہی نہیں روایتی طرز زندگی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

The first picture shows the Sejo Cave in the Garo Hills, while the second picture shows the Rongbang Dere Waterfall. Photo: INN
پہلی تصویر میںگارو ہلز میں واقع سیجو غار جبکہ دوسری تصویر میں رونگ بانگ ڈیرے آبشار دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست میگھالیہ اپنی قدرتی خوبصورتی، بادلوں سے ڈھکی پہاڑیوں اور گھنے جنگلات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن اگر اس ریاست کے سب سے کم دریافت شدہ اور نسبتاً پرسکون خطے کی بات کی جائے تو گارو ہلز کا نام سرفہرست آتا ہے۔میگھالیہ کے مغربی حصے میں واقع یہ علاقہ گارو قبیلے کاآبائی وطن ہے اور اپنے شاندار قدرتی مناظر، نایاب جنگلی حیات، پراسرار غاروں، دلکش آبشاروں اور قدیم ثقافتی روایات کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ایک منفرد منزل بن چکا ہے۔یہاں کی سیاحت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ مقامی گارو تہذیب، روایتی طرزِ زندگی اور مقامی کھانوں سے بھی روشناس کراتی ہے۔ 

تورا شہر

گارو ہلز کا سب سے بڑا شہر تورا (Tura) اس خطے کا انتظامی، ثقافتی اور سیاحتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ۳۵۰؍میٹر کی بلندی پر واقع یہ شہر سرسبز پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اور بیشتر سیاح اپنی سیر کا آغاز یہیں سے کرتے ہیں۔ تورا میں جدید سہولیات، ہوٹل، مقامی بازار اور ریستوران موجود ہیں، جبکہ یہاں سے گارو ہلز کے بیشتر سیاحتی مقامات تک آسانی سے پہنچاجا سکتا ہے۔ شہر کی پرسکون فضا اور ٹھنڈا موسم ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کوکراجھارمیں جنگلات اور ثقافت مل کرسیاحتی تجربہ کو یادگار بناتے ہیں

تورا پیک

تورا شہر کے قریب واقع تورا پیک گارو ہلز کی سب سے مشہور چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ تقریباً۹۰۰؍میٹر بلند یہ مقام اپنے دلکش نظاروں اور ٹریکنگ کیلئےجانا جاتا ہے۔ چوٹی تک جانے والا راستہ گھنے جنگلات سے گزرتا ہے جہاں ہارن بل، گبن بندر اور کئی نایاب پرندے دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوٹی پر پہنچ کر پورے گارو ہلز، دور دراز وادیوں اور میدانی علاقوں تک کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے مناظر یہاں کی سب سے بڑی کشش ہیں۔ 

نوکریک نیشنل پارک 

گارو ہلز کی سب سے قیمتی قدرتی دولت نوکریک نیشنل پارک ہے، جو یونیسکو کے تسلیم شدہ نوکریک بایوسفیئر ریزرو کا حصہ ہے۔ یہ پارک نایاب نباتات، جنگلی حیات اور جنگلاتی حیاتیاتی تنوع کیلئے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں ایشیائی ہاتھی، ہولاک گبن، کلاؤڈڈ لیپرڈ، سن بیئر، مختلف اقسام کے ہرن اور سیکڑوں پرندے پائے جاتے ہیں۔  یہ علاقہ جنگلی سنگترے کی اصل جائے پیدائش بھی مانا جاتا ہے، جسے زرعی سائنس دان انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ فطرت سے محبت کرنے والوں اور جنگلی حیات کے فوٹوگرافروں کے لیے یہ مقام کسی جنت سے کم نہیں۔ 

بالپکرم نیشنل پارک

گارو ہلز کا دوسرا اہم قدرتی خزانہ بالپکرم نیشنل پارک ہے، جسے اکثر ’میگھالیہ کا گرینڈ کینین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پارک اپنی گہری وادیوں، بلند چٹانوں، وسیع مرغزاروں اور گھنے جنگلات کے لیے مشہورہے۔ گارو قبائل اس علاقے کو مقدس سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ مرنے والوں کی روحیں یہاں سے گزر کر آخری سفر طے کرتی ہیں۔ اس پارک میں جنگلی بھینسے، ریچھ، ہاتھی، ہرن، چیتے اور نایاب پرندے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں کی قدرتی خاموشی اور وسیع مناظر ہر سیاح کو مسحور کر دیتے ہیں۔ 

سیجو غار

سیجو غارہندوستان کی طویل ترین قدرتی چونے کے پتھروں سے بنے غاروں میں شمار ہوتے ہیں۔اس غار کے اندر چٹانوں کی قدرتی ساخت، اسٹیلیکٹائٹس اور اسٹیلگمائٹس ہزاروں برسوں کے قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ غار کے اندر کئی حصے ایسے ہیںجہاں صرف ٹارچ کی روشنی میں ہی سفر ممکن ہوتا ہے۔ دنیا بھر کےغاروں کے ماہرین اور مہم جو اس مقام کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ غار کے قریب بہنے والا سمسانگ دریا اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چائباسا میں جنگلات، آبشار اور قبائلی ثقافت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں

واری چورا

گزشتہ چند برسوں میں واری چورا گارو ہلز کا سب سے تیزی سے مقبول ہونے والا سیاحتی مقام بن کر ابھرا ہے۔ بلند پتھریلی گھاٹیوں کے درمیان بہتا شفاف سبز پانی، کشتی رانی، بانس کی بیڑیاں اور خاموش قدرتی ماحول اس مقام کو کسی خواب جیسا بنا دیتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح کشتی کے ذریعے تنگ گھاٹیوں میں سفر کرتے ہیں اور اردگرد کی بلند چٹانوں اور چھوٹے آبشاروں کا نظارہ کرتے ہیں۔ 

رونگ بانگ ڈیرے آبشار

رونگ بانگ ڈیرے آبشارسمسانگ دریا پر واقع گارو ہلز کے خوبصورت ترین آبشاروں میں شمار ہوتے ہیں۔بانس کے جنگلات کے درمیان گرتا ہوا پانی، پرندوں کی چہچہاہٹ اور سرسبز ماحول اس مقام کو انتہائی دلکش بنا دیتے ہیں۔ خوش قسمتی ہو تو یہاں مشہور گریٹ انڈین ہارن بل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے: یہ محض رہنمائی کا کالم ہے، مقام تک آمدورفت اور اخراجات کی حتمی تفصیل خود حاصل کرکے اطمینان کرلیں۔ اس کیلئے اخبار ذمہ دار نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK