کشمیر ملک کا دلکش ترین علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے، گلمرگ اس کی خوبصورتی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، پوری دنیا سے سیاح یہاں آتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 9:40 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
کشمیر ملک کا دلکش ترین علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے، گلمرگ اس کی خوبصورتی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، پوری دنیا سے سیاح یہاں آتے ہیں۔
کشمیر کو اگر’زمین پر جنت‘کہا جاتا ہے تو گلمرگ اس جنت کا سب سے حسین اور دلکش گوشہ ہے۔ برف سے ڈھکی بلند چوٹیاں، سرسبز چراگاہیں، دیودار اور چیڑ کے گھنے جنگلات، رنگ برنگے جنگلی پھول اور شفاف فضا گلمرگ کو دنیا کے خوبصورت ترین ہل اسٹیشنوں میں شامل کرتے ہیں۔ سطح سمندر سے تقریباً۲؍ہزار ۶۵۰؍میٹر کی بلندی پر واقع گلمرگ، سری نگرسےتقریباً ۵۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع بارہمولہ میں واقع ہے۔ گرمیوں میں یہاں کے سبزہ زار اور پھولوں سے بھرے میدان سیاحوں کو مسحور کرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف کی سفید چادر اسے اسکیئنگ اور اسنو اسپورٹس کا عالمی مرکز بنا دیتی ہے۔لفظ ’گلمرگ‘ فارسی زبان کے دو الفاظ ’گل‘ اور ’مرغ‘ سے مل کر بنا ہے، جس کا مطلب ہے ’پھولوں کا میدان‘۔ مغل بادشاہوں سے لے کر برطانوی دور تک یہ مقام اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے حکمرانوں اور سیاحوں کی پسندیدہ تفریح گاہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گارو ہلز میں آبشار، غار، جنگلات اور قبائلی ثقافت ایک ساتھ نظر آتے ہیں
گلمرگ گونڈولا
گلمرگ کی سب سےبڑی پہچان یہاں کی مشہور گونڈولا کیبل کار ہے، جسے دنیا کی بلند ترین اور طویل ترین کیبل کار سروسز میں شمار کیاجاتا ہے۔ یہ دو مراحل میں چلتی ہے۔ پہلے مرحلے میں سیاح گلمرگ سے کانگڈوری تک پہنچتے ہیں، جہاں سرسبز ڈھلوانیں اور برفیلے مناظر دل موہ لیتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں کیبل کار تقریباً ۳؍ہزار ۹۸۰؍میٹرکی بلندی پر واقع افروات چوٹی تک پہنچتی ہے۔ یہاں سال کے بیشتر حصے میں برف موجود رہتی ہے اور گرمیوں میں بھی ٹھنڈی ہوائیں موسم کو خوشگوار بنائے رکھتی ہیں۔ افروات سے نظر آنے والے برف پوش پہاڑ اور وادیاں ہر سیاح کے لیے ناقابل فراموش تجربہ ثابت ہوتے ہیں۔
افروات چوٹی
افروات گلمرگ کا سب سے مشہور سیاحتی مقام ہے۔ یہاں برف سے ڈھکی چوٹیاں، قدرتی حسن اور خاموش ماحول ہر آنے والے کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ سردیوں میں دنیا بھر سے اسکیئنگ کے شوقین افراد یہاں پہنچتے ہیں۔ برف سے ڈھکی ڈھلوانیں عالمی معیار کی اسکیئنگ کیلئےموزوں سمجھی جاتی ہیں، جبکہ گرمیوں میں یہی مقام ٹریکنگ اور فوٹوگرافی کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
کانگڈوری
گونڈولا کا پہلا اسٹیشن کانگڈوری اپنے وسیع سبز میدانوںاور خوبصورت نظاروں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں سے برف پوش پہاڑوں کا دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔ موسم گرما میں سیاح گھوڑوں کی سواری، مختصر ٹریکنگ اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ سردیوں میں یہ علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے۔
الپاتھر جھیل
افروات چوٹی کے قریب تقریباً۴؍ہزار ۲۰۰؍میٹرکی بلندی پر واقع الپاتھر جھیل گلمرگ کے حسین ترین قدرتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ سال کے بیشتر حصے میں یہ جھیل برف سے جمی رہتی ہے۔ گرمیوں میں جب برف پگھلتی ہے تو نیلے پانی اور اردگرد موجود برفانی چوٹیوں کا منظر بے حد دلکش دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ٹریکنگ بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کوکراجھارمیں جنگلات اور ثقافت مل کرسیاحتی تجربہ کو یادگار بناتے ہیں
کھلان مرگ
گلمرگ سے چند کلومیٹر دور واقع کھلان مرگ ایک خاموش اور سرسبز چراگاہ ہے۔یہاں سے ننگا پربت اور کشمیر کی دیگر بلند چوٹیوں کے نظارے صاف دکھائی دیتےہیں۔ گرمیوں میں یہ علاقہ رنگ برنگے جنگلی پھولوں سے بھر جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں برف کی دبیز تہہ اسے سفید وادی میں تبدیل کر دیتی ہے۔
گولف کورس
گلمرگ کا گولف کورس دنیا کے بلند ترین گولف کورسز میں شمار کیا جاتاہے۔ تقریباً ۱۸؍ہولز پر مشتمل یہ میدان سرسبز چراگاہوں کے درمیان واقع ہے۔ گرمیوں میں یہاں ملکی اور بین الاقوامی گولف مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ عام سیاح بھی یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مہینوں کے لحاظ سے خوبصورتی
گرمیوں، یعنی مئی سے ستمبر تک، گلمرگ سبزہ زاروں، پھولوں اورخوشگوار موسم کی وجہ سے بہترین سیاحتی مقام بن جاتا ہے۔ اس دوران ٹریکنگ، گھوڑوں کی سواری، گولف، کیبل کار کی سیر اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں۔دسمبر سے مارچ تک گلمرگ مکمل طور پر برف سے ڈھک جاتا ہے۔ اسی موسم میں اسکیئنگ، اسنو بورڈنگ، اسنو موبائل رائیڈ اور دیگر برفانی کھیلوں کا آغاز ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اسے ہندوستان کا ’ونٹر اسپورٹس کیپیٹل‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یاد رہے: یہ محض رہنمائی کا کالم ہے، مقام تک آمدورفت اور اخراجات کی حتمی تفصیل خود حاصل کرکے اطمینان کرلیں۔ اس کیلئے اخبار ذمہ دار نہیں۔