فلم ’اشوکا‘ سےمشہور آبشار سرسبز پہاڑیوں اور گھنے جنگلات کے درمیان واقع ہے، مانسون کے دنوں میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:10 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
فلم ’اشوکا‘ سےمشہور آبشار سرسبز پہاڑیوں اور گھنے جنگلات کے درمیان واقع ہے، مانسون کے دنوں میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
مہاراشٹر کے ویہی گاؤں میں واقع ایک خوب صورت موسمی آبشارہے، جسے عام طور پر ویہی گاؤں آبشار یا اشوکا آبشار بھی کہا جاتا ہے۔یہ آبشار سہیا دری کی سرسبز پہاڑیوں اور گھنے جنگلات کے درمیان واقع ہے اور خاص طور پر مانسون کے دنوں میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتاہے۔ مہاراشٹر ٹورزم بھی ویہی گاؤں آبشار کو اِگت پوری کے اہم مانسون مقامات میں شمار کرتا ہے اور یہاں آبشار رَیپلنگ اور جنگلاتی راستوں پر ٹریکنگ کو خاص کشش قرار دیتا ہے۔
آبشار کی خصوصیات
تقریباً ۱۲۰؍فٹ بلند یہ آبشار چٹانی سطح سے نیچے گرتے ہوئے ایک قدرتی تالاب کی شکل اختیار کرتاہے۔ بارش کے موسم میں جب سہیا دری کی پہاڑیوں پر بادل برسنے لگتے ہیں تو آبشار کا بہاؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سفید جھاگ بناتا ہوا پانی، سیاہ چٹانیں، چاروں طرف پھیلی ہریالی اور فضا میں تیرتی ہوئی دھند اسے خاصا دلکش منظر بنا دیتی ہے۔ آبشار تک پہنچنے کیلئےآخری حصہ جنگلات اور چٹانی راستے سے گزرکرطے کرنا پڑتا ہے۔ یہی مختصر پیدل سفر اس مقام کی خوب صورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ راستے میں گھنے درختوں، چھوٹی پہاڑی ندیوں اور برسات کے موسم میں پیدا ہونے والی ہریالی کا لطف لیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دوگرواڑی آبشار: سہیادری کی خاموش وادی میں گرتا ہوا دلکش آبشار
’اشوکا‘ سے نام جڑا
ویہی گاؤں آبشار کو اشوکا آبشار کہنے کی ایک بڑی وجہ شاہ رخ خان اور کرینہ کپور کی ۲۰۰۱ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’اشوکا‘ ہے۔ فلم کے بعض مناظر اور گیتوں کی عکس بندی اس علاقے میں کی گئی تھی۔ اسی کے بعد یہ جگہ فلم شائقین کے درمیان بھی زیادہ معروف ہوئی۔ یوں یہ مقام صرف قدرتی حسن رکھنے والی جگہ نہیں رہا بلکہ بالی ووڈ کی یادوں سے بھی جڑ گیا۔
واٹرفال رَیپلنگ کا شوق
ویہی گاؤں ان لوگوں کے لیے بھی خاص کشش رکھتا ہے جو عام پکنک کے بجائے کچھ مہم جوئی چاہتے ہیں۔ یہاں مانسون کے دوران واٹر فال رَیپلنگ مقبول سرگرمی ہے۔ تقریباً ۱۲۰؍فٹ بلند چٹانی سطح پر رسّی کے ذریعے نیچے اترنے کا تجربہ خاصا سنسنی خیز ہوتا ہے۔
تاہم اس سرگرمی میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ بارش میں چٹانیں پھسلن بھری ہوجاتی ہیں اور آبشار کا بہاؤ بھی تیز ہوتا ہے۔ اس لیے رَیپلنگ صرف مناسب حفاظتی سازوسامان اور تربیت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں ہی کی جانی چاہیے۔ عام سیاحوں کو آبشار کے تیز بہاؤ یا گہرے پانی میں اترنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈمان نکوبار کاہیولاک جزیرہ ساحل سمندر، جنگل اور سکون سےبھرپور دنیا
آس پاس کی سیر
ویہی گاؤں کا سفر صرف آبشار تک محدود رکھنے کے بجائے اِگت پوری اور کسارا کے دوسرے مقامات کے ساتھ بھی جوڑا جاسکتا ہے۔ اِگت پوری کے آس پاس ٹرنگل واڑی قلعہ، کیمل ویلی اور سہیادری کے متعدد قدرتی مقامات موجود ہیں۔ قریب ہی مہاراشٹر کی بلندترین چوٹی کلسوبائی بھی واقع ہے، جو کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے شوقین افراد میں خاصی مقبول ہے۔
ویہی گاؤں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے ویہی گاؤں جانے کا آسان طریقہ ٹرین اور پھر سڑک کاسفر ہے۔ ممبئی سے سینٹرل ریلوے کی ٹرین لے کر کسارا پہنچا جاسکتا ہے۔کسارا ریلوے اسٹیشن سے ویہی گاؤں تقریباً ۱۲؍سے ۱۸؍ کلومیٹرکے فاصلے پر بتایا جاتا ہے، البتہ مختلف راستوں کے باعث فاصلے کے اعداد میں فرق ملتا ہے۔ وہاں سے آٹو رکشا، ٹیکسی یا مقامی گاڑی کے ذریعے ویہی گاؤں پہنچا جاسکتا ہے۔
سڑک کے راستے ممبئی سے آنے والے مسافر ممبئی-ناسک روٹ پر کسارا اور اِگت پوری کی سمت سفر کرسکتے ہیں۔سڑک کے ذریعہ ممبئی سےفاصلہ تقریباً۱۱۰؍تا ۱۲۵؍کلومیٹرہے، اس لیے روانگی کے مقام اور منتخب راستے کے مطابق سفر کا فاصلہ بدل سکتا ہے۔ اِگت پوری سے بھی ویہی گاؤں آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے۔ مختلف سیاحتی ذرائع اس کا فاصلہ تقریباً۱۲؍ تا ۱۵؍کلومیٹر بتاتے ہیں۔