سطح سمندر سے۱۰؍ہزار فٹ کی بلندی پر واقع برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں، بادلوں میں لپٹی وادیوں، نیلگوں جھیلوں اور بلند آبشاروں کا مرکز۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 1:04 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
سطح سمندر سے۱۰؍ہزار فٹ کی بلندی پر واقع برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں، بادلوں میں لپٹی وادیوں، نیلگوں جھیلوں اور بلند آبشاروں کا مرکز۔
ہندوستان کے شمال مشرقی خطے میں واقع اروناچل پردیش اپنی قدرتی خوبصورتی، گھنے جنگلات، بلند پہاڑوں، آبشاروں اور منفرد قبائلی تہذیب کی وجہ سے ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اسی ریاست کا ایک نہایت دلکش اور تاریخی شہر تواَنگ ہے، جو سطح سمندر سے تقریباً ۱۰؍ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں،بادلوں میں لپٹی وادیاں، نیلگوں جھیلیں، بلند آبشاراور بدھ مت کی قدیم خانقاہیں تواَنگ کو ہندوستان کے خوب صورت ترین پہاڑی مقامات میں شامل کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہوناور: کرناٹک میں سمندر، دریا، جنگل اور آبشاروں کے سنگم کا دلکش سفر
سیلا پاس
تواَنگ جانے والے مسافروں کیلئے سیلا پاس کا سفر اپنے آپ میں ایک ناقابل فراموش تجربہ ہوتا ہے۔ یہ بلند پہاڑی درہ اروناچل پردیش کے اہم ترین راستوںمیں شمار کیا جاتا ہے۔ برف سے ڈھکی پہاڑیوں اور گہرے بادلوں کے درمیان سے گزرتی سڑک کسی فلمی منظر کا احساس دلاتی ہے۔سردیوں کے موسم میں سیلا پاس کا منظر خاص طور پر دلکش ہو جاتا ہے، جب پورا علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ یہاں درجہ حرارت اکثر نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، اس لئے سفر کے دوران مناسب گرم لباس ضروری ہوتا ہے۔سیلا پاس کے قریب واقع جھیل بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ خاموش پانی اور اس کے اطراف بلند پہاڑوں کا منظر فوٹوگرافی کے شوقین افراد کیلئے کسی خزانے سے کم نہیں۔ بادلوں کے بدلتے رنگ اور برف پوش پہاڑ اس مقام کی خوب صورتی میں مسلسل تبدیلی پیدا کرتے رہتے ہیں۔
مادھوری جھیل
تواَنگ کے نزدیک واقع مادھوری جھیل علاقے کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے۔ اس جھیل کا اصل نام سنگیتسر جھیل ہے،فلم ’کوئلہ‘کی شوٹنگ کے بعد یہ عام طور پر مادھوری جھیل کے نام سے مشہور ہو گئی۔اس جھیل کی سب سے منفرد خصوصیت اس کےپانی میں کھڑے خشک درختوں کے تنے ہیں۔ جھیل کے اندر سے ابھرتے درختوں کے یہ ڈھانچے ایک عجیب مگر دلکش منظر پیدا کرتےہیں۔ اردگرد برف پوش پہاڑ، خاموش پانی اور تیز ٹھنڈی ہوائیں اس مقام کو عام جھیلوں سے بالکل مختلف بناتی ہیں۔مادھوری جھیل تک پہنچنے کا سفر بھی خاصا دلکش ہے۔ راستے میں چھوٹے چھوٹے پہاڑی گاؤں، فوجی چوکیوں اور قدرتی مناظر سے گزرتے ہوئے مسافر کو مشرقی ہمالیہ کی اصل خوب صورتی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:موٹو جی میکس: عمدہ کیمرہ اور بہتر بیٹری کا حامل موٹرولا کا ایک اور فون
نورانانگ آبشار
تواَنگ کے علاقے میں واقع نورانانگ آبشار قدرت کا ایک شاندار تحفہ ہے۔بلند پہاڑ سے گرتا ہوا پانی جب چٹانوں سے ٹکراتا ہےتو سفید دھوئیں جیسا منظر پیدا ہوتا ہے۔ گھنے سبز جنگلات اور پہاڑی وادیوں کے درمیان واقع یہ آبشار سیاحوں کیلئے خاص کشش رکھتاہے۔یہ آبشار خاص طور پر مانسون اور اس کے بعد کے مہینوں میں اپنے پورے شباب پر ہوتاہے۔ پانی کی تیز آواز، اطراف میں پھیلی ہریالی اور ٹھنڈی ہوا یہاں آنے والے مسافروں کو قدرت کے قریب لے جاتی ہے۔نورانانگ آبشار کے ساتھ ایک تاریخی پہلو بھی جڑا ہوا ہے اور یہ علاقہ ہندوستانی فوج کی بہادری کی داستانوں سے بھی وابستہ ہے۔قدرتی حسن اور تاریخ کا یہ امتزاج اس مقام کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
توانگ وار میوزیم
تواَنگ کی سیاحت صرف قدرتی مناظر تک محدود نہیں۔ یہاں واقع تواَنگ وار میموریل ہندوستانی فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔یہ یادگار۱۹۶۲ءکی ہندوستان-چین جنگ میں جان قربان کرنے والے فوجیوںکے احترام میں قائم کی گئی ہے۔ میموریل کی تعمیر اور اس کاماحول نہایت متاثر کن ہے۔ یہاں آنے والے سیاح ان فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے انتہائی دشوار پہاڑی حالات میں ملک کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شام کے وقت یہاں ہونے والی تقریبات اور یادگار کا روشن منظر ماحول میں ایک خاص وقار پیدا کرتا ہے۔
بوم لا پاس
مہم جوئی کے شوقین سیاحوں کیلئے بوم لا پاس تواَنگ کے سب سےدلچسپ مقامات میں شامل ہے۔ یہ ہندوستان اور چین کی سرحد کے نزدیک واقع ایک بلند پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں تک جانے کا سفر انتہائی دلکش لیکن دشوار گزار ہے۔راستے میں برف پوش پہاڑ، خاموش وادیاں اور متعدد چھوٹی جھیلیں دکھائی دیتی ہیں۔ چونکہ یہ سرحدی علاقہ ہے، اس لئے یہاں جانے کیلئے متعلقہ اجازت نامے کی ضرورت ہو سکتی ہے اور موسم کی صورتحال بھی سفر پر اثرانداز ہوتی ہے۔