اس علاقے کو فرانسیسی حکومت نے بیضوی شکل میں تعمیر کیا تھا،یہاں کے ساحل،روایتی ہوٹل، بازار اور دیگر مقامات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
وہائٹ ٹائون میں واقع پرومنیڈ بیچ یا راک بیچ-تصویر:آئی این این
وہائٹ ٹاؤن پڈو چیری کا سب سے مشہور محلہ ہے جسے اکثر ’ہندوستان کاچھوٹا فرانس‘ یا’فرانس کی کھڑکی‘کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کو فرانسیسی حکومت نےبیضوی (اوول) شکل میں تعمیر کیا تھا اور اسےیورپی حصے "Ville Blanche" (وہائٹ ٹاؤن) اور تمل حصے "Ville Noire" (بلیک ٹاؤن) میں تقسیم کیا تھا۔
یہ پُرسکون علاقہ کبھی فرانسیسی نوآباد کاروں کی رہائش گاہ تھا جنہوں نے ۱۹۵۴ءمیںپڈو چیری کوہندوستانی حکومت کو باقاعدہ طور پر منتقل کیا۔ آج ان خوبصورت گھروں کو بوتیک ہوٹلوں اور کیفے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
راک بیچ
یہ وہائٹ ٹاؤن کا’سن سیٹ بولیوارڈ‘ہے۔دن میں ٹریفک کی اجازت ہوتی ہے لیکن شام کے بعد گاڑیاں بند کر دی جاتی ہیں تاکہ سیاح اطمینان سے سیر کر سکیں۔ یہ سمندر کے ساتھ ساتھ پورے وہائٹ ٹاؤن کے کنارے پر واقع ہے اور اکثر اہم سیاحتی مقامات یہیں موجود ہیں۔صبح سویرے سورج طلوع ہوتے دیکھنا اور رات کو ٹھنڈی سمندری ہوا میں ٹہلنا،یہ دونوں تجربات سیاحوں میں یکساں مقبول ہیں۔
مہاتما گاندھی کا مجسمہ
یہ گاندھی جی کا چار میٹر اونچا سیاہ پتھر کا مجسمہ ہے جسے مقامی طور پر’گاندھی منڈپم‘ کہا جاتا ہے۔ مجسمے کے گرد۶؍ستون ہیں جو بعد میں نصب کیے گئے، یہ ستون اصل میں ڈیوپلیکس کے مجسمے کے گرد نصب تھے۔یہ شام کی روشنی میں خاص طور پر خوبصورت لگتا ہے۔
اولڈ لائٹ ہائوس
یہ روشنی گھر یعنی لائٹ ہائوس ۱۸۳۶ءیں فرانسیسیوں نے تعمیر کیا تھا۔کورومنڈل ساحل پر اپنی نوعیت کا پہلا لائٹ ہائوس تھا۔ یہ ۱۹۷۹ءتک تیل سے جلنے والے چراغوں اور عکاسوں کے ذریعے بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کی رہنمائی کرتا تھا۔ اب یہ غیر فعال ہے اور آثار قدیمہ کا ورثہ قرار دیا جاچکا ہے۔
فرانسیسی جنگی یادگار
یہ یادگار پہلی جنگ عظیم کے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ۱۹۳۸ءمیں اس وقت کے فرانسیسی گورنر ہوریس ویلنٹین نے اسے تعمیرکیا تھا۔ اس میں ڈیوپلیکس کی۱۷۴۲ءمیں پڈو چیری آمد کی یاد میں ایک کانسے کا نقش بھی موجود ہے۔اسے ۲۴؍ جولائی (باسٹیل ڈے) کو خاص طور پر روشن کیا جاتا ہے۔
بھارتی پارک
بھارتی پارک وہائٹ ٹاؤن کے عین درمیان میں ایک خوبصورت سرسبزباغ ہے۔ گاندھی جی کے مجسمے کے بالکل سامنےواقع یہ پارک سیاحوں کے لیے آرام اور سکون کی جگہ ہے۔ درمیان میں موجود ’آئی منڈپم‘ اس پارک کا خاص حصہ ہے۔
پُڈوچیری میوزیم
پُڈوچیری میوزیم تاریخ کے شائقین کے لیے ایک لازمی مقام ہےجہاں ایک گھنٹہ گزارنا بھی بہت مفید ثابت ہوتاہے۔ یہاں چولا اورپالاوا دور کے پتھر اور کانسے کے مجسمے، فرانسیسی دور کے ہتھیار، فرنیچر اور پالکیاں رکھی ہیں۔
فرینچ کالونی کی گلیاں
وہائٹ ٹاؤن کی رنگین دیواریں، محراب دار دروازے اور گلابی بوگن ویلیاسےلپٹے مکانات انسٹاگرام کے لیے بہترین ہیں۔ یہاں کی عمارتیں اپنے اندرونی صحنوں، اونچی چھتوں اور بلند محراب دار دروازوں اور کھڑکیوں کی وجہ سے فرانسیسی فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں۔ L`Orient اور Le Dupleix جیسے ہوٹل اس طرز کی بہترین مثالیں ہیں۔
کیفے اور خریداری
کیفے ڈیس آرٹس وہائٹ ٹاؤن کا ایک مشہور ریستوران ہے جس کی بیرونی دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز بنی ہوئی ہیں۔ یہاں فرانسیسی کھانے ’کراسانٹ اور کافی‘صبح کے ناشتے کے لیے مثالی ہیں۔ خریداری کے لیےکاشا کی آشا اور میسن پیرومل میں دستکاری کے زیورات اور روایتی لباس دستیاب ہیں۔اروبندو آشرم کے ہنرمندوں کی بنائی گئی تعلیمی اور تخلیقی اشیاء ’نون ویہان‘ میں ملتی ہیں۔ مقامی کرافٹ بازار میں گاندھی جی کے مجسمے کے قریب پڈو چیری کے مقامی فنکاروں کا کام دیکھنے کو ملتا ہے اور یہاں مشہور ’تھاتھا سنڈل‘ (مسالے دار چنے) کا لطف بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
راج نواس
کبھی فرانسیسی گورنروں کی رہائش پلائس ڈو گورنمنٹ‘تھا، اب لیفٹیننٹ گورنر کا سرکاری گھر ہے۔ہند-فرانسیسی فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کے باغ اور واٹر مونومنٹ دیکھنے لائق ہیں۔ کچھ حصے عوام کے لیے کھلے ہیں۔ وہائٹ ٹاؤن کے تمام مقامات پیدل چلتے ہوئے ایک سے دو دن میں دیکھے جا سکتے ہیں۔