مگر ۲۰۲۹ء تک انتظار کرنا پڑےگا، ۲۰۲۹ء تا ۲۰۳۲ء ریاست سے ایوان بالا کی تمام ۱۶؍ سیٹوں کیلئے الیکشن ہوں گے۔
راجیہ سبھا۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال کی جیت سے بی جےپی کیلئے راجیہ سبھا میں واضح اکثریت حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے تاہم اسے اس کیلئے ۲۰۲۹ء تک انتظار کرنا پڑےگا اور یوپی ، اتراکھنڈ اور گجرات کی اسمبلیوں میں اپنی نشستوں کی موجودہ تعداد برقرار رکھنی ہوگی۔ البتہ آئندہ سال ایوان بالا کی ۱۵؍ نشستوں پر رد و بدل ہوگا جو حالیہ اسمبلی انتخابات کے اثرات کا نتیجہ ہوگا۔ آئندہ ۲؍برسوں میں کیرالا، آسام، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں راجیہ سبھا کیلئے الیکشن ہوں گے جبکہ مغربی بنگال سے راجیہ سبھا کیلئے ۲۰۲۹ء تک کوئی سیٹ خالی نہیں ہوگی۔۲۰۲۹ء سے ۲۰۳۲ء کے درمیان ریاست کی تمام۱۶؍ راجیہ سبھا نشستیں خالی ہوںگی اوران پر دوبارہ الیکشن ہوگا۔ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں شکست کھانے والی ترنمول کانگریس۲۰۲۹ء تک کوئی نشست نہیں کھوئے گی۔
البتہ آئندہ ۲؍ برسوں میں کانگریس کی راجیہ سبھا میں تعداد موجودہ۲۹؍ سے بڑھ کر۳۲؍ ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کو ایک نشست کا فائدہ ہوگا اور اس کی تعداد۱۱۴؍ تک پہنچ جائے گی جبکہ ڈی ایم کے کی تعداد ۸؍سے گھٹ کر ۷؍رہ جائے گی۔ وجے کی ٹی وی کے پہلی بار راجیہ سبھا میں ۳؍ نشستوں کے ساتھ داخل ہو سکتی ہے جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی تعداد موجودہ ۶؍ سے کم ہو کر ۵؍رہ جائے گی۔
کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کیرالا میں راجیہ سبھا کی تمام ۶؍نشستیں جیتے گی جن پر۲۰۲۷ء اور۲۰۲۸ء میں تین، تین نشستوں کیلئے الیکشن ہوں گے۔ آسام میں۲۰۲۸ء کے ۲؍ سالہ انتخابات میں بی جے پی دونوں نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے، جس سے پارٹی کو ریاست سے ایک نشست کا فائدہ ہوگا۔ بہرحال راجیہ سبھا میں بڑا ردوبدل ۲۰۲۸ء میں تمل ناڈو اسمبلی سے ۶؍ نشستوں کیلئے انتخاب کی شکل میں ہوگا۔