وجے کے ڈرائیور کابیٹا بھی جیتا، آرجی کر سانحہ کی متاثرہ کی والدہ بھی اسمبلی پہنچیں
ٹی وی کے سربراہ اور اداکار وجے تھلاپتی رکشہ ڈرائیور دھامو کے ساتھ -تصویر:آئی این این
تمل ناڈو میں وجے کی پارٹی کی تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی ان کے ڈرائیور کے بیٹے کی کامیابی اور ان کی پارٹی کے ٹکٹ پر ایک رکشہ ڈرائیور کی جیت بھی موضوع ِ بحث ہے۔ اُدھر مغربی بنگال میں آرجی کر میڈیکل کالج میں آبرویزی کے بعد قتل کی گئی دوشیزہ کی والدہ بھی بی جےپی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچ گئی ہیں۔
وجے کے ڈرائیورا ور معاون کے بیٹے آر سبریناتھن تمل ناڈو اسمبلی الیکشن کی سب سے زیادہ موضوع بحث شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ٹی وی کے کے امیدواروں کی فہرست میں ان کے نام کے اعلان کے بعد اسٹیج پر ان کے جذباتی ہوجانے اور وجے کے انہیں گلے لگالینے کا ویڈیو بھی ایک بار پھر شیئر ہونے لگا ہے۔ ۳۰؍سالہ سبریناتھن، وجے کے طویل عرصے سے ڈرائیور اور ذاتی معاون راجندرن کے بیٹے ہیں جو اداکار کی پہلی فلم’’نالایا تھیرپو‘‘ کے وقت سے ان کے ساتھ ہیں۔وہ وروگم باکم سے ٹی وی کے کے ٹکٹ پر جیتے ہیں۔
اسی طرح وجے کی پارٹی کے ٹکٹ پر ایک آٹو ڈرائیور کے وجے دھامو نے رویا پورم حلقے میں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے کے جغادری امیدواروں کو ہرا دیاہے۔ دھامو نے ۵۵؍ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے اور اپنے قریبی حریف پر۱۴؍ ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی۔یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ انہوں نےڈی ایم کے کے امیدوارصابر خان جو مرحوم سینئر وزیر رحمان خان کے بیٹے ہیں کو شکست دی ہے۔اتنا ہی نہیں دھامو کے مدمقابل انا ڈی ایم کے کے طاقتور لیڈر اور پانچ بار کے ایم ایل اے ڈی جے کمار بھی تھے جو ۱۸؍ہزار سے کچھ زائد ووٹ حاصل کرکے تیسرے مقام پر رہے۔اُدھر مغربی بنگال کی پانی ہاٹی سیٹ سے ٹی ایم سی کے امیدوار تیرتھنکر گھوش کو ہرا کر آرجی کر سانحہ کی متاثرہ کی والدہ رتنا دیبناتھ بھی ایم ایل اے بنیں گی۔ انہوں نے ۲۸؍ ہزارووٹوں کے فرق سے فتح حاصل کی ہے۔
تمل ناڈو میں وجے کو کانگریس کی حمایت کا اشارہ
نئی دہلی(انقلاب بیورو) : تمل ناڈو میں پہلی بار الیکشن لڑ کر ۱۰۸ ؍ نشستیں جیتنے والے فلم اسٹار وجے تھلاپتی نے حکومت سازی کیلئے گورنر سے ملاقات کرکےمنگل کو اپنا دعویٰ پیش کر دیا تاہم یہ سوال قائم ہے کہ ۲۳۴؍اسمبلی میں وہ اکثریت کیسے ثابت کریں گے جس کیلئے ۱۱۸؍ نشستوں کی ضرورت ہے۔پیر کو انتخابی نتائج کے فوراً بعد راہل گاندھی کی وجے سے گفتگو اوران کے والد کے بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت مل رہی ہے کہ کانگریس وجے کی پارٹی ٹی وی کے کو حمایت دے سکتی ہے۔
وجے نے پہلے ہی اعلان کررکھا ہے کہ وہ ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے ساتھ اتحاد نہیںکریں گے،ایسے میں ان کے پاس کانگریس اور بائیں بازو کی چھوٹی پارٹیاں ہی بچتی ہیں۔ کانگریس نے ۵؍ سیٹیں، سی پی آئی اور سی پی ایم نے ۲-۲؍ اور مسلم لیگ کی ۲؍ سیٹیں ہیں۔ وجے اپوزیشن بلاک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور وہ مذکورہ پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر غور کرر ہے ہیں۔جلدہی ان کو دعوت نامہ بھیجا جاسکتاہے