رخصت پذیر سال کےکیلنڈر سے مکالمہ

Updated: December 27, 2021, 12:27 PM IST | Mubashir Akbar

سال ختم ہونے کو آیا لیکن اب تک ہم نے اپنا کیلنڈر تبدیل نہیں کیا تھا ۔ جب بھی اس پر نظر پڑتی ہمیں پرانی تاریخیں نظر آتیں اور پورے سال کے تمام مناظرنظروں کے سامنے گھوم جاتے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 سال ختم ہونے کو آیا لیکن اب تک ہم نے اپنا کیلنڈر تبدیل نہیں کیا تھا ۔ جب بھی اس پر نظر پڑتی ہمیں پرانی تاریخیں نظر آتیں اور پورے سال کے تمام مناظرنظروں کے سامنے گھوم جاتے۔ یہی سوچ کر ہم نے کیلنڈر تبدیل کرنے کا ارادہ کیا۔ ہاتھ میں نیا کیلنڈر لے کر اسٹول پر چڑھے اور پرانے کو اتارنے کے لئے  جیسے ہی ہاتھ بڑھایا ہوا کے تیز جھونکے نےکیلنڈر کے اوراق کو منتشر کردیا۔ ہم نے اس پر دھیان نہ دیتے ہوئے دوسری کوشش کی تب بھی وہی حال تھا ۔ ہوا پرانے کیلنڈر کے ساتھ کھیلتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن جب پلٹ کر دیکھا تو پنکھا  بند تھا ۔ اسٹول پر چڑھنے سے قبل ہم نے ہی بند کیا تھا کہ کہیں اس کی زد میں نہ آجائیں اور وہ ہمیں  ریاضی کے استاد کی طرح  جیومیٹری کے ۳۶۰؍ ڈگری  کے اصول نہ سمجھانا شروع کردے۔ پنکھے کی جانب دیکھنے کے بعد ہماری نظر کھڑکی پر بھی پڑی کہ کہیں وہاں سے تو ہوا نہیں آرہی ہے لیکن وہ ہمارے گھر کی کھڑکی تھی جہاں سے روزانہ پڑوسی کے گھر کے پکوانوں کی خوشبو، ان کے لڑائی جھگڑے  اورسڑک کی دھول مٹی تو آسکتی تھی لیکن تازہ ہوا اور وہ بھی کیلنڈر کو گدگدادینے والی  ہوا نہیں آسکتی تھی۔ جب وہاں سے بھی مایوسی ہوئی تو  دروازے کی جانب نگاہ گھومی لیکن وہ بھی بند تھا ۔ ان تمام محاذوں پر ملنے والی پے در پے شکستوں نے ہمیں جھنجھلا دیا   اور ہم  نے غصہ میں کیلنڈرکی طرف ہاتھ بڑھایا تووہ ایک مرتبہ پھر دبک گیا۔  اس کی اِس حرکت سے ہم اور بھی زیادہ جھنجھلا ہٹ میں مبتلا ہو گئے اور پھر اسے نوچ کر دیوار سے اتارنے کا فیصلہ کرلیا۔ جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تو اس سے آواز آئی۔ ’’کیا کرتے ہو،پرے ہٹو ۔‘‘  یہ سن کر نہ صرف ہمارے اوسان خطاہو گئے بلکہ ہمارے ساتھ ساتھ اسٹول کا توازن بھی بگڑتے بگڑتے رہ گیا ۔ ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کہ بھلا کوئی کیلنڈر بھی بات کرسکتا ہے۔ہم نے اسے غور سے دیکھا کہ جو ہم نے سنا وہ اسی  نے کہا تھا یا پھر کوئی اور تھا ۔ ہمیں گھورتا ہوا دیکھ کر کیلنڈر گویا ہوا :  ایسے گھور گھور کر کیا دیکھ رہے ہو ؟  مانا کہ تمہاری دنیا میں کیلنڈر جیسی  شے گفتگو نہیں کرتی لیکن مجھے لب کشائی کرنی پڑی کیوں کہ تم مجھے ردی میں پھینک دینا چاہتے ہو لیکن میں مزید جینا چاہتا ہوں۔‘‘ کیلنڈر کی جرأت سے ہم پہلے ہی  حیران تھے   اور اس کے مزید جینے کے سوال پر تو غصہ بالکل ناک پر آگیا کہ یہ کیسا مذاق ہو رہا ہے۔کیلنڈر ہم سے باتیں کر رہا ہے اور مزید جینے دینے کی دہائیاں دے رہا ہے۔ محسوس ہوا کہ اس کاغذی پیرہن کے پردہ میں کوئی اور ہم سے ہم کلام ہورہا ہے۔   ہم نے اسے جواب دیا ’’ اللہ کے بندے ، تیری عمر سیکڑوں برس سے اتنی ہی مقرر ہے۔ہر بارہ ماہ میں تجھے تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ تجھے بھی محسوس ہونے لگے گا کہ تو بھی ابدی زندگی کے لائق ہو گیا ہے۔ اسی لئے  تجھے ہٹانا اور نئے کو لانا ضروری ہے۔ ‘‘ کیلنڈر بھی کہاں خاموش بیٹھنے والا تھا ۔ اس کے لئے تو یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔اس نے دھمکیوں بھری خوشامد شروع کردی کہ اس کے پاس ہمارے گزرے ہوئے سال کا کچھا چٹھا ہے۔  ورک فرام ہوم کے دوران ہم نے میٹنگوں سے بچنے کے لئے کیا کیا بہانے کئے ہیں ان سب کا وہ گواہ ہے۔ وہ  انکم ٹیکس محکمہ کو،  جو آج کل ویسے بھی بہت فعال ہے ، یہ بتاسکتاہے کہ کس تاریخ کو ہم نے کتنے پیسے نکالے اور کہاں خرچ کئے۔ وہ ہمارے موبائل میں موجود اپنے کیلنڈر بھائی سے مدد لے کر ہماری ہر سرگرمی کا بھانڈا بھی پھوڑ سکتا ہے۔  یہ سن کر ہمیں کچھ دیر کے لئے چکر سا آیا لیکن تب بھی  ہمارا توازن اسٹول پربرقرار ہی رہا  اور ہم نے اس سے کہا کہ’’  تم اپنی اوقات سے بڑھ کر بات کررہے ہو ۔ کیا تمہیں زیب دیتا ہے کہ تم سال بھر تک اپنے ہی پالنے والے کو اس طرح کی دھمکیاں دو؟ اسے بے نقاب کرنے کی کوشش کرو؟‘‘ کیلنڈر کہنے لگا کہ’’ میںکیا کروں؟ میرے پاس تم نے کوئی چارہ نہیں چھوڑا ہے۔ اگر تم مجھے اور جینے دو تو میں اپنا منہ بند رکھنے کی ضمانت دیتا ہوں۔ ‘‘ ہم نے کہا کہ بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ تجھے میں دیوار سے نہ ہٹائوں؟ نیا سال شروع ہونے والا ہے اور وہاں نیا کیلنڈر ہی لگےگا ۔ اس نے بات کاٹ دی اور کہا کہ ’’نیا کیلنڈر تو بالکل کورا ہو گا  ، نہ اس میں کوئی تاریخی واقعہ ہو گا اور نہ تمہارے شب و روز کا کوئی حساب کتاب  جبکہ میرے پا س گزشتہ سال میں گزرے تمہارے ایک ایک دن کا حساب ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم  چھٹیوں میں کہاں جاتے ہو، سسرال کی ہر تقریب میں موجود رہنے کے لئے دفتر میں بہانے کرتے ہو ،  مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے کس دن پڑوسن کواپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی اور اس چکر میں سگنل توڑ بیٹھے تھے اور تمہارا بھاری چالان کاٹا گیا  تھا۔  اس کی یہ دھمکیاں سن کر کچھ دیر کے لئے ہی سہی ہمیں  پورا سال اپنی آنکھوں کے سامنے گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔ ایک ایک واقعہ دن اور تاریخ کے ساتھ نظر آنے لگا  ۔  اس کے باوجود ہم نے اپنا ارادہ نہ بدلا تو اس نے کہا کہ ’’ اگر تم نہیں مانتے تو مجھے  ایتھوپیا ہی چھوڑ آئو ‘‘  اس کا یہ مطالبہ سن کر تو ہم اور بھی زیادہ حیرت میں پڑ گئے کہ یہ ہم سے یورپ یا امریکہ جانے کی ضد کرسکتا تھا لیکن یہ تو افریقہ کے دور دراز ملک ایتھوپیا  جانے کی بات کررہا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ وہاں ایسا کیا ہے بھائی ؟  اس   نے کہا کہ ایتھوپیا میں سال کے بارہ نہیں ۱۳؍ مہینے ہوتے ہیں اور وہاں ہمارے کیلنڈر بھائی ایک ماہ زیادہ جیتے ہیں۔ اس لئے تم مجھے وہاں چھوڑ آئو۔ ہم  نے جان چھڑانے کیلئے ہامی تو بھرلی لیکن اب بھی افریقہ کے نقشے میں ایتھوپیا کو تلاش کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK