ایران کے خلاف اسرائیل کی شیطنت اور امریکہ کی عاقبت نا اندیشی نے جنگ کے میدان میں پہنچ کر ایک ایسا بحران پیدا کردیا جس نے کورونا سے ابھرنے والی دنیا کو دوبارہ کورونا جیسے حالات کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران میں جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
ایران کے خلاف اسرائیل کی شیطنت اور امریکہ کی عاقبت نا اندیشی نے جنگ کے میدان میں پہنچ کر ایک ایسا بحران پیدا کردیا جس نے کورونا سے ابھرنے والی دنیا کو دوبارہ کورونا جیسے حالات کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ کورونا سے دنیا پریشان تھی، اس جنگ سے بھی پریشان ہے۔ کورونا نے الگ الگ ملکوں کی معیشت پر شدید ضرب لگائی جس کے نتیجہ میں عالمی معیشت سست رفتاری کا شکار ہوگئی۔ ویسے تو اس جنگ میں تین ممالک اور بالواسطہ نصف درجن خلیجی ممالک شامل ہیں مگر اس کی تپش بیشتر ممالک محسوس کررہے ہیں جو بالخصوص آبنائے ہرمز بند ہونے سے پریشان ہیں۔ ٹرمپ کوٹ اور ٹائی اتنا نہیں بدلتے جتنا فیصلے بدلتے ہیں، اس لئے کبھی تو جنگ تھمنے کے آثار روشن ہوتے ہیں اور کبھی جنگ بڑھنے کا خدشہ بے چین کرنے لگتا ہے۔ امریکہ اور صدرِ امریکہ کی ساکھ مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے نیتن یاہو کئی مقاصد کے تحت یہ جنگ لڑ رہے ہیں مگر امریکہ کسی مقصد کے بغیر اپنے ہاتھ کالے کررہا ہے۔ یہ بات ٹرمپ کو سمجھنی چاہئے۔
آج جنگ شروع ہوئے کم و بیش ۳۴؍ دن گزر چکے ہیں مگر اس کے خاتمے کی امید کم، پھیلنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔ امریکہ درمیان سے ہٹ گیا تو اسرائیل، جو تنہا نہیں لڑ سکتا، پاگل پن کی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسے اب بھی یقین ہو کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اس نے غزہ میں ۷۵؍ ہزار افراد کا قتل کیا تب بھی اس کا کچھ نہیں بگڑا ۔ اسی سے نیتن یاہو کو حوصلہ ملا مگر، وہ غزہ تھا جس کے پاس نہ تو فوج تھی نہ اسلحہ۔ یہ ایران ہے جس کے پاس فوج بھی ہے، اسلحہ بھی ہے اور کئی ماہ جنگ لڑنے کی طاقت اور حوصلہ بھی ہے۔ اس نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبانے اور امریکہ کو دال آٹے کا بھاؤ سمجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ سب سے بڑی اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ عوام اس کے ساتھ ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل میں عوام سڑکوں پر اُتر رہے ہیں۔ ایران لگاتار نقصان اٹھا رہا ہے مگر اسرائیل اور امریکہ کو لگاتار نقصان بھی پہنچا رہا ہے، ایسا نقصان جس کی بابت اقتدار کے نشے میں چو‘ر اِن حکمرانوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
جھلاہٹ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں پر سوار ہے اور اسی لئے بالخصوص نیتن یاہو خدانخواستہ کوئی ایسی حرکت کرسکتے ہیں جس کے بعد سوائے پچھتانے کے کچھ نہیں بچے گا۔ اقوام متحدہ میں پیٹریاٹک ویژن آرگنائزیشن کے مستقل نمائندے محمد صفا نے اپنے فرائض منصبی سے خود کو الگ کرلیا اور انتباہ دیا ہے کہ یواین ایران پر نیوکلیائی حملے کا تماشا دیکھنے کیلئے تیار بیٹھا ہے جبکہ اسے اُس طاقتور لابی کے دباؤ سے باہر نکلنا چاہئے جو ایران کے خلاف آج بھی جھوٹ کا پرچار کر رہی ہے۔ محمد صفا کا کہنا تھا کہ وہ خلافِ انسانیت جرم کا گواہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیوکلیائی حملے کے خطرہ کو محسوس کیا جائے ورنہ بہت دیر ہوچکی ہوگی۔
محمد صفا کے انتباہ کے بعد سب کی آنکھیں اس لئے کھل جانی چاہئیں کہ جس پر جھلاہٹ سوار ہو اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، عقل گم ہو جاتی ہے اور بھلے برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اسی وجہ سے پہلے بھی ایران کو کم آنکا گیا اور شاید اب بھی یہی غلطی دہرا دی جائے۔ یہ وقت ہے کہ تمام عالمی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کو فوراً سے پیشتر بروئے کار لائیں اور تل ابیب کو انتہائی اقدام سے ہر قیمت پر باز رکھیں۔