ہندوستانی ثالثی کا مطالبہ کرنے والے درحقیقت یہ نہیںچاہتے کہ ہندوستان امن کی کوشش میں کردارادا کرے بلکہ وہ چاہتے ہیںکہ ہندوستان صرف اس منظرنامہ میں نظر آئے کیونکہ اس میںہمارا پڑوسی بھی موجود ہے۔
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این
ملک میںان دنوںیہ سوال موضوع بحث بنا ہوا ہےکہ ہندوستان کوایران جنگ میںثالثی کرنی چاہئے یا نہیں۔اس کی تائیدکرنے والے تہران ، واشنگٹن اور خلیج سے ہندوستان کے منفرد تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں۔ دیگر نہروکی پالیسی کو بطورنمونہ پیش کرتے ہیں ، بالخصوص اس دور کی پالیسی کو جو کوریائی جنگ کےد وران اپنائی گئی تھی۔اس کے ذریعے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان نے ایک مرتبہ بین الاقوامی ثالث کا کرداراداکیا تھااور ایک بار پھر کر سکتا ہے۔اگر ضرورت پڑے تو ہندوستان کے پاس اس کیلئے سیاسی عز م بھی ہے۔غور کیاجائے تویہ تحریک دینے والا نکتہ ہے مگرغلط ہے۔یہاں اس پر بحث کرتے ہیںکہ کیوں؟
یہاںایک پریشان کن سوال سے شروعات کرتے ہیں۔یہ موضوع یا سوال اس وقت کیوں زیر بحث ہے اوریہ یوکرین جنگ کے وقت کیوںسننے میں نہیںآیا ؟اگر آپ واقعات کی کڑی دیکھیںتواس نتیجے پر پہنچیں گےکہ ہندوستان کے ثالث بننے کی بات اس نتیجے کے طورپر سامنے نہیں آئی کہ ہندوستان نےامن کی کوشش میں شامل ہونے کی اسٹرٹیجک طورپر کوئی دلچسپی دکھائی ہےاوراس کی ثالثی سے کوئی نمایاں فرق پڑے گایا اس لئے نہیںکہ جنگ کے فریقوں نے ہندوستان کو خود ثالثی کی دعوت دی ہے۔ایسا کچھ بھی نہیںہے۔در اصل یہ ساری بحث اس لئے چھڑی ہےکہ اس معاملے میںترکی اورمصر کے ساتھ پاکستان بھی ثالث کے طورپر سامنے آیا اور اس نے مذاکرات کے مقام کی بھی پیشکش کی ۔ہندوستان میں اس تعلق سے جو رائے ہموار ہورہی ہےوہ مسابقتی فکر مند ی کا اظہار ہےجس کی بنیاد یہ ہےکہ اگر پاکستان کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟اگر ہندوستان کویہ خوف ہےکہ یہ ایک موقع ہےجو ہاتھ سے نکل رہا ہےتو یہ اچھی بات ہے اوراگر وہ حسد کاشکار ہےکہ اس اسٹرٹیجک برادری میںایک چھوٹے پڑوسی ملک کو اتنی اہمیت کیوں مل گئی جس کا حقدار پہلے وہ(ہندوستان)ہے تویہ کسی طورمناسب نہیں۔
وہ لوگ جو اس بنیاد پرہندوستان کی ثالثی کی تائید کررہے ہیںکہ وہ اس کیلئے اخلاقی بنیاد رکھتا ہے اوراس کیلئے یہ ایک اسٹرٹیجک موقع ہے،وہ اپنے موقف میںسنجیدہ ہیںلیکن ترجیحی بنیاد وں پرمیں ان سے اتفاق نہیںرکھتا ۔
آئیے تھوڑی سی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ہندوستان کی ثالثی کی تاریخ رہی ہے۔ کوریائی جنگ میں، اس نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان معلومات کے تبادلے کیلئے ایک چینل کے طور پر کام کیا او ر بالآخر۱۹۵۳ء کی اقوام متحدہ کی قراردادکی بھی حمایت کی جس کی وجہ سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ غیروابستگی کا یہ عزم جنوب مشرقی ایشیا کے معاملات میں بھی اس وقت نظر آیا تھا جب ہندوستان نےبین الاقوامی کمیشن برائےنگرانی اورکنٹرول کے سربراہ کی حیثیت سے ہند چین کے تعلق سے ۱۹۵۴ء کے جنیوا معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کی تھی ۔ ہندوستان نے ۱۹۵۶ء کے سوئز بحران کو ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اس ریکارڈ کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئےلیکن اس کا تعلق ایک مختلف زمانے سے تھا۔ اس وقت حقیقی مساوات کے تعلق سے بیداری آنے لگی تھی ، غیر وابستہ تحریک کوتسلیم کیاجانےلگا تھا اور بالآخر ایک دو قطبی دنیا میںتیسری آواز کیلئے جگہ پیدا ہونےلگی تھی ۔ ۲۰۲۶ء میںان میں سے ایک بھی منظر نامہ موجود نہیںہے۔
ثالثی کی وکالت کیلئے جو موقف سامنے آرہا ہے وہ کمزور ہےکیونکہ جو ثالثی کی وکالت کررہے ہیںوہ آج کررہے ہیںجبکہ کچھ دن پہلے تک تو ان کاموقف یہ تھا کہ ہندوستان کو پہلے ایران پر امریکہ واسرائیل کے حملے کی مذمت کرنی چاہئے۔یہ واضح متضاد صورتحال ہے۔ ایک ملک جو تنازع میں ایک فریق کی مذمت کرے،بعد میں خود کو اسی فریق کے سامنے غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ جنگ میں کسی فریق کے اخلاقی ناقد بھی ہوں اور اسی جنگ میں ایک ایماندار مذاکرات کار کا کردارادا کریں ۔ہندوستان کی ثالثی کی وکالت کرنے والے جنگ سے پہلے کے حالات پیش نظر رکھیں۔ عمان نے جس طرح ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان تیسرے فریق کی مذاکرات کا اہتمام کیا ، اسےامریکہ نے ایک ایران پرحیران کن اوراچانک حملہ کرنے کیلئے ایک آڑ کے طورپراستعمال کیا۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔ عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا تیسرا دور۲۶؍ فروری کوختم ہوا تھا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے اس میں’اہم پیش رفت‘ کا دعویٰ کیاتھا او ر اطلاع دی تھی کہ۲؍ مارچ کو دوبارہ میٹنگ ہوگی ۔ بہر حال ۴۸؍ گھنٹے سے بھی کم وقت میںواشنگٹن اورتل ابیب نےحملے شروع کر دئیے۔ ثالثی بچنےکی ایک آسان آڑ ہے ۔اگر اس پورے تنازع میں ہندوستان کا استعمال کیا جائے گا تواس کی ساکھ کیلئے یہ ا س کے تنازع سے باہررہنے سے زیادہ نقصاندہ ہوگا ۔
اس معاملے میں چین جو کچھ کر رہا ہے اس میں بھی ایک سبق ہے۔ بیجنگ اگر ثالث بننا چاہتا توسارے حالات اس کے حق میں ہوتےاور یہ صورتحال ہندوستان کے ساتھ نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسے ویٹو حاصل ہے، تہران کے ساتھ باضابطہ اسٹرٹیجک شراکت داری ہے، خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس کے گہری اقتصادی روابط ہیں، ٹرمپ کی نظر میں وہ ایک بڑی طاقت ہے اوراس خطےکا سفیر بھی ہے ۔ اگر چین اپنے سارے اختیارات اورمضبوط حیثیت رکھنے کے باوجود اقدام نہیںکرسکتا تو ہندوستان کیا کرسکتا ہے؟
اس کے علاوہ ہندوستان کا ایک موقف یہ بھی ہےکہ اقوام متحدہ نہیںبلکہ بیرونی طاقتوںکوعالمی تنازعات کو ختم کرنے میںقانونی ثالث کا کردار اداکرنا چاہئے۔بہرحال اس کا یہ موقف بھی کشمیر کے معاملے میںبرعکس نظر آتا ہےکیونکہ وہ کشمیر میں کسی تیسرےفریق کی مداخلت نہیں چاہتا۔اگر ثالثی ایک اصول ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا اطلاق باہر کی دنیا پر تو کیا جائے اورگھرمیں اس کا انکار کردیاجائے ۔ ہندوستانی ثالثی کا مطالبہ کرنے والے درحقیقت یہ نہیںچاہتے کہ ہندوستان امن کی کوشش میں کردارادا کرے بلکہ وہ چاہتے ہیںکہ ہندوستان صرف اس منظرنامہ میں نظر آئے کیونکہ اس میںہمارا پڑوسی بھی موجود ہے۔ یہ سفارتکاری نہیںہے، غرور ہے۔
(مضمون نگار ، شیو ناڈر یونیورسٹی میں اسکول آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے ممتاز وزیٹنگ پروفیسر ہیں ۔)