Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجیدگی میں مذاق، مذاق میں سنجیدگی

Updated: May 25, 2026, 12:36 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

بات مذاق سے شروع ہوئی اور اس قدر سنجیدہ ہوگئی کہ لوگ باگ بھی سنجیدہ گفتگو کرنے لگے۔ کچھ ایسے ہیں جو اَب بھی اس کو مذاق سمجھ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس پر پابندیاں لگا کر اس کے مذاق ہونے کو مشکوک کردیا۔

Cockroach Janata Party.Photo:INN
کاکروچ جنتا پارٹی- تصویر:آئی این این
بات مذاق سے شروع ہوئی اور اس قدر سنجیدہ ہوگئی کہ لوگ باگ بھی سنجیدہ گفتگو کرنے لگے۔ کچھ ایسے ہیں جو اَب بھی اس کو مذاق سمجھ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس پر پابندیاں لگا کر اس کے مذاق ہونے کو مشکوک کردیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور اسے مذاق کے دائرہ سے نکال دیا۔ خود اس نئی اور غالباً، دنیا کی پہلی آن لائن سیاسی پارٹی کے محرک یا بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی مذاق کے مذاق ہونے کی توثیق نہیں کی۔ وہ خود سنجیدہ ہوگئے۔ پارٹی کو سنجیدہ بنانے میں وہ برابر کے مجرم ہیں۔ مذاق میں سنجیدگی در آ جائے یا سنجیدگی میں مذاق، دونوں ہی خطرناک ہو جاتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اگر سنجیدہ ہونے جارہی تھی تو اسے اعلان کرنا چاہئے تھا کہ اس نے مذاق کا دامن چھوڑ دیا ہے۔ ایسا نہیں ہوا۔ اسی لئے، اس کے قیام کو ایک ہفتہ بھی پورا نہیں ہوا مگر اس کی ریکارڈ توڑ مقبولیت نے کسی کو خوش، کسی کو مشکوک اور کسی کو خوفزدہ کردیا ہے۔ خوش نوجوان ہیں کیونکہ انسٹا پر وہی سب سے زیادہ فعال اور متحرک ہیں۔ مشکوک اپوزیشن بھی ہے اور حکمراں جماعت بھی۔ خوفزدہ بھی یہ دونوں ہی ہیں۔
 
 
جہاں تک ہماری رائے کا تعلق ہے، ہم یہ مانتے ہیں اور آپ بھی اقرار کریں گے کہ جس طرح بھوک لگی ہو تو ورچوئل دسترخوان لگ جانے سے پیٹ نہیں بھر سکتا، پیٹ بھرنے کیلئے ’’عکسی غذا‘‘ نہیں ’’اصلی غذا‘‘ لازمی ہوتی ہے، اسی طرح سیاسی پارٹی کو عوام سے اور عوام کو سیاسی پارٹی سے سروکار ہوتا ہے۔سیاسی پارٹی اپنے روزمرہ کے عوامی رابطے اور تعلق کی بنیاد پر پھلتی پھولتی ہے۔ وہ کبھی کاغذ پر نہیں چلی تو آن لائن کیسے چل جائیگی۔ ملک بھر کی ریاستوں اور علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر پھیلے ہوئے ہیں جن کا مقصد ’’جن سمپرک‘‘ہے۔ لوگ باگ اپنے کام لے کر پارٹی آفسوں میں جاتے ہیں۔ صرف میٹنگ کرنی ہو تو یہ ممکن ہے مگر اس کے علاوہ سارے کام عوام اور پارٹی کارکنان یا لیڈران کے حقیقی تعامل ہی سے تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ اس میں کچھ بھی ورچوئل نہیں ہوتا۔ یہ ہوئی ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) تضادات کا مجموعہ ہے۔ اس نے ممبرشپ کیلئے بے روزگار اور کاہل ہونے کی شرط رکھی ہے۔ پارٹی کیلئے بے روزگار اور بے روزگاروں کیلئے پارٹی کی مصروفیت فائدہ مند ہوسکتی ہے مگر کارکنان کاہل ہوں گے تو پارٹی میں کام کون کریگا؟ 
 
 
سی جے پی نے اپنے منشور میں عوام کے سلگتے موضوعات کو شامل نہیں کیا ہے۔ پیٹرول ڈیزل کے دام، لازمی اشیاء کی مہنگائی، روپے کی گھٹتی قدر، ایس آئی آر، لاکھوں ووٹروں کے ناموں کا حذف ہونا، امریکہ سے ہونے والا یکطرفہ معاہدہ، ہجومی تشدد، بلڈوزر کا بے دریغ استعمال اور ایسے ہی دیگر کئی موضوعات پر سی جے پی کیا سوچتی ہے یہ ہمیں نہیں بتایا گیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے کا، ماضی میں عام آدمی پارٹی سے وابستہ رہنا بھی غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی ورچوئل پارٹی کو قابل اعتناء سمجھے گا جس کا نام کاکروچ جنتا پارٹی ہے اور جس کے ممبران کاکروچ ہیں۔ بلاشبہ  کاکروچوں کی بڑی تعداد اس پارٹی سے وابستہ ہوگئی ہے مگر کون جانتا ہے کہ یہ کاکروچ کہاں کہاں کے ہیں؟ ان میں کتنے ہندوستانی اور کتنے غیر ملکی ہیں۔ کم یا زیادہ تعداد میں اگر اس میں غیر ملکی ہیں تو کیا اسے ہندوستانی پارٹی کی حیثیت مل سکتی ہے؟ کہیں یہ دُنیا کی پہلی بین الاقوامی پارٹی تو بننے نہیں جارہی ہے؟ دیکھئے سنجیدگی میں پھر مذاق آگیا اور، جیسا کہ ہم نے کہا، سنجیدگی میں مذاق اور مذاق میں سنجیدگی دونوں خطرناک ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK