راجیہ سبھا انتخابات کے یہ نتائج صرف چند نشستوں کی جیت یا ہار نہیں بلکہ بہار کی سیاست کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی ہیں۔ عظیم اتحاد کی شکست ایک وارننگ ہے۔
راجیہ سبھا۔ تصویر:آئی این این
حالیہ راجیہ سبھا انتخاب میں یہ تو طے تھا کہ پانچوں سیٹیں قومی جمہوری اتحاد کو ہی ملیں گی کیوں کہ عظیم اتحاد کے پاس اتنے ممبران قانون ساز اسمبلی نہیں ہیں جو اس انتخاب میں ایک سیٹ کے لئے ۴۴؍ ووٹ کی ضرورت کو پورا کر سکیں کیوں کہ عظیم اتحاد اور کانگریس واویسی کی پارٹی کے ممبران مل کر بھی اس نشانے کو پورانہیں کر پائیں گے۔ لیکن یہ امید تھی کہ پانچویں سیٹ پر عظیم اتحاد کسی بھی طرح جیت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا کہ راشٹریہ جنتا دل کے ایک ممبر اسمبلی اور کانگریس کے تین ممبران اسمبلی نے اس ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ این ڈی اے کو پانچوں سیٹیں حاصل ہو گئیں ان میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار،بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نیتن نوین، آرجے ڈی کے رام ناتھ ٹھاکر،بھاجپا کے سیویش رام اور آر ایل ایم کے اوپندر کشواہا کے نام شامل ہیں۔واضح ہو کہ بہار کی سیاست ہمیشہ سے پیچیدگی، اتحادوں کی سیاست اور سماجی توازن کے حوالے سے منفرد رہی ہے۔ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ یہاں سیاسی بساط ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے۔ تازہ انتخابی نتائج میں عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن) کو جس شکست کا سامنا کرنا پڑا اور این ڈی اے نے پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی، وہ نہ صرف ایک انتخابی نتیجہ ہے بلکہ بہار کی آئندہ سیاست کی سمت کا اشارہ بھی ہے۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے ،کیا یہ شکست وقتی ہے یا کسی بڑے سیاسی رجحان کا حصہ؟ عظیم اتحاد کی کمزوریوں کے اسباب کیا ہیں؟ اور این ڈی اے کی کامیابی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ راجیہ سبھا کے انتخابات براہ راست عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ اسمبلی کے اراکین کے ذریعے ہوتے ہیں، اس لئے یہ نتائج دراصل اسمبلی کے اندر طاقت کے توازن کا عکس ہوتے ہیں۔ بہار اسمبلی میں موجود سیاسی صف بندی کے تناظر میں این ڈی اے کی یہ کامیابی بظاہر حیران کن نہیں لگتی، لیکن عظیم اتحاد کی مکمل ناکامی یقیناً چونکا دینے والی ہے۔ حالیہ دنوں میں عظیم اتحاد کے اندر جس طرح کے اختلافات سامنے آئے، اس نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اتحاد کے اہم لیڈروں کے بیانات، باہمی عدم اعتماد اور حکمت عملی کی کمی نے اس شکست کی راہ ہموار کی۔جیسا کہ اس راجیہ سبھا کے انتخاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے درمیان رسّہ کشی برقرار رہی جس کا خلاصہ کانگریس صدر نے کیا کہ راشٹریہ جنتا دل نے امیدوار کے انتخاب میں ان سے صلاح ومشورہ نہیں کیا تھا۔دوسری طرف این ڈی اے نے اپنی منظم حکمت عملی، مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور واضح قیادت کے ذریعے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کے پاس نہ صرف عددی برتری تھی بلکہ سیاسی تدبر بھی۔ انہوں نے اپنے اراکین کو متحد رکھا اور ووٹنگ کے دوران کسی قسم کی بغاوت یا کراس ووٹنگ کو موقع نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پانچوں نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے۔اس انتخابی نتیجے کا ایک اہم پہلو کراس ووٹنگ کا امکان بھی ہے۔ اگر عظیم اتحاد کے کچھ اراکین نے پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دیا ہے تو یہ اتحاد کے لئے ایک سنگین انتباہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اندرونی سطح پر اتحاد کمزور ہو چکا ہے اور اس کے اراکین قیادت سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہ صورتحال آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
بہار کی سیاست میں ذات پات اور سماجی توازن ہمیشہ سے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ عظیم اتحاد کی ایک بڑی طاقت یہی سماجی اتحاد تھا، لیکن حالیہ عرصے میں اس میں دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مختلف طبقات میں ناراضگی، نمائندگی کے مسائل اور ترقیاتی وعدوں کی عدم تکمیل نے ووٹروں کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی کو بھی متاثر کیا ہے۔بالخصوص اسمبلی انتخاب کے وقت راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس دونوں پر مبینہ الزام لگایا گیا تھا کہ ٹکٹ دینے کے نام پر موٹی رقم وصولی گئی ہے جس کے مضر اثرات اب دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس کے برعکس این ڈی اے نے اپنے سماجی اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوشش کی اور مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی اپنائی۔یہ بھی قابل غور ہے کہ قومی سطح کی سیاست کا اثر ریاستی سیاست پر بھی پڑتا ہے۔
مرکزی حکومت کی پالیسیوں، قیادت کی مقبولیت اور قومی بیانیہ کا اثر بہار کے اراکین پر بھی پڑتا ہے۔ این ڈی اے نے اس قومی بیانیے کو اپنے حق میں استعمال کیا، جبکہ عظیم اتحاد اس حوالے سے کوئی مضبوط موقف پیش نہیں کر سکا۔عظیم اتحاد کی قیادت کو اب سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کہاں غلطی ہوئی۔ کیا یہ صرف عددی کمی کا مسئلہ تھا یا حکمت عملی کی ناکامی؟ کیا اتحاد کے اندر قیادت کا بحران ہے؟ کیا زمینی سطح پر کارکنان میں جوش و خروش کی کمی ہے؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کیے بغیر آئندہ کامیابی ممکن نہیں۔ایک اور اہم پہلو میڈیا اور عوامی تاثر کا ہے۔ سیاست میں تاثر حقیقت سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ این ڈی اے نے خود کو ایک مضبوط، متحد اور مستحکم اتحاد کے طور پر پیش کیا، جبکہ عظیم اتحاد کی تصویر ایک منتشر اور کمزور گروپ کی بن گئی۔ اس تاثر نے بھی اراکین کے رویے کو متاثر کیا ہوگا۔یہ شکست عظیم اتحاد کے لئے ایک موقع بھی ہو سکتی ہے، اگر وہ اس سے سبق حاصل کرے۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی شکستوں کے بعد ہی جماعتیں خود کو ازسرنو منظم کرتی ہیں۔ اگر عظیم اتحاد اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر لے، قیادت کو مضبوط بنائے اور ایک واضح سیاسی ایجنڈا پیش کرے تو وہ آئندہ انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔دوسری جانب این ڈی اے کیلئے یہ کامیابی ایک ذمہ داری بھی ہے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی جیت صرف سیاسی چالاکی کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کے عزم کا مظہر ہے۔ مختصر یہ کہ راجیہ سبھا انتخابات کے یہ نتائج صرف چند نشستوں کی جیت یا ہار نہیں بلکہ بہار کی سیاست کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی ہیں۔ عظیم اتحاد کی شکست ایک وارننگ ہے کہ سیاست میں اتحاد صرف نام کا نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ جبکہ این ڈی اے کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ منظم حکمت عملی، مضبوط قیادت اور اتحاد کی یکجہتی کامیابی کی کنجی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عظیم اتحاد اس شکست سے کیا سبق سیکھتا ہے اور این ڈی اے اپنی کامیابی کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔ بہار کی سیاست کا اگلا باب یقیناً مزید دلچسپ اور فیصلہ کن ہوگا۔