• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عیسائیوں پر حملے کیوں بڑھ رہے ہیں؟

Updated: February 26, 2026, 12:03 PM IST | Anand Dutt | Mumbai

ادیشہ میں سڑکوں پر دکانداروں اور ہاکروں کو ہراساں کرنے، مارپیٹ اور تذلیل کے سیکڑوں واقعات معمول بن چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کے بعد، ساحلی ادیشہ کے کچھ حصوں میں بنگالی تارکین وطن مزدوروں اور دکانداروں کے داخلے پر پابندی کے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔

Christian Protest.Photo:INN
عیسائیوں کا احتجاج۔ تصویر:آئی این این
۲۰۲۴ء میں، کرسمس کے فوراً بعد، بالاسور ضلع کے چھانا خانپور پور گاؤں کی رہنے والی انو سنگھ نےعیسائی مشنری سے وابستہ سبھاسنی سنگھ کو اپنے گھر مدعو کیا۔ مبینہ طور پر سُبھاسنی اسے تین ماہ سے فیزیوتھیراپی دے رہی تھیںجس کے بعد انو چلنے لگی تھی۔وہ جشن میں کیک کاٹنے سے پہلے یسوع مسیح سے دعا کرنے والے تھے۔ سبھاسنی کے مطابق، اسی وقت ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ لوگ وہاں پہنچے اورتبدیلی مذہب کا الزام لگاتے ہوئے انو اور ان کے شوہر گووند سنگھ کو شدید زدوکوب کیا۔ اس کے بعد انہیں (سبُھاسنی کو) برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ ڈھینکانال ضلع کے پرجنگ گاؤں میں، پادری بپن بہاری نائک نے الزام لگایا کہ جب وہ اپنی اہلیہ بندنا اورخاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کرشنا نائک کے گھر ایک دعائیہ تقریب میںشریک تھے تب ۱۵؍سے۲۰؍ افرادکے ہجوم نے انہیں  لاٹھیوں سے مارا اور ان کے چہروں پر سرخ سیندور لگا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے گلے میں چپل کے ہار ڈالے، انہیں مندر کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا اور گائے کے گوبر میں ملا ہوا پانی پینے پر مجبور کیا۔
یہ دو واقعات پورے ادیشہ میں رپورٹ ہونے والے ایسے کیسوں میں شامل ہیں جن میں عیسائیوں، مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسے۸۷؍ واقعات سامنے آچکے ہیں۔ میور بھنج ضلع کے بہلدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم نوجوان شیخ صروف کو برہنہ کر کے مارا پیٹا گیا، اس کے ہاتھ باندھے گئے اور ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ ایک اور واقعہ میں، ایک۲۸؍سالہ راج مستری شیخمکندر محمد کو گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں بلیشور صدر تھانہ علاقے میں مارا پیٹا گیا اور مارنے سے پہلے اسے’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔
ریاست میں سڑکوں پر دکانداروں اور ہاکروں کو ہراساں کرنے، مارپیٹ اور تذلیل کے سیکڑوں واقعات معمول بن چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کے بعد، ساحلی ادیشہ کے کچھ حصوں میں بنگالی تارکین وطن مزدوروں اور دکانداروں کے داخلے پر پابندی کے بینرز آویزاں کئے گئے۔ عیسائی تنظیموں کا الزام ہے کہ یہ واقعات بھگوا تنظیموں کی نگرانی میں کیے جانے والے منظم جرائم ہیں۔ الائیڈ ڈیفنس فورم اور یونائیٹڈ کرسچن فورم نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میںچیلنج بھی کیا جس کی سماعت ۷؍ فروری کو ہوئی ۔
نیشنل کرسچن فرنٹ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پلب کمار لیما کہتے ہیں’’چاہے کانگریس ہو یا بی جے ڈی کی حکومت، ہماری کمیونٹی پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ ادیشہ میں مسلمانوں کی آبادی عیسائیوں سے کم ہے اور بی جے پی حکومت پولرائزیشن کے لیے عیسائی برادری کو استعمال کر رہی ہے ۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں’’حالات یہ ہیں کہ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو گجپتی ضلع کے مالبیڑا گاؤں میں ایک عیسائی مزدور شراون گونڈو کو اس کی موت کے بعد دفن کیا گیا تھا لیکن سنگھ پریوار سے وابستہ سنسکرتی جاگرن منچ کے کارکنوں نے اسے نکال کر اسے جلایا۔‘‘ ریاستی کانگریس کے میڈیا ڈویژن کے نائب صدر امیہ پانڈو کہتے ہیں’’ہم ایسی ریاست سے انصاف کی توقع کیسے کر سکتے ہیں جس کے وزیر اعلیٰ نے دارا سنگھ کو جس نے عیسائی شہری گراہم ا سٹین اور ان کے بچوں کو جلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جیل سے رہا کرنے کے لیے دھرنا دیا تھا۔‘‘
 
 
اس بارے میں آر ایس ایس ادیشہ کے پبلسٹی چیف سُمنت پانڈا کہتے ہیں’’یہ سچ ہے کہ ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کے واقعات ہورہے ہیں۔ اس سے مقامی لوگ ناراض ہوتے ہیں اور بعض اوقات انتقامی کارروائیوں کے طور پر واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن یہ بالکل منظم نہیں ہوتے۔‘‘بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری جتن موہنتی نے سنگھ پریوار اور موہن ماجھی حکومت کے خلاف لگائے گئے اقلیت مخالف الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا’’اب تک، ایسے کسی بھی واقعے میں بی جے پی یا اس کے نظریات سے تعلق رکھنے والی کسی تنظیم کے فرد کے ملوث ہونے کاثبوت نہیں پایا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں قبائلی برادریوں کے درمیان پہلے ہی نفرت کا ماحول ہے۔‘‘
 
 
 
یونائیٹڈ کرسچن فورم کے کنوینر اے سی مائیکل کا کہنا ہے کہ’’۲۰۱۴ء سے۲۰۲۵ء تک ملک بھر میں مسیحی برادری پر حملوں کے کل۴۹۵۶؍واقعات ہوئے ہیں۔۲۰۱۴ء میں جہاں ۱۲۷؍ واقعات ہوئے وہیں ۲۰۲۴ء میں سب سے زیادہ۸۳۴؍ واقعات پیش آئے۔‘‘ ۱۹؍ مارچ۲۰۲۵ء کو پارلیمنٹ نے ملک بھر میں عیسائیوں پر حملوں کے بارے میں ریاستی سطح پر اعداد و شمار مانگے تھے۔ اس کے جواب میں، مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا کہ پولیس اور امن عامہ ریاست کےموضوعات ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کے پاس ایسا ڈیٹا نہیں ہے۔ تاہم۱۳؍ جنوری کو امریکی تھنک ٹینک انڈیا ہیٹ لیب نے ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق۲۰۲۳ء سے۲۰۲۵ء تک ملک بھر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ایسے۳۱۵۱؍کیس درج کیے گئے، ان میں سے زیادہ تر واقعات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پیش آئے۔ اترپردیش۲۶۶؍ واقعات کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد مہاراشٹر(۱۹۳)، مدھیہ پردیش(۱۷۲)، اترا کھنڈ(۱۵۵) اور دہلی (۷۶) ہیں۔۴؍مارچ۲۰۲۳ء کو ملک بھر کے ۹۳؍ سبکدوش بیورو کریٹس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو عیسائی برادری پر حملوں کے حوالے سے ایک کھلا خط لکھا تھا ۔ انہوں نےلکھا تھا کہعیسائی ہندوستان کی کل آبادی کا صرف۲ء۳؍فیصد ہیں اور یہ فیصد ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کے بعد سے تقریباً اتناہی رہا ہے۔ پھر بھی، کچھ لوگوں کے مطابق، یہ چھوٹی اقلیت ملک کی۸۰؍ فیصد ہندو آبادی کیلئے خطرہ ہے۔ عیسائیوں کے خلاف بنیادی الزام جبری تبدیلی مذہب ہے اور اس بنیاد پر ان کے اداروں پر اور انفرادی طور پر انہیںجسمانی اور نفسیاتی حملوں کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ادیشہ میں رپورٹ کیے گئے کچھ معاملات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ملزمان کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی گئی جس سے دلتوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ چیف منسٹر موہن چرن ماجھی کی حکومت کیلئے اپنی شبیہ کو بہتر کرنے کا ایک چیلنج پیش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK