اگنی پتھ یا نوجوانوں کی اگنی پریکشا؟

Updated: June 22, 2022, 2:43 PM IST | Pravez Hafeez | Mumbai

گزشتہ دو سال تک فوج کی بھرتی کووڈ کے بہانے روک دی گئی تھی۔ پچھلے ہفتے جب سرکارنے نئی اسکیم کا اعلان کیا تو ان لڑکوں کے جو تین سال سے جی توڑ محنت کررہے تھے اور بھرتی کے ابتدائی دو مرحلے کامیابی سے طے کرچکے تھے،سب خواب چکنا چور ہوگئے اور وہ غم و غصے سے پاگل ہوگئے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 تینوں ا فواج کے سربراہان، مرکزی وزراء، بی جے پی کے ترجمان،گودی میڈیا کے اینکرزاور اب ملک کے صنعت کار بھی اگر زورشور سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگنی پتھ نہایت شاندار اور بے شمار خوبیوں والی اسکیم ہے تو پھر میرا خیال یہ ہے کہ خامی اس کے نام میں ہوگی۔ مودی سرکار نے فوج میں جوانوں کی بھرتی کی اس برانڈ نیو اسکیم کو اگر اگنی پتھ(انگاروں کی رہگذر) کے بجائے کوئی اور نام دیا ہوتاتوملک بھر میں یوں آگ نہ بھڑکی ہوتی۔ صرف والدین کو بچوں کے ہی نہیں بلکہ دیش کے حکمرانوں کو سرکاری یوجناؤں کے ناموں کا انتخاب بھی کافی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ولیم شیکسپیئر کے’’نام میں کیا رکھا ہے؟‘‘ والا مقولہ اب فرسودہ اور بے معنی ہوچکا ہے۔ چار پانچ دنوں تک ملک کے متعدد صوبے بے روزگار نوجوانوں کے ان قابل مذمت پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی آگ میں جھلستے رہے۔ درجنوں ٹرینیں، بسیں، موٹر سائیکلیں پھونک دی گئیں، سیکڑوں ٹرینیں منسوخ کردی گئیں اور ریلوے کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ بی جے پی لیڈروں کے گھروں اور گاڑیوں پر حملے کئے گئے اور حکمراں پارٹی کے دفتروں میں آگ لگادی گئی۔ کروڑوں کی سرکاری املاک جلاکر خاک کردی گئیں اور ملک کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا گیا لیکن نہ تو چوراہوں پر دنگائیوں اور بلوائیوں کی تصاویر کی نمائش کی گئی اور نہ ہی ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ایک دو مقامات کے علاوہ پولیس نے شرپسندوں کو روکنے کیلئے زیادہ طاقت بھی استعمال نہیں کی۔ سب سے زیادہ ہنگامہ  اور تباہی بہار، اترپردیش، ہریانہ اور اتراکھنڈ جیسے ان صوبوں میں ہوئی جہاں بی جے پی / این ڈی اے کی حکومتیں ہیں۔ہوسکتا ہے کہ تخریب کاری اور تشدد میں ملوث زیادہ تر نوجوان پہلے مودی بھکت رہے ہوں اور انہوں نے بی جے پی کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا ہو۔وارانسی کے کمشنر ستیش بھاردواج کے اس بیا ن’’یہ اپنے ہی بچے ہیں جنہیں سمجھا نے بجھانے کی ضرورت ہے ‘‘کو اگر اس تناظر میں دیکھیں گے توپوری کرونالوجی سمجھ میں آجائے گی۔ سیاستدانوں اور گودی میڈیا نے معاشرے میں تعصب اور تفریق کا زہر اس قدر گھول دیا ہے کہ اب مظاہرین بھی’’ اپنے‘‘ اور’’ پرائے‘‘ کے زمروں میں بانٹے جانے لگے ہیں۔   مستقبل کے اگنی ویروں کے تئیں پولیس کے نرم اور ہمدردانہ رویے کاموازنہ کیجیے اس وحشیانہ رویے سے جس کا مظاہرہ اس نے اترپردیش اور جھارکنڈ میں نپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے مظاہرین کے خلاف کیا تھا۔ اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر کہیں بھی ان مظاہرین نے اتنے بڑے پیمانے پر آتشزنی نہیں کی تھی اور نہ ہی اتنا تشددبرپا کیا تھا۔پھر بھی پتھر پھینکنا سنگین جرم قرار پایا اور پتھر بازوں کو عبرت ناک سزا کا حقدار سمجھا گیا۔کیا پولیس انہیں بھی’’اپنے بچے‘‘ تصور کرکے سمجھا بجھاکر گھر نہیں بھیج سکتی تھی؟ کیا انہیں جیلوں میں ٹھونسنے کے قبل تھانوں میں ان کی ہڈیاں توڑنا ضروری تھا؟ کیا غریبوں کے آشیانوں کو پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کئے بغیر پتھر بازی کا انتقام نہیں لیا جاسکتا تھا؟ کیا ریاست جو ماں جیسی ہوتی ہے، اپنے ہی بچوں سے انتقام لے سکتی ہے؟
 اگنی پتھ کے خلاف ردعمل اتنا شدید اور اتنا پر تشدد کیوں ہوا؟مظاہرین کی برہمی کو سمجھنے کے لئے ان کے معاشرتی، اقتصادی اور تعلیمی   بیک گراؤنڈکو سمجھناپڑے گا۔ جو نوجوان فوج میں سپاہی کے پوسٹ پر بھرتی ہوناچاہتے ہیں وہ زیادہ تر دیہی علاقوں کے غریب کسانوں کے میٹرک پاس لڑکے ہوتے ہیں۔ان کے لئے فوج کی نوکری اپنے کنبے کو مفلسی اور محرومی کی لعنت سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ ایک بارفوج میں بھرتی ہوجانے کے بعد وہ تقریباً ۴۰؍سال کی عمر تک کام کرتے ہیں اور سبکدوش ہونے کے بعد بھی انہیں نہ صرف تاعمر پنشن ملتی ہے بلکہ سابقہ فوجی کی دیگر مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ انہیں فوجی ہونے کی وجہ سے معاشرے میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہ فوجی ہی کہلاتے ہیں۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی ہونے والوں کو نہ اقتصادی سیکورٹی ملے گی اور نہ ہی فوجی کابا احترام منصب: انہیں’اگنی ویر‘ جیسے فلمی لقب پر گذارا کرنا پڑے گا۔  گزشتہ دو سال تک فوج کی بھرتی کووڈ کے بہانے روک دی گئی تھی۔  پچھلے ہفتے جب سرکارنے نئی اسکیم کا اعلان کیا تو ان لڑکوں کے جو تین سال سے جی توڑ محنت کررہے تھے اور بھرتی کے ابتدائی دو مرحلے کامیابی سے طے کرچکے تھے،سب خواب چکنا چور ہوگئے اور وہ غم و غصے سے پاگل ہوگئے۔  مودی جی کا فرمان آگیا ہے:اگنی ویر لوگوں کو ناخوشگوار فیصلہ محسوس ہوسکتا ہے لیکن ملک کی تعمیر وترقی کیلئے یہ ضروری ہے۔ مطلب یہ کہ سرکار اپنے فیصلہ پر اڑی ہے اور نئی اسکیم کے تحت بھرتیاں جلدشروع ہوجائیں گی۔ جن گھروں میں فاقے دستک دے رہے ہوں ان گھروں کے پریشان حال نوجوانوں کو اس وقت ایک بڑی اگنی پریکشا کا سامنا ہے۔ فوج کوطویل مدتی کریئر بنانے کا خواب بکھرنے کے بعد اس عارضی اسکیم میں شامل ہونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے لاکھوں لڑکے اگنی ویر میں بھرتی کے لئے تیار ہوجائیں گے۔اس کے بعد مودی بھکت اور درباری میڈیا نئی اسکیم کو مودی جی کا ماسٹر اسٹروک قرار دیں گے۔ پھرکئی دنوں تک نیوز چینلزپر’’ماہرین‘‘ آکر ہمیں یہ باور کرائیں گے کہ مودی سرکار کی پالیسیاں اس قدر انقلابی اور وقت سے آگے کی ہوتی ہیں کہ شروع میں کند ذہن عوام انہیں سمجھنے میں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔جیسے مسلمانوں نے نئے شہریت قانون کی اہمیت اور کسانوں نے زرعی قوانین کی افادیت سمجھنے میں غلطی کی تھی، اسی طرح نوجوان اگنی پتھ جیسے نئے منصوبے کی قدرو منزلت سمجھنے سے پہلے قاصر تھے۔ اب توبی جے پی کے ایک منتری اور ایک نیتا نے ان اندیشوں کو بھی دور کردیا ہے کہ چار سال بعد ہزاروں اگنی ویر بیکار ہوجائیں گے۔ نیتا جی نے یہ خوش خبری سنادی ہے کہ بی جے پی کے دفاتر میں اب نئے واچ مینوں کی بحالی کرتے وقت اگنی ویروں کو ترجیح دی جائے گی اور منتری جی نے بھی یہ اعلان کردیا ہے کہ اگنی ویروں کو کپڑے دھونے، گاڑی چلانے اور حجامت کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ چار سال بعد وہ دھوبی، ڈرائیور اور باربر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں۔پچھلے چند برسوں میں ہم لوگوں نے پکوڑے بیچنے کو بھی روزگار تسلیم لیاہے۔ کچھ دن اور انتظار کریں، جو نوجوان مادر وطن کی حفاظت کیلئے سرحدوں پر اپنی تعیناتی کی خواہش دلوں میں رکھتے تھے وہ چار سال بعد اگنی ویر کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے بی جے پی کے دفتر کی چوکیداری کو بھی اپنے لئے باعث سعادت تصور کرنے لگیں گے۔

agneepath Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK