Inquilab Logo Happiest Places to Work

اللہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ کی عبادت کریں گے

Updated: August 21, 2020, 11:51 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

طائف کے سفر میں جب آپؐ زخموں سے چور ہوکر ایک باغ میں بیٹھے دعا میں مصروف تھے، تب اللہ کے حکم سے پہاڑوں کا فرشتہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اگر آپ ؐکا حکم ہو تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ملا کر ایک کردوں جن کے درمیان مکہ اورطائف کے لوگ رہتے ہیں، لیکن قربان جائیے رسول اکرم ﷺپر کہ اتنی اذیتیں جھیلنے اور دُکھ اُٹھانے کے باوجود رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:

Taif Park
طائف پارک

حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی سیرت میں حضرت عروۃ بن الزبیرؓ کی روایت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اہل قریش ابو طالب کی وفات تک بزدل بنے رہے، اسی طرح کی ایک روایت ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے مستدرک حاکم میں نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش کے لوگ بزدل بنے رہے یہاں تک کہ ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ (السیرۃ النبویہ: ۲/۱۴۶) ایسا لگتا ہے کہ اولاد بنی ہاشم کی قوت وشوکت حضرت ابو طالب کی ذات سے نمایاں تھی، ان کے بعد وہ کمزور پڑ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے خلاف جو ریشہ دوانیاں اور سازشیں وہ احتیاط کے ساتھ کرتے تھے اب کھل کر کرنے لگے، اور جسمانی اذیتیں بھی پہنچانے لگے، کبھی نماز کی حالت میں کمر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی، کبھی یہ کوشش کی گئی کہ آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر کھینچا جائے اور گلا گھونٹ دیا جائے، ایک مرتبہ ابو جہل عین حالت نماز میں پتھر لے کر سر پر مارنے کے لئے آگے بڑھا پھر کسی خوفناک منظر سے گھبرا کر الٹے پاؤں واپس آگیا۔
 یہ اور اس طرح کے واقعات پیش آنے لگے، مشرکین عددی اعتبار سے بھی زیادہ تھے اور طاقت و قوت کے لحاظ سے بھی ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا اس لئے وہ ہر نئے دن نئی ایذاؤں کے ساتھ پیش آنے لگے، ایسا لگتا ہے کہ حضرت حمزہؓ جیسے شیر دل اور بہادر چچا اور حضرت عمرؓ بن الخطاب جیسے نڈر اور بے خوف و جاں نثار صحابی بھی ان کی تکثیری قوت وشوکت کے سامنے بے بس تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ کی تلاش میں طائف جانا پڑا، آپ خود تشریف لے گئے، یا مشرکین مکہ نے آپ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم اس سلسلے میں زیادہ امکان یہی ہے کہ مشرکین نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا، اس کی تائید طائف سے واپسی کے واقعے سے ہوتی ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
lطائف کا سفر:
طائف مکہ مکرمہ سے پچاس میل کے فاصلے پر مشرق کی طرف سطح سمندر سے ۵۶۰۰؍ فٹ کی بلندی پر واقع ایک پہاڑی شہر ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آغازِ عہدِ رسالت میں یہ شہر مذہبی اعتبار سے مشرکین کے لئے نہایت اہمیت کا حامل تھا، یہاں کے بت کا نام لات تھا اس کو طائف کے جس بت خانے میں رکھا گیا تھا اس کے متولی قبیلۂ بنو ثقیف کے لوگ تھے۔ حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد جب مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے میں اور تکلیفیں پہنچانے میں ساری حدود پار کردیں تو آپؐ اس خیال سے طائف تشریف لے گئے کہ وہاں کا قبیلۂ بنو ثقیف ایک بڑا قبیلہ ہے اور وہ عزت و شرافت میں قریش کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے، اگر اس قبیلے پر محنت کی جائے، اسے دین اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کو وہاں پناہ مل جائے گی اور انہیں قریش کے مظالم سے نجات بھی مل جائے گی، نیز دین کا دائرہ بھی وسیع ہوگا اور مکہ کے قریب ایک بڑا شہر اسلام کا مرکز بن جائے گا، لیکن اہل طائف کی قسمت میں یہ سعادت نہیں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا سفر حضرت زید ؓبن حارثہ کو ساتھ لے کر کیا۔ مؤرخین نے اس سفر کے آغاز کی تاریخ ۳۰؍ شوال   ۱۰؍ نبوی مطابق ۶۲۰ ء لکھی ہے۔
طائف پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے کے تین معزز افراد عبد یا لیل، مسعود اور حبیب سے ملاقات کی، یہ تینوں بنو ثقیف کے سردار عمرو بن عمیر بن عوف کے بیٹے تھے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری اُمید تھی کہ یہ تینوں سردار آپؐ کی دعوت قبول کرلیں گے، لیکن انہوں نے نہایت بے رخی بلکہ انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سے ایک نے تو یہ کہا کہ اگر اللہ نے تمہیں نبی بناکر بھیجا ہے تو وہ ابھی جاکر کعبے کے پردوں کو پھاڑ ڈالے گا، دوسرے نے کہا کہ کیا خدا کو تمہارے علاوہ کوئی دوسرا شخص نبی بنانے کے لئے نہیں ملا تھا، تیسرے نے جواب دیا کہ میں تم سے بات نہیں کروں گا اگر تم واقعتاً اللہ کے نبی ہو تو میں تمہاری بات رد کرنے کا گناہ مول نہیں لے سکتا اور اگر تم نبی نہیں ہو بلکہ جھوٹ بول رہے ہو تو پھر تم اس قابل نہیں ہو کہ تم سے بات کی جائے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا، اس دوران آپؐ ان لوگوں سے اور دوسرے سرکردہ افراد سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے، اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ عمرو بن عمیر بن عوف کے تینوں بیٹوں کا یہ جواب پورے شہر طائف کے لوگوں کو معلوم ہوگیا، اس لئے آپؐ جس شخص کے پاس بھی گئے اس نے بے اعتنائی برتی۔ اگر بات یہیں تک رہتی تب بھی کوئی حرج نہیں تھا۔ انہوں نے اس خیال سے کہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نوجوانوں کو متاثر نہ کرجائیں اپنے شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا، وہ لوگ راستے میں ٹولیاں بنا کر کھڑے ہوگئے، آپؐ جہاں سے گزرتے آوارہ نوجوانوں کے یہ گروپ آپؐ پر فقرے کستے، آپؐ کا مذاق اڑاتے اور آپؐ پر پتھر بھی پھینکتے۔ حضرت زید بن حارثہ پوری کوشش کرتے کہ آپؐ کے جسد اطہر پر کوئی پتھر آکر نہ لگے، اس کوشش میں ان کا تمام سر زخمی ہوگیا اور اس سے خون بہنے لگا، لیکن جب چاروں طرف سے پتھر برس رہے ہوں تو یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ پتھروں کی یورش سے محفوظ رہیں، چنانچہ آپؐ کو بھی پتھر لگے اور آپ کا جسد اطہر بھی زخمی ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخموں کی تکلیف سے زمین پر بیٹھ جاتے تو وہ بدبخت لڑکے آپ کو اٹھا کر کھڑا کردیتے، زخموں سے بدن چور ہوگیا، خون ٹخنوں تک بہنے لگا، آپ پتھروں کی چوٹ کھاتے کھاتے طائف سے باہر نکل آئے، سامنے ہی انگوروں کا ایک باغ تھا، جس کے مالک عتبہ اور شیبہ دو بھائی تھے، آپ اس باغ میں داخل ہوگئے۔ (سیرت ابن ہشام: ۲/۳۰۴، کتاب الوفاء، ابن جوزی ص: ۲۱۴)۔
یہ دونوں بھائی اپنے باغ میں موجود تھے، اور اوباش لڑکوں کا جو جھنڈ آپ کے پیچھے لگا ہوا تھا اور جس طرح پتھر بازی کررہا تھا اور قہقہے لگا رہا تھا وہ دونوں سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ روایات میں ہے کہ اسی دوران آپؐ کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو قبیلۂ قریش کی کسی شاخ سے تعلق رکھتی تھی اور بنو ثقیف میں بیاہ کر آئی تھی۔ طائف میں آپ ﷺ کو اس کی پوری توقع تھی کہ بنو ثقیف کے لوگ اس سسرالی رشتے کا ضرور خیال کریں گے، کیوں کہ عربوں میں رشتہ داریاں نبھانے کا بڑا رواج تھا، مگر بنو ثقیف تو قریش سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے، انہوں نے جو کام دس سال کے عرصے میں نہیں کیا تھا، وہ لوگ یہ کام چند روز میں کرگزرے۔ واپسی پر جب اس عورت سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے اس سے صرف اتنا کہا: ’ماذا لقینا من احماء ک‘  (ہمیں تیری سسرال والوں کی طرف سے کیا صلہ ملا)۔
lرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پُرسوز دعا:
باغ میں پہنچنے کے بعد آپ ایک طرف بیٹھ گئے، جب کچھ سکون ملا تو یہ دعا فرمائی، دعا کے ان الفاظ سے آپ ﷺکے دکھ اور کرب کا اور ساتھ ہی آپ کے صبر وضبط کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
’’اے اللہ! میں تجھ سے اپنی کمزوری، تدبیر کی کمی، اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے توقیری کی شکایت کرتا ہوں، اے ارحم الراحمین! تو تمام کمزوروں کا رب ہے، اور میرا رب ہے، تو مجھے کس کے حوالے کر ے گا، کسی ایسے اجنبی دشمن کے جو مجھے ترش روئی سے دیکھتا ہے یا کسی ایسے قریبی دوست کے جس کو تو میرے امور کا مالک بنائے، اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں، مگر تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسعت رکھتی ہے، میں تیری ذات والا صفات کے نور سے پناہ لیتا ہوں جس سے تمام ظلمتیں منور ہوئیں، اور اسی نور سے دنیا وآخرت رواں دواں ہے، میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو، یا تو مجھ سے ناراض ہوجائے، اور تیری ہی طرف رجوع ہے یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے، تیرے بغیر نہ کسی کے پاس کوئی طاقت ہے اور نہ کسی طرح کی قدرت ہے۔‘‘(مجمع الزوائد: ۶/۳۵، رقم الحدیث: ۹۸۵۱، معجم الکبیر الطبرانی:۱۴/۱۳۹، رقم الحدیث: ۱۴۷۶۴)
lاور دعا قبول ہوگئی:
دُعا تو قبول ہونی ہی تھی کیوں کہ یہ ایک پیغمبر کی دُعا تھی اور پیغمبر کی ہر دُعا، دعائِ مستجاب ہوتی ہے پھر یہ ایک مظلوم مسافر کے دل کی پکار بھی تھی، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کیا آپ پر کوئی دن اُحَد والے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری قوم سے جو تکلیفیں مجھے پہنچیں وہ تو پہنچیں ہی (ان سے قطع نظر) سب سے زیادہ سخت دن میرے لئے عقبہ والا دن تھا، اس دن میں نے خود کو ابن عبد یالیل پر پیش کیا تھا، اس نے میری بات قبول نہیں کی، میں وہاں سے چلا، اس وقت میں رنج وغم سے نڈھال تھا، مقام قرن الثعالب میں پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا، میں نے سر اٹھاکر دیکھا تو بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا، اس میں جبریل امین موجود تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے وہ تمام باتیں سن لی ہیں جو آپؐ کی قوم نے آپؐ سے کہی ہیں اور جو جواب انہوں نے دیا وہ بھی سن لیا ہے، اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کا ایک فرشتہ بھیجا ہے، تاکہ آپؐ اسے کوئی حکم دینا چاہیں تو دیں، اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی، سلام کیا اور کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ مجھے جو حکم بھی دینا چاہیں وہ دے سکتے ہیں، اگر آپ کا حکم ہو تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ملا کر ایک کردوں، (ان سے مراد وہ پہاڑ ہیں جن کے درمیان مکہ اورطائف کے لوگ رہتے تھے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے جواب میں ارشاد فرمایا: نہیں! میں اللہ سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (صحیح البخاری: ۴/۱۳۹، رقم الحدیث: ۳۲۳۱، صحیح مسلم: ۵/۱۸۱، رقم الحدیث: ۱۷۹۵)
قربان جائیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ اتنی اذیتیں جھیلیں، اس قدر دکھ اٹھائے، لوگوں نے مذاق اڑایا، غنڈوں کو آپؐ کے پیچھے لگایا، انہوں نے پتھر برساکر زخمی کیا، مگر آپ تسلیم ورضا کے پیکر بنے رہے، حقیقت میں آپ رحمۃ للعالمین تھے، مجسم شفقت و سراپا رحمت تھے، آپؐ چاہتے تو پہاڑوں کے فرشتے کو حکم دے کر ان قبیلوں کو نیست ونابود اور تباہ وبرباد کراسکتے تھے، جنہوں نے آپؐ کے ساتھ تکلیف دہ برتاؤ کیا تھا، مگر آپ نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ ہلاک ہوں، کیوں کہ آپ کو اللہ کی ذات سے یہ امید تھی کہ ان قوموں کی آنے والی نسلیں توحید کی علم بردار ہوں گی، اگرچہ یہ لوگ آج اللہ کی وحدانیت کے معترف نہیں ہیں مگر کل کو ان کے بچے ضرور اللہ کو ایک مانیں گے، اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہیں کرینگے اور اس کی عبادت کرینگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK