Inquilab Logo Happiest Places to Work

زندہ دِلی اور ہنسنا مسکرانا منع نہیں، لیکن شرعی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے

Updated: May 22, 2026, 5:05 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

دنیا کے مختلف مذاہب میں مذہبی پیشواؤں کے لئے شادی کی اجازت کے الگ الگ اصول موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اکثر مذاہب اپنے مذہبی قائد اور پیشوا کو شادی کی اجازت نہیں دیتے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا  کے مختلف مذاہب میں مذہبی پیشواؤں کے لئے شادی کی اجازت کے الگ الگ اصول موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اکثر مذاہب اپنے مذہبی قائد اور پیشوا کو شادی کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے برخلاف اسلام میں چاہے کوئی امام ہو، عالم ہو، محدث ہو یا زندگی کے اور شعبہ سے تعلق رکھنے والا شخص ہو، ہر کسی کے لئے نکاح کو مسنون قراردیا گیا ہے بلکہ اس کو ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بتلایا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو منع قراردیا اوراعلان کیا کہ شادی نبی کریمؐ کی سنت ہے۔ ایک شادی ہی کیا، مکمل اسلامی تعلیمات کا خلاصہ اگر تیار کیا جائے تو ایسے بیشمار اسلامی احکامات، واقعات اور حقائق سامنے آتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ایک خشک اور کھردری تعلیمات کا مجموعہ نہیں  ہے۔ اسلام تو’زندگی زندہ دلی کانام ہے‘ کا ایک حسین مرقع پیش کرتا ہے۔ البتہ زندگی سے لطف اندوزی کے عالم میں کسی بھی صورت میں اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جو شرعی حدود اللہ عزوجل کی جانب سے طے کی گئی ہیں ان کو پارکیا جائے۔ 

روایات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے پوچھا: کیا نبی کریمؐ کے صحابہؓ ہنستے بھی تھے؟ حضرت ابن عمرؓ نے ارشاد فرمایا  :’ہاں، اور ان کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔‘اس ایک جملے سے مزاح کے معاملے میں توازن اور فراخدلی کا  پیغام ملتا ہے کہ اسلام نے اجازت دی ہے، انسان ہنسے، مسکرائے، زندگی سے لطف اندوز ہو لیکن اول تو یہ کہ اس کی ایک حد ہو ، یہ نہیں کہ ساری زندگی کو ہی ہنسی اورقہقہہ بنادیا جائے ، جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا ریلس، اور لافٹر شوز کے ذریعہ کی کوشش کی جاتی ہےاور دوسرے یہ کہ ہنسی اور دل لگی کے لئے انسان ہرگزہرگزکوئی ایسا کام نہ کرے جو احکام ِ الٰہی سے متصادم اور شریعت اسلامیہ کے خلاف ہو۔ 

اسلام کی تاریخ میں اس کی بیشمار مثالیں ملتی ہیں کہ کس طرح اول دَور ہی سے ہر اسلامی طرز زندگی میں زندہ دلی انسانی زندگی کا ایک  لازمی جزو  رہا ہے۔ ابو عثمان الجاحظ عباسی دور کا ایک بہت بڑا عربی نثر نگار گزرا ہے۔ اس کی مشہور زمانہ تصنیف ’کتاب البخلاء‘ ہے۔ یہ کتاب کنجوسوں کے لطائف پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں مصنف اپنی مزاح نگاری کا دفاع کرتے ہوئے سورۃ النجم کی آیت نمبر ۴۴کا حوالہ دیتا ہے:  ’’اوریہ کہ وہی (اللہ) ہے جو  ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ ‘‘  یہ آیت  ذکر کرنے کے بعد جاحظ لکھتا ہے کہ ’اللہ عزوجل اپنی مخلوق پر کسی ناقص یا بری چیز کے احسان کا تذکرہ نہیں کرتا۔‘  

اس آیت کی تفسیر میں امام بغویؒ نے حضرت جابر بن سمرہؓ کی ایک حدیث ذکر کی ہے: ’’ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے پوچھا: کیا آپ حضرت محمدؐ کی مجلس میں بیٹھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، بہت زیادہ۔مزید فرمایا کہ صحابہؓ بیٹھتے، اشعار پڑھتے اور جاہلیت کے زمانے کی باتیں ذکر کرتے تھے، پھر وہ ہنستے تو نبی  ؐبھی ان کے ساتھ مسکرا دیتے تھے۔‘‘ (ترمذی)

اس حدیث میں شعر پڑھنے سے مراد علماء نے شریعت اسلامیہ اور دین کے متعلق اشعار مراد لئے ہیں۔لیکن مجموعی طور پریہ حدیث آپؐ کا اپنے صحابہؓ کے ساتھ کھلے دل سے اور تواضع سے ملنا اورصحابہ ؓ کو کسی قسم کا تکلف نہ ہونا ثابت کرتی ہے  اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمؐ کی مجالس میں صرف اور صرف دینی تعلیمات نہیں ہوتی تھیں بلکہ کبھی کبھار صحابہ کرامؓ کچھ دیگر باتیں بھی اس میں شامل کرتے تھے۔ اسلئے کہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس  پر ایک ہی چیز باربار لادی جائے، پھر وہ دین کی باتیں ہی کیوں نہ ہو تو اس میں اکتاہٹ پیداہوجاتی ہے۔ ان تعلیمات کا مقصد دراصل صرف ایک ہے: انسانی طبیعت، انسانی مزاج، انسانی سوچ کو ایک حد کے اندر لذت کا سامان فراہم کرنا۔ اسلئے کہ جب یہ نہیں ہوتا ہے توعام انسان کا دل اداس، غمگین اور دکھ سے لبریز ہوجاتا ہےاور پھر وہ عبادت و ریاضت کو بھی ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لئے صحابہ کرامؓ  کی زندگی میں ایسے واقعات ملتےہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی نری خاموشی اور چند بوجھل  قدموں کا نام نہیں تھی۔ 

آج ہمارے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ غلط  پروپیگنڈہ کے ذریعہ اسلام کی ایسی شکل دنیا کے سامنے پیش کردی گئی ہے جس پر عمل کے تصور سے ہی آج کے دور کے انسان کے ہوش اڑجاتے ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اسلام اس کی ہنستی کھیلتی زندگی سے کوسوں دورکچھ سخت مذہبی قوانین اور اصولوں کانام ہے۔ ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے لئےاسلام کی زندہ دلی کی تعلیمات پر خود عمل کرنا اور ان کو دوسروں تک پہنچانا آج کے دَورکی ایک بہت بڑی ضرورت بن گئی ہے ۔اس سے نہ صرف یہ  کہ غلط تصورات دورہوں گے  بلکہ خود مسلم معاشرہ میں شرعی حدود کے ساتھ زندگی سے اصلی لطف اندوزی اورحقیقی زندہ دلی کا پیغام عام  ہوگا۔ خدا ہم سب کو غور و فکر کی توفیق عطا  فرمائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK