قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ، اسباب، نتائج، مثالیں، عملی حل اور جامع رہنمائی۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 4:52 PM IST | Alisha Sharif Mominati | Mumbai
قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ، اسباب، نتائج، مثالیں، عملی حل اور جامع رہنمائی۔
آج کا زمانہ انسانیت کے ایک بہت بڑے امتحان، فتنوں کا شدید طوفان، اخلاقی زوال کا دور اور دلوں کی بے چینی کا عروج ہے۔ دلوں میں بے قراری، بے چینی اور اضطراب اپنے انتہائی درجے پر پہنچ چکا ہے۔ لوگ رات کو بستر پر لیٹتے ہیں تو آنکھوں میں نیند نہیں ہوتی، آنکھیں سکون کی تلاش میں بھٹکتی ہیں مگر کہیں آرام نہیں ملتا۔ نوجوان نسل الجھنوں، نفسیاتی تناؤ، ڈپریشن، اضطراب، خود کو کم تر سمجھنے کے احساس، بے مقصدیت اور الٹی سیدھی سوچوں کا شکار ہے۔ زندگی گناہوں کے ایک زبردست شور شرابے میں ڈوب چکی ہے۔ سود اور ربا، جھوٹ، غیبت، سوشل میڈیا کی غیر معمولی لت، مادّی دوڑ، اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی انحطاط نے پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔یہ کھوکھلا پن تو اب نظر بھی آنے لگا ہے۔
لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں، جدید ترین ٹیکنالوجی کے آلات استعمال کر رہے ہیں، اربوں روپے کما رہے ہیں، تفریح کے نئے نئے ذرائع ایجاد اور استعمال کر رہے ہیں، دنیا بھر کے سفر کر رہے ہیں، مگر دل کا حقیقی سکون غائب ہے۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں، رشتے بے معنی اور سطحی ہوتے جا رہے ہیں، خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی امراض عام ہوتے جا رہے ہیں، اور معاشرتی انحطاط روز افزوں ہے۔ خاص طور پر نوجوان اس دور کے سب سے بڑے اور خطرناک شکار ہیں کیونکہ یہ وہ نازک اور اہم عمر ہے جب جذبات انتہائی شدید ہوتے ہیں۔ سماجی دباؤ، کریئر کی فکر، والدین کی توقعات، دوستوں کا اثر، مستقبل کی غیر یقینی اور ’’میں کیا بنوں گا‘‘ کی فکر انسان کو گھیر لیتی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فحش مواد کی آسانی، آزادانہ ماحول، ’’فریڈم‘‘ اور’’لبرٹی‘‘ کے نعرے، مذہب کو ’’پرانا‘‘ اور ’’دقیانوس‘‘ سمجھنے کا رجحان، والدین کی نگرانی میں کمی اور مغربی ثقافت کا غلبہ ، ان سب نے مل کر ایک ایسا طوفان برپا کر دیا ہے کہ نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ وہ دور ہے جس کی پیش گوئی نبیؐ کریم نے صدیوں پہلے فرمائی تھی۔ مگر اللہ رب العزت نے اپنے پاک کلام قرآن مجید اور اپنے حبیب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں نہ صرف اس فتنوں بھرے دور کا مکمل نقشہ پیش کیا ہے بلکہ اس کا مکمل علاج بھی بتا دیا ہے۔ یہ َدور اللہ کی طرف لوٹنے، سچی توبہ کرنے، اپنی اور معاشرے کی اصلاح کرنے اور آخرت کی تیاری کا ہے ۔
دل کی بے سکونی: گہرے اسباب، نتائج اور قرآن و حدیث میں علاج
انسانی دل اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اس کی اصلی غذا اور قرار اللہ کی یاد ہے۔ جب دل اللہ سے دور ہو جاتا ہے تو وہ بے چین، بے قرار اور اداس رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘
(سورہ الرعد:۲۸)
اس آیت مبارکہ سے واضح ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز — دولت، شہرت، عیاشی، جدید سہولیات، سفر، شاپنگ، فلموں اور ڈراموں کی دنیا یا جسمانی لذتیں — دل کو حقیقی، دائمی اور پائیدار سکون نہیں دے سکتیں۔ سکون صرف اللہ کی یاد، پانچ وقت کی نماز، قرآن کی تلاوت، ذکر الٰہی اور اللہ سے گہرے تعلق میں ہے۔
نبیؐ کریم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جس میں فتنے اس طرح آئیں گے جیسے رات کی تاریکی کے ٹکڑے ٹکڑے۔ (متفق علیہ)
نوجوان اس فتنے کا مرکزی نشانہ ہیں۔ والدین کی توقعات اور کریئر کا دباؤ، ’میں آزاد ہوں‘ کا احساس اور مذہب و اخلاقیات سے دوری نے ان کی زندگی کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے نوجوان ڈپریشن، تنہائی، بے مقصدیت اور خودکشی کے خطرے تک پہنچ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اصحابِ کہف کی مثال دی ہے۔ وہ چند نوجوان تھے جو کفر و بت پرستی کے دور میں اللہ پر ایمان لائے اور اپنے رب کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا۔ اللہ نے فرمایا: ’’بیشک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے لئے (نورِ) ہدایت میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ (سورہ الکہف:۱۳)
یہ مثال آج کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے کہ فتنوں کے طوفان میں بھی اللہ پر بھروسہ کرکے سیدھا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور اللہ ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے۔
گناہوں کا شور، ان کے تباہ کن نتائج اور
معاشرتی اثرات
گناہ دل کو سخت کر دیتے ہیں، ایمان کا نور چھین لیتے ہیں، معاشرے کو تباہ کرتے ہیں اور آخرت میں شدید عذاب کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ہرگز نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر ان اَعمالِ (بد) کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے۔‘‘
(سورہ المطففین:۱۴)
اس بے سکون دور سے نکلنے کے لئے اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں واضح، عملی اور مکمل راستہ مرحمت فرمایا ہے اور اس کی جانب رہنمائی کی ہے:
نماز کی پابندی اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادائیگی:’’(اے حبیب ِ مکرّم!) آپ وہ کتاب پڑھ کر سنائیے جو آپ کی طرف (بذریعہ) وحی بھیجی گئی ہے، اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ (سورہ العنکبوت:۴۵)
تلاوت قرآن: قرآن مجید کی باقاعدگی سے تلاوت، تدبر، ترجمہ اور عمل دل کا زنگ صاف کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے اور سکون بخشتا ہے۔
توبہ و استغفار: اللہ فرماتا ہے: ’’آپ فرما دیجئے اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا ًبڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورہ الزمر:۵۳)
نیک صحبت کا انتخاب اور بری صحبت سے مکمل اجتناب : نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا دیکھو کہ تم کس کا دوست بنتے ہو۔‘‘ (ابو داؤد)
امید، بشارت اور آخرت کی کامیابی کا پیغام : اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ جو شخص سچی توبہ کرے گا، اللہ اس کے برے اعمال کو نیکیوں میں بدل دے گا، جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا:’’مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ (سورہ الفرقان:۷۰)