• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’ایمان باللہ‘‘ کہنےمیں اگرچہ صرف ایک بات ہے،مگرحقیقتاًوہ پورےدین کاقائم مقام ہے

Updated: December 08, 2023, 5:03 PM IST | Maulana Sadruddin Islahi | Mumbai

دین کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ایمان باللہ ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ اہم بھی ہے، اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر کسی شخص کے اندر وجود اسلام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، حتیٰ کہ یہ کہنا بھی کسی طرح غلط نہ ہوگا کہ دین کا بنیادی پتھر فی الواقع تنہا یہی ایک خوبی (ایمان باللہ) ہے اور باقی تمام چیزیں اس کے مقابلے میں فروع کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Belief in Allah is actually the point that expands and forms the whole circle of religion. Photo: INN
ایمان باللہ ہی فی الواقع وہ نقطہ ہے جو پھیل کر دین کا پورا دائرہ بناتا ہے۔ تصویر : آئی این این

دین کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ایمان باللہ ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ اہم بھی ہے، اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر کسی شخص کے اندر وجود اسلام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، حتیٰ کہ یہ کہنا بھی کسی طرح غلط نہ ہوگا کہ دین کا بنیادی پتھر فی الواقع تنہا یہی ایک خوبی (ایمان باللہ) ہے اور باقی تمام چیزیں اس کے مقابلے میں فروع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی دین و شریعت کی ساری تعلیمات اور ان کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے کم سے کم لفظوں میں ان کا مغز اور جوہر مخاطب کے سامنے رکھنا ہو تو کلام الٰہی اور کلام رسولؐ دونوں ہی میں صرف ایمان باللہ کا ذکر کردیا جائیگا۔ مثلاً قرآن ایک جگہ کہتا ہے:
 ’’یقیناً ان لوگوں پر، جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر اپنے اس قول پر پوری طرح جمے رہے، فرشتے یہ پیام لے کر اترتے ہیں کہ اب تمہیں نہ کسی شے کا ڈر ہونا چاہئے نہ کسی چیز کا غم، اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔‘‘  (حم ٓالسجدہ:۳۰)۔ بعینہ یہی بات اور یہی انداز گفتگو نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں بھی موجود ہے، اور بکثرت موجود ہے۔ مثلاً ایک بار کا واقعہ ہے، حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ نے آپ ؐ سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! اسلام کے متعلق مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ آپؐ کے بعد پھر مجھے کسی سے اس کیلئے کچھ پوچھنا نہ پڑے۔‘‘ 
 آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر جم جاؤ۔‘‘ (مسلم)
اسی طرح حضرت ابوذرؓ کی مشہور روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
 ’’جس شخص نے بھی کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور مرتے دم تک اس کا یہی عقیدہ رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اور یہ اسی لئے ہے کہ ’’ایمان باللہ‘‘ کہنے میں اگرچہ صرف ایک بات ہے، مگر حقیقتاً وہ پورے دین کا قائم مقام ہے، اور اگر اس کی گہرائیوں میں ڈوب کر دیکھئے تو تہہ میں دینی حقائق اور مطالبات کی پوری دُنیا آباد نظر آئے گی کیونکہ جس کسی کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی تمام صفات کی صحیح معرفت حاصل ہوگی وہ اس تصور سے بیگانہ نہیں رہ سکتا کہ جزا و سزا کا ایک دن آنے والا ہے، نہ وہ اس احساس سے بے بہرہ ہوگا کہ اپنے پروردگار اور معبود حقیقی کی یاد میری زندگی کا ایک لازمی وظیفہ ہونا چاہئے، اور نہ وہ اس تلقین کا محتاج ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے مجھے اپنا سب کچھ قربان کردینا چاہئے اور اس کے احکام کی اطاعت میں کسی کمزوری، دل شکستگی اور مشکلات کے مقابلے میں مرعوبیت کا شکار نہ ہونا چاہئے۔ یہ سب باتیں اس کے علم میں لازماً موجود ہوچکی ہونگی۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بنیادی اور بدیہی تقاضے ہیں ۔ اس لئے اگر سورج کا ٹھیک سے مشاہدہ کرلینے کے بعد یہ ممکن نہیں رہ جاتا کہ کوئی شخص اس کی شعاع ریزیوں ، جہاں تابیوں اور حرارت بخشیوں سے بے خبر رہے جائے، تو یہ بات بھی ممکن نہیں ہوسکتی کہ صفات ِ الٰہی کا صحیح اور تفصیلی علم رکھتے ہوئے بھی کوئی ذی عقل ان کے کھلے تقاضوں سے ناواقف رہ جائے۔
ایمان باللہ کی یہی جامعیت اور اس کی یہی بنیادی اور امتیازی اہمیت ہے جس کے باعث ہر نبی پر آنے والی وحی کا آغاز اسی کی تعلیم و تلقین سے ہوتا رہا ہے۔ طورؔ کی پہاڑی پر سب سے پہلی آواز جو آئی وہ بھی یہی تھی کہ :
 ’’اے موسیٰؑ! بلاشبہ میں ہوں تمہارا رب، اور میں نے تمہیں (پیام رسانی کے لئے) منتخب کرلیا ہے، سو ان باتوں کو غور سے سنو جن کی تم پر وحی کی جارہی ہے، بالیقین میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی بندگی کا مستحق نہیں ، پس میری بندگی کرو۔‘‘ (طٰہٰ : ۱۲؍تا ۱۴)۔ اسی طرح غارِ حراؔ میں سب سے پہلے جو الفاظ گونجے تھے وہ بھی یہی تھے کہ :
 ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔‘‘ (علق:۱)
 جب انبیاء کرامؑ کو یہی حقیقت سب سے پہلے سمجھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو عام انسان کس شمار میں ہیں ، وہ تو اس امر کے اور زیادہ محتاج تھے کہ ان کے کانوں میں سب سے پہلے یہی بات ڈالی جائے اور ان کے دلوں میں پہلے دن اسی کی روح پھونکی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بلااستثناء ہر نبی نے اپنی امت کو سب سے پہلے یہی دعوت دی کہ : قرآن میں ہے: ’’اللہ کی بندگی کرو اور جھوٹے معبودوں سے دور رہو۔‘‘  (نحل: ۳۶)
غرض ایمان باللہ ہی فی الواقع وہ نقطہ ہے جو پھیل کر دین کا پورا دائرہ بناتا ہے۔ جب تک یہ نقطہ نہ ہو کسی اور چیز کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اسی طرح جب تک اسے نہ درست کر لیجئے، تعمیر دین کا کوئی قدم آگے اٹھ ہی نہیں سکتا۔
مقام اور اہمیت کا تقاضا
جس شے کا دین میں مقام اتنا اونچا ہو اور جو ہمیشہ سے اس بات کی حقدار رہی ہو کہ بِنائے دین کی تعمیر میں سب سے زیادہ ہی نہیں بلکہ سب سے پہلے بھی اسی پر توجہ کی جائے، وہ چاہے گی کہ آج بھی اس کو یہی مقام دیا جائے اور اسے اسی عملی توجہ کا حقدار تسلیم کیا جائے۔ لہٰذا دین حق کی اطاعت اور اقامت کا عزم رکھنے والوں پر سب سے پہلا فرض یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان باللہ کا جائزہ لے کر دیکھیں ، اور جن جن پہلوؤں سے اس میں خامی نظر آئے ان کی تعمیر اور تکمیل کی تدبیریں اختیار کریں ، یہاں تک کہ ان کے اندر ایمان کی روح بیدار سے بیدار تر ہوجائے۔ 
 ان دونوں کاموں یعنی ایمان کی حالت کے جائزے اور تعمیری و تکمیلی تدابیر میں سے دوسرے کی اہمیت اور دشواری تو بالکل عیاں اور مسلم ہے۔ لیکن پہلے کام کو بھی آسان نہ سمجھنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انسان کا نفس بہت آڑے آتا ہے اور اسے مغالطے پر مغالطے دینے کی مسلسل کوشش کرتا ہے۔مردِ مومن کو چاہئے کہ ان مغالطوں میں ہرگز نہ آئے اور اپنے نفس کو ہرگز اس امر کی اجازت نہ دے کہ وہ اپنی پرفریب تاویلوں اور سخن طرازیوں سے اس کے اندر ایمان کی پختگی کا جھوٹا پندار پیدا کردے ، اور اس طرح وہ اپنے فرض سے غافل ہوکر رہ جائے۔
اس زمانے میں جبکہ ایمان کے مطلوبہ معیار کی طرف سے ایک عام بے پروائی اور سخت بے حسی پیدا ہوگئی ہے، ہمارے ذہنوں کا اس امر پر آمادہ ہونا سخت دشوار ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس بات کے ضرورتمند ہیں کہ اپنے اندر ایمان بااللہ کی روح کو زندہ اور بیدار کریں ، کیونکہ ہم اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ ہمارے اندر تو اسلام اور ایمان، چشم بددور، پہلے ہی سے بلکہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ پھر ہم سے ایمان باللہ کا مطالبہ کیا معنی؟ مگر ظاہر ہے کہ یہ کھلی ہوئی غلط اندیشی ہے اور یہ غلط اندیشی دراصل نتیجہ ہے اس بات کا کہ ہم ایمان باللہ کی اس حقیقت سے بالکل اندھیرے میں ہیں جس کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے، اور اس نام نہاد ’’ایمان باللہ ‘‘ کو بھی ، جس سے آج کے ہر کفر، ہر طاغوت، ہر ابوجہل، ہر قیصر اور ہر کسریٰ کی نہ صرف آشتی ہے بلکہ بعض حالات میں اس کو ان کی حفاظت اور سرپرستی کا فخر بھی حاصل ہے، اسی ایمان باللہ کا ہم جنس سمجھتے ہیں جس کو دیکھ کر کبھی چشم باطل میں خون اتر آتا تھا ۔یہ خوش گمانی بلکہ خودفریبی ایک وبا کی طرح ہر سمت پھیلی ہوئی ہے ، اور کتنے ہی دماغوں کی فکری قوتوں کو ماؤف کئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایمان کا دعویٰ اور خواہشوں کی پوجا ، دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع کرلینے میں کوئی زحمت محسوس نہیں کی جاتی۔ دورِ حاضر میں ہر بے راہ روی کیلئے ’’مسلمان‘‘ کا دروازہ کھلا ہوا ہے! کسی بھی باطل نظریئے کے قبول کرلینے سے  خدائے واحد کی غلامی کے عہد پر کوئی آنچ نہیں آنے پاتی! لہٰذا ضرورت ہے کہ اس غلط اندیشی کی ریت سے سر باہر نکال لئے جائیں ۔ اِس کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم ایمان کی ترازو، عقائد و کلام کی کتابوں کو بنانے کے بجائے کتاب و سنت کو بنائیں اور یہ معلوم کرنے کیلئے قرآن کے بیانات سے رہنمائی حاصل کریں کہ جس ایمان باللہ کی ہمیں ضرورت ہے اس کا واقعی مطلب اور مقتضا کیا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ اسی ایمان کو ایمان سمجھا جائے اور اس کیلئے صرف اتنا کرنا کافی ہوگا کہ ہم اس آئینے کو اپنے روبرو رکھ لیں جسے قرآن و سنت نے ایمان باللہ کے لوازم و مقتضیات اور اہل ایمان کی صفات و خصوصیات کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اور پھر اس کے اندر اپنے ایمان کے ایک ایک خط و خال کو بغور دیکھیں ، اور اپنی سیرت و کردار کے ایک ایک پہلو کا اچھی طرح جائزہ لیں ۔ اگر نظر آئے کہ ہم وہ کچھ بھی کررہے ہیں جو ایمان باللہ کی روح کے ساتھ کسی طرح میل نہیں کھاتا، تو اس کو اس امر کی قطعی علامت سمجھیں کہ ایمان کی روح ہمارے اندر نہیں اتری ہے، یا کم از کم یہ کہ اس روح پر غفلت اور پژمردگی چھائی ہوئی ہے۔ اپنے اندرون کا جب تک ایسا بے لاگ احتساب نہ کرلیا جائے، ممکن نہیں کہ انسان اپنے ایمان کی تطہیر اور ترقی کی طرف مائل ہو، اور حسن نیت کے ساتھ اگر ایسا احتساب کرلیا جائے تو پھر ناممکن ہے کہ انسان اس طرف سے بالکل غافل پڑا رہ جائے اور اپنی سوئی ہوئی ایمانی روح کو بیدار کرنے کی فکر اور سعی میں ڈوب نہ جائے۔
بیداری ٔ ایمان کی عملی تدبیریں 
اس فکر و سعی کے صحیح عملی طریقے کیا ہیں ؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے ، جس کا جواب ایک بندۂ مومن کا دل تو بڑی آسانی سے دے سکتا ہے، مگر لفظوں میں انہیں ٹھیک ٹھیک بیان کردینا شاید ممکن ہی نہیں ۔ تاہم قرآن اور سنت کے مطالعے سے اس سلسلے میں جو روشنی ملتی ہے اس کی مدد سے چند موٹی موٹی اور اصولی تدبیروں کی تعیین ضرور کی جاسکتی ہے۔
 سب سے پہلی اور بنیادی بات تو یہ ہے کہ رسمی، موروثی اور تقلیدی ایمان کو شعوری ایمان سے بدلنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ، خصوصاً اس کی صفت توحید، کے تقاضوں سے پوری واقفیت حاصل کی جائے۔ اس واقفیت کے بغیر ایمان میں وہ جامعیت نہیں پیدا ہوسکتی جو مومنانہ زندگی کے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لئے بہرحال ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK