Inquilab Logo Happiest Places to Work

اور کتنا امتحان؟

Updated: July 06, 2026, 3:45 PM IST | Mumbai

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کا آج نواں دن ہے۔ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا اعلانیہ ہے۔ حکومت پر اس کی غرض و غایت بھی واضح ہے۔ سونم وانگ چک کی شرکت اور بھوک ہڑتال بھی اس کے علم میں ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کا آج نواں دن ہے۔ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا اعلانیہ ہے۔ حکومت پر اس کی غرض و غایت بھی واضح ہے۔ سونم وانگ چک کی شرکت اور بھوک ہڑتال بھی اس کے علم میں ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا کوئی نمائندہ نہ تو سی جے پی کے کارکنان سے ملا، یا اُنہیں بلا بھیجا، نہ ہی سونم وانگ چک کی خیریت معلوم کرنے اور اُنہیں منانے کی غرض سے جنتر منتر پہنچا۔ سرکاری سطح پر نہیں تو ذاتی حیثیت ہی میں سہی سونم سے انسانی بنیادوں پر مل سکتے تھے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان تو وہاں نہیں گئے اور نہ جائینگے مگر چلے جاتے تو اپنا ہی قد بلند کرتے۔ انہوں نے ’’ری نیٹ‘‘ کے بھاری بھرکم انتظامات کے ذریعہ کیا کیا تھا؟ طلبہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش ہی تو کی تھی۔ جنتر منتر پر جانا بھی طلبہ اور مظاہرین کو اعتماد میں لینے کی کوشش ہوتی۔ اس کا بہت اچھا پیغام عام ہوتا مگر اُن کی وزارت معاملہ سازی اور اعتماد سازی کی فکر ہی نہیں کررہی ہے۔ 
یہ بھی تو ہوسکتا تھاکہ وزارت تعلیم کا کوئی اعلیٰ افسر جنتر منتر کے مظاہرین سے ملاقات کرآتا۔ کیا حکومت کو نوجوانوں کی کوئی فکر نہیں ؟ کیا اسے نوجوانوں کی یاد تبھی آتی ہے جب الیکشن قریب آتا ہے؟ ہمیشہ ’’یو ُوا وَرگ‘‘ کی باتیں کرنے والی بی جے پی اس ورگ کی ناراضگی کو دن بہ دن بڑھانے ہی کے درپے ہے۔ ایک کے بعد دوسرے امتحان کا پرچہ لیک ہوا۔ روزگار کا جن ایک بار بوتل سے باہر ہوا تو دوبارہ بند نہیں کیا گیا۔ بے روزگار نوجوان یا وہ طلبہ جو پیپر لیک اور امتحان ملتوی ہونے سے پریشان ہیں، اپنے مستقبل کے تعلق سے بے یقینی کا شکار ہیں۔ خدا نہ کرے مگر یہ بے یقینی اُن میں انتشارِ ذہنی پیدا کرسکتی ہے جسے فرسٹریشن کہاجاتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا ’’آبادیاتی منافع‘‘ ڈیموگرافیکل ڈِویڈنڈ ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ ہمارے طلبہ کی توانائی جو امتحانات کامیاب کرنے اور نئے اہداف کو پانے میں صرف ہونی چاہئے، احتجاجی مظاہروں میں اور اگر یہ نہیں تو بے یقینی اور بے چینی کے شام و سحر گزارنے میں صرف ہو رہی ہے۔ اس سے خدانخواستہ رائیگانی کا احساس پیدا ہوگا اور اگر یہ احساس پیدا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے پاس وسائل تھے مگر ہم اُن کو بروئے کار لانے میں ناکام رہے۔ سونم وانگ چک کسی ذاتی مفاد کے تحت بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ایک نئی نویلی پارٹی (سی جے پی) پر بھروسہ کیا کیونکہ انہیں کسی پارٹی سے کوئی سروکار نہیں ہے، سروکار ہے تو طبقہ ٔ نوجواں سے، جسے ناکردہ گناہی کی سزا دی جارہی ہے۔ 
کابینہ میں رد و بدل کی خبریں عام ہیں۔ حکومت، مظاہروں سے نمٹنے کیلئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی جگہ کسی اور کو یہ منصب دےسکتی ہے مگر مطالبہ محض وزیر بدلنے کا نہیں ہے۔ تعلیمی اور امتحانی نظام کو درست کرنے کا بھی ہے۔ کیا وزیر کے بدلنے سے نظام ٹھیک ہوجائیگا؟ ۲۶؍ جون کو وزیر اعظم نے دھرمیندر پردھان کو سالگرہ کی مبارکباد دے کر شاید ان پر اپنا اعتماد ظاہر کیا تھا۔ یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ پردھان ہی پر دھان رہیں گے۔ سی جے پی کے دھرنے کا آج ۱۷؍ واں دن ہے۔ اہل اقتدار بتائیں کہ نوجوانوں کو کب تک ایسے امتحانوں سے گزارا جائے گا؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK