Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت کے دعوے اور ہمارا حقیقی طریقۂ عمل

Updated: July 05, 2026, 11:53 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

حکومت خواہ وہ کسی بھی پارٹی کی ہو، کا فرض ہوتا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھے نہ کہ اُنہیں بانٹنے کی فکر کرے یا جو لوگ عوام کو بانٹیں اُن کی کسی بھی طور پر حوصلہ افزائی کرے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فلم ’’چوہان‘‘ کا ٹیزر جاری کردیا گیا ہے۔ یہ اکثریت نوازی پر مبنی ایک طرح کی تشہیری مہم (پروپیگنڈا فلم) ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسی کئی فلمیں منظر عام پر آئی ہیں۔ فلم کی ابتداء ایسے مقام پر کی گئی ہے جو موجودہ حکومت کو راس آتا ہے یعنی وہ چاہتی ہے کہ انہی مقامات پر گفتگو ہو۔ فلم میں یہ پلوامہ کی ایک سڑک ہے جہاں فضا میں پتھر ہیں اور سیکوریٹی کے لوگ تعینات ہیں۔ پس منظر کی آواز میں کہا جارہا ہے کہ آنسو گیس بے اثر ہوئی کیونکہ اس سے بچنے کے ماسک بہت آسانی سے آن لائن دستیاب ہیں۔ یہاں فلم یہ سمجھانا چاہتی ہے کہ آنسو گیس سے زیادہ مؤثر چیز کی ضرورت ہے۔ وہ ہے بارہ گیج کی شاٹ گن۔ یہاں ہمیں تھوڑا رُکنا اور یہ سمجھنا چاہئے کہ موجودہ دور میں اکثریت نوازی کو مستحکم کرنے کیلئے ایسے ہی بیانئے لائے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں اب برسراقتدار طبقے میں یہ اعتماد مضبوط ہوچکا ہے کہ بیانیوں کے ذریعہ جو بھی دعوے کئے جائیں ان کی صحت نہیں جانچی جاتی۔ مگر ہم کوشش کرینگے ایسے دعوؤں کو سمجھنے کی:
۲۰۱۷ء میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ایسے ۸۸؍ لوگوں کی روداد کو دستاویزی شکل میں جمع کیا تھا جن کی بینائی ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان شاٹ گن کی وجہ سے متاثر ہوئی جن کا استعمال جموں کشمیر کی پولیس اور سی آر پی ایف نے کیا تھا۔ جن لوگوں کی بینائی متاثر ہوئی اُن میں سے کچھ کی تکلیف جاتی رہی مگر کچھ کو راحت نہیں ملی۔ شاٹ گن میں ہوتا یہ ہے کہ ایک گولی (کارٹر ِج) ۳۶۰؍ سے ۶۰۰؍ دھاتی ٹکڑے خارج کرتی ہے اور بالکل سمجھ میں نہیں آتا کہ کتنے ٹکڑے کس سمت میں گئے۔ اس گن کو پیلٹ گن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے کیونکہ یہ اندھا دھند چلتی ہے۔ 
شاٹ گن یا پیلٹ گن کس طرح اندھا دھند چلتی ہے اس کا ثبوت ہمیں اُن ۸۸؍ لوگوں سے گفتگو کے ذریعہ ملا جن میں سے ۱۴؍ مظاہرین نہیں بلکہ وہ خواتین تھیں جو اپنے گھروں کے اندر تھیں۔ اس کی زد میں سیکوریٹی کے جوان بھی آئے جو خود اپنے ساتھی جوانوں کی پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ گن کتنی نقصان دہ ہے۔ کشمیر کے ایک گاؤں کی انشاء مشتاق کی عمر ۱۴؍ سال ہے۔ ۱۱؍ جولائی ۱۶ء کو اُس نے اپنے مکان کی کھڑکی کھولی ہی تھی کہ اُس کی دُنیا بدل کر رہ گئی۔ کھڑکی سے دکھائی دینے والی سڑک کو وہ پھر کبھی نہیں دیکھ سکی۔ مکمل طور پر نابینا ہوگئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ایسا کیس ان کے سامنے پہلے کبھی نہیں آیا۔ 
ریاستی اعدادوشمار کے مطابق جولائی ۱۶ء اور فروری ۱۷ء کے درمیان ۶۲۲۱؍ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ۷۸۲؍ ایسے تھے جن کی آنکھیں پیلٹ گن کی گولی کے ذرات سے متاثر ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے حقوق انسانی نے پیلٹ شاٹ گن کو ’’کشمیر میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں سب سے خطرناک‘‘ قرار دیا اور سفارش کی کہ ہندوستان اپنے اسلحہ کے ذخائر میں سے ان شاٹ گنوں کو نکال دے۔ جب ہماری حکومت سے پوچھا گیا کہ بچوں کے چہروں کی طرف کیوں گولی چلائی جاتی ہے تو اس نے جواب دینے سے انکار کردیا اور اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا۔ یہ ’’محدود نقصان‘‘ نہیں تھا کیونکہ شواہد بھاری نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 
’’چوہان‘‘ کے ٹیزر سے پتہ چلتا ہے کہ فلم میں یہ شکوہ موجود ہے کہ سلامتی دستوں کی جانب سے طاقت کے تھوڑے بہت استعمال سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ مگر یہ کہنا غلط ہے کیونکہ کشمیر میں حکومت کی جانب سے تحمل برتا گیا ہو ایسا اشارہ ہمیں نہیں ملا۔ یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ وادی میں فورسیز کی قلت نہیں ہے۔ اگر طاقت کے تھوڑے بہت استعمال سے نتائج برآمد نہیں ہوتے تو وہاں تین دہائیوں میں بھرپور طاقت کا جو استعمال کیا گیا اس سے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ حکومت کےایک جواب سے دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے اور جتنے زیادہ سوالات ہوں گے اُتنا ہی اعتبار کم ہوگا۔ 
یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مظاہرین سڑکوں پر اس لئے آئے کہ ان کیلئے ملک کی پارلیمنٹ کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ یہ صرف کشمیر میں نہیں ہوا۔ قانون بنانے سے پہلے مشاورت کی پالیسی ۲۰۱۴ء کا لب لباب یہ تھا کہ کوئی بھی قانون بنانے کی پہل بعد میں ہو، ۳۰؍ دن پہلے مسودۂ قانون عوام کے سامنے رکھا جائے۔ مگر، جیسا کہ پی آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ کے ڈیٹا سے ظاہر ہے، ۲۰۱۴ء سے لے کر (اب تک) جو ۳۰۱؍ بل ایوان میں پیش کئے گئے، ان میں سے ۲۲۷؍ کیلئے عوامی مشاورت ہوئی ہی نہیں۔ جن ۷۴؍ بلوں کا مسودہ شائع کیا گیا ان میں سے کم از کم ۴۰؍ ایسے تھے جو ۳۰؍ دن کی شرط پوری نہیں کرتے تھے۔ کیا ایسا ہونا درست ہے کہ ’’مادرِ جمہوریت‘‘ گھر کے معاملات پر گھر والوں سے مشورہ نہ کرے؟ ہم محض نام کیلئےپارلیمانی جمہوریت ہیں، اس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ جو بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اُن کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ ۲۰۱۴ء سے پہلے ۷۱؍ فیصد بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجے جاتے تھے، ۱۴ء کے بعد صرف ۲۰؍ فیصد بھیجے گئے۔ 
دسمبر ۲۵ء میں حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ اپنی مذکورہ پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کررہی ہے۔ اس کا جواب تھا کہ اس نے کبھی پالیسی نہیں بنائی یا اس کا ریکارڈ نہیں رکھا کہ کون اس کی نگرانی کرتا ہے۔ قارئین اس حقیقت سے واقف ہیں کہ حکومت کا جو بھی حکم ہوتا ہے ان میں سے کئی کسی بل یا قانون کی شکل میں سامنے نہیں آئے بلکہ ضابطے یا ہدایت کی شکل میں وارد ہوئے جس کیلئے قانون سازوں سے مشاورت نہیں ہوئی تو عوامی رائے نہ لینے کا کیا گلہ ہو۔ 
حکومت کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ ایک ملک، ایک وقت میں ایک قانون، ایک قاعدہ، ایک ایڈوائزری کو کھوکھلا کیا گیا تو ملک خود کو جمہوری نہیں کہہ سکتا۔ اس جانب توجہ دیئے بغیر حکومت نے اُن لوگوں کو جو سوال کرتے ہیں ملک مخالف، اربن نکسل اور آندولن جیوی جیسے نام دے دیئے۔ جب پروپیگنڈہ کے ذریعہ ملک کے عوام کے ذہنوں کو ایسے الفاظ کا عادی بنایا جارہا ہے، تب حکومت کے طریقہ عمل کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ فلم کے ٹیزر کے ذریعہ بھی اگر شدید ضرر والے ہتھیار کے استعمال کے باوجود بہادرانہ مزاحمت کا دعویٰ ہو تو یہ مذکورہ اصطلاحوں جیسا ہی غلط پیغام عام کرنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK