ذہنی اضطراب اور مایوسی سب سے بڑے وائرس ہیں

Updated: October 11, 2020, 11:49 AM IST | Mubarak Kapdi

زندگی بے حد قیمتی ہے، کووِڈ ۱۹؍کی اِبتلاء میں ہرکسی کو اس بات کا شدت سے احساس ہورہاہے،البتہ ذہنی بیماریاں بھی زندگی کی بڑی دشمن ہیں۔ نفسانفسی، خود غرضی اور حسد جیسی ہمارے گھروں میں پلنے والی مہلک اور خطرناک بیماریوں سے نئی نسل کو بچانا بہت ضروری ہے

Mental Stress - Pic : INN
ذہنی پریشانی ۔ تصویر : آئی این این

ہم یہ جائزہ لے رہے ہیں ذہنی انتشار کا شکار، کنفیوژڈ اور مایوسی سے دوچار نوجوانوں کے نفسیات کی کہ وہ اپنے دوست و احباب سے ہمیشہ صرف مایوسی کی باتیں کرتے ہیں ۔ اس محفل میںکوئی اگر اُمّید افزا بات کرتا ہے تو وہ وہاںسے اُٹھ جاتا ہے بلکہ اس کو مایوسی سے اور اندھیروں سے اُمّید کے اُجالوںکی طرف بلانے والے کو اپنا دشمن بھی سمجھنے لگتا ہے۔اپنی زندگی کے تئیں کوئی انتہائی قدم اُٹھانے سے پہلے یہ نوجوان سگریٹ، پان، گُٹکھا اور ڈرگس کاعادی بن جاتا ہے۔  مایوسی کا شکار ایسا نوجوان ہمیشہ صرف مایوسی اور ناکامی کے قصّے کہانیاں اور مضامین پڑھتا ہے اور مسلسل مایوس کن گانے بھی سنتے رہتا ہے۔ زندگی سے منہ موڑنے کیلئے تیار وہ نوجوان اپنے کاموںکو سمیٹنے لگتا ہے۔ایسا کرنے کے بعد وہ گھر کے لوگوںسے معافی مانگنا شروع کردیتا ہے۔وہ اکثر ہر ایک سے الگ الگ معافی مانگتا ہے اسلئے سبھوںکو اس کی خبر نہیںہوپاتی۔ بدقسمتی سے گھر کے لوگ اس کے اس برتائو کی  اور ان تبدیلیوں کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔
 ان معاملات کا علاج کیا ہے؟ ان ساری چیزوں کی روک تھام کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ گھر کا ماحول خوش گوار ہو۔ گھر کے ہر فرد کے ساتھ رابطے کی کڑی جُڑی ہو، جہاں یہ کڑی ٹوٹ جاتی ہے وہاں غلط فہمی، بدگمانی اور پھر اس سے بھی زیادہ خطرناک بیماریاں جیسے نفسا نفسی اور خود غرضی شروع ہو جاتی  ہے۔ مایوسی اور ڈپریشن اِنہی بیماریوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں کیوں کہ جب کوئی یہ سوچنے لگتا ہے کہ صرف وہ کامیاب ہو جائے، وہ سب سے زیادہ دھن دولت کمائے اور اس کے گُر کسی کو معلوم ہی نہ پڑیں۔ اب اس خود غرضی میں جب اُسے خاطر خواہ کامیابی نہ ملے تو وہ افسردگی و سراسیمگی کا شکار ہوجاتا ہے البتہ اسی دَوران صحیح محنت و فکر کرنے والے افراد زندگی کی ریس میں آگے نکل جاتے ہیں جب کہ وہ افسردہ و مایوس نوجوان مزید ایک بیماری کا شکار ہوتا ہے جس کا نام ہے ’حسد‘۔ یہ ساری نفسیاتی بیماریاں اس کے ذہن میں اس طرح قابض ہوجاتی ہیں کہ وہ زندگی سے منہ موڑنے میں اپنی عافیت سمجھتا ہے۔
  والدین کو چاہئے کہ وہ اس بات پر نظررکھیں کہ ان کے بچّوں کی زندگی میں اضطراب یا زیادہ سے زیادہ افسردگی سے زیادہ بات نہ بڑھے کیوں کہ اس کے آگے جو کھائی ہے اس کا نام ہے ’مایوسی اور ڈپریشن‘۔لاک ڈائون کی بنا پر معاشی، سماجی و تعلیمی نظام کے درہم برہم ہونے سےاس بات کا خدشہ ہے کہ کافی نوجوانوں کی تعداد ذہنی اضطراب کا شکار ہوجائے۔مایوس نوجوان کی شناخت کیسے ہو؟ وہ ہمیشہ بس سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو نقصان پہچانے کی کیفیت میں رہتا ہے۔ ناکام لوگوں کو اپنا رول ماڈل بناتاہے۔ ایسا نوجوان اگر ڈائری لکھنے کا عادی ہے تو اس کا پیچھا کرنا ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی ڈائری میں مایوسی سے بھرے اشعارتو نوٹ نہیں کر رہا ہے؟ ناکامی اورذہنی انتشار سے پُر تحریریں تو جمع نہیں کررہا ہے؟ مبہم اور کوڈ الفاظ میںکچھ درج تو نہیں کرتا ہے؟ وہ اگر ڈرائنگ میں اچھا ہے تو یہ دیکھیں کہ تاریخ کے ظالم و سفّاک افراد کی تصویریں تو نہیں بنارہا ہے؟ اب ان جیسے نوجوانان اپنے سارے خیالات و جذبات کو اپنے موبائل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ والدین کی بھرپور نظر اس پر بھی ہونی چاہئے کہ ان کے بچّے انٹر نیٹ کی کِن کِن سائیٹس پر جاتے ہیں (بچّے اس کیلئے راضی صرف اس وقت ہوسکتے ہیں جب والدین بھی اپنے موبائل کو  ’لاک‘ نہ رکھیں) انٹرنیٹ ویسے بھی زحمت زیادہ اور رحمت کم ہے کیوں کہ وہاں خود کشی کیسے کی جائے، اس کی مکمل معلومات دینے والی سائٹس بھی کھلی ہوئی ہیں۔
  اگر کوئی نوجوان ان قسم کی سائٹس پر جاچکا ہے اور دوستوں سے یا گھر والوں کو یہ کہتا ہے کہ وہ بس مذاق مذاق میںدیکھ رہا تھا یا خود کشی کرنے کے طریقے صرف معلومات میں اضافہ کیلئے پڑھ رہا تھا، تب یہ سمجھئے کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ۔ ایسی خطرناک اور زیاں رساں سائٹس پر کوئی ’یونہی‘ نہیں جاتا۔ آج کل تو زندگی سے منہ موڑنے والے سارے نوجوان اپنی ’بِپتا‘ صرف اپنے موبائیل کے نوٹ پیڈپر تحریر کرتے پائے جارہے ہیں۔ وہ اپنے موبائیل کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں اور اپنا ہمدرد بھی۔ یہ اوربات ہے کہ اس کی زندگی جس خطرناک موڑ پر آگئی ہے اس کا ایک بڑا ذمہ دار اس کا وہی ’اسمارٹ ساتھی‘ اور اُس کا بے جا استعمال ہے۔ والدین اگر اپنا موبائل کھلا رکھتے ہیںتو پھر بچّے بھی اس کی تقلید کریں گے اور تب اس کے نوٹ پیڈ پر لکھی اس کی دل کی داستانیں آپ تک پہنچیں گی۔ اس طرح سے کئی راز بھی آپ پر عیاں ہوں گے کہ آپ اپنے بچّے کو بخوبی جانتے ہی نہیں تھے۔
 اسلام میں دنیاوی دولت کے موہ کو ناپسندیدہ قراردیا گیا ہے۔البتہ اس دین میں رہبانیت اور زندگی سے نفرت کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دنیاوی اُمور سے منہ موڑ کر زندگی کے دن جوں توں کرکے گزارنا یا صرف موت کی تمنّا کرتے رہنے کی کوئی گنجائش اس دین میں موجود نہیںہے بلکہ اس دنیاوی زندگی کے بعد کی سب سے بڑی حقیقت یعنی آخرت میں ساری نعمتوں اور بخششوں کا دارومدار صرف اور صرف اس دنیاوی زندگی کی کارکردگی پر ہے۔ نوجوانو! اب بھلا کوئی کیوں کر اس دنیاوی زندگی اور اس کے تقاضوں کو نظر انداز کر سکتا ہے؟ اس دنیا کی ثروت، شہرت و دولت کے حصول پر جان چھڑکنا کسی کی زندگی کا نصب العین نہیں ہونا چا ہئے کیوں کہ اسی سے حرص ہوس، حسد و جلن اور سازشوں کاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے البتہ اللہ نے جو قیمتی زندگی انسان کو عطا کی ہے اس کی قدر، اس کو گزارنے کیلئے کچھ اُصول و ضوابط تو بہر حال ضروری ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم زندگی سے پیا رکریں۔ اس کے برعکس اگر ہم زندگی سے نفرت کرتے ہیںتو سراسر گھاٹے میں رہیں گے، نیز آخرت کیلئے ہم اس دنیا میں جو رِپورٹ کارڈ تیار کر رہے ہیں وہ بھی بگڑ جائے گا۔
  اِسی بناء پر آج ہمارا روئے سخن ان طلبہ اور نوجوانوں سے ہے جو ہمیشہ مایوسی کی چادر اوڑھے رہتے ہیں، کسی ناکامی پر وہ ہمت تو کرتے ہیں مگر زندگی و زمانے سے مقابلے کی نہیں بلکہ موت کو گلے لگانے کی۔ انھیں ہم بتانا چاہیں گے کہ زندگی سے پیار کرنے میں کیا جادو ہے۔
 (۱) زندگی سے حقیقی پیار کرنے والا شخص یہ جانتا ہے اور مانتا ہے کہ یہ زندگی واقعی مختصر ہے۔ اتنی عام سی بات البتہ ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی جو زندگی کو نہیں چاہتے۔ زندگی کو چاہنے والے ہر لمحے کو قیمتی سمجھتے ہیں۔ وہ اس بنیادی حقیقت کو بھی مانتے ہیں کہ یہ زندگی ایک آزمائش یا امتحان ہے اسلئے پرچہ تو لکھنا ہوگا اور اس میںکارکردگی پر رزلٹ آئے گا اسلئے وہ زندگی سے فرار کا راستہ تلاش نہیںکرتا۔ 
 (۲) زندگی سے پیار کرنے والا بہت منظّم ہوتا ہے۔ اپنی زندگی میں نظم پیدا کرنے کیلئے تھوڑے وقت اور تھوڑی اینرجی کو صَرف کرتا بلکہ سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس تھوڑی سی سرمایہ کاری کی بناء پر اُسے زندگی گزارنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ زندگی برتنے کے اس کے اس نظم و ضبط یا ڈسپلن کی بناء پر وہ ذہنی تنائو کا شکار نہیں ہوتا نیز اُسے ہمیشہ سکونِ قلب حاصل رہتا ہے۔ اس کے برعکس زندگی سے نفرت کرنے والا اپنی زندگی میںغیر منظّم ہوتا ہے اسلئے  وہ ہمیشہ ہڑ بڑاہٹ ، بوکھلاہٹ اور اُکتاہٹ کا شکار رہتا ہے۔
 (۳) زندگی سے محبت کرنے والا وقت کا بڑا قدردان ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وقت کی بے قدری زندگی سے بے قدری ہے۔ اس میں یہ سمجھنے کی بصیرت بھی ہوتی ہے کہ یہ جو دِن ، مہینے، سال تبدیل ہورہے ہیں وہ کوئی جشن کی بات نہیں۔ زندگی سے نفرت کرنے والے کو اتنا شعور کہاں کہ وقت کو کسی بدمست ہاتھی کی طرح تباہی کی اجازت دی جائے تو اس کا اپنا نقصان ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK