ہم تسلیم کرسکتے ہیں کہ ہندوستان یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا کہ اس کے پاس ’ایکو سسٹم‘ بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے یہ صلاحیت اے آئی کے ذریعہ ہی حاصل کی ہے۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 11:19 AM IST | Shamim Tariq | Mumbai
ہم تسلیم کرسکتے ہیں کہ ہندوستان یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا کہ اس کے پاس ’ایکو سسٹم‘ بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے یہ صلاحیت اے آئی کے ذریعہ ہی حاصل کی ہے۔
انسان کی جو ایجادات و اختراعات اس کی تباہی اور بڑے نقصانات کا ذریعہ بنی ہیں ان میں مصنوعی ذہانت بھی ہے۔ ۱۶؍ سے ۲۰؍ فروری تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء‘ منعقد ہوئی جس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے بعض خوش کن باتیں کہیں جن پر کانگریس نے سوالات بھی اٹھائے مگر سمٹ (کانفرنس) سے پہلے ہی وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن کے سیکریٹری ایس کرشنن نے ’دی ہندو‘ اخبار سے یہ اعتراف بھی کیا کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے سبب کمپنیوں میں کی جانے والی تقرریوں میں معمولی ہی سہی مگر کمی آئی البتہ نئی ملازمتوں کے حصول کے لئے اے آئی اور ڈیٹا اسکل کی مانگ میں ۶۳؍ فیصد اضافہ بھی ہوا۔ اس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) مختلف شعبوں میں تبدیلی لارہی ہے اور اس کی مدد سے دیہی علاقوں کی خواتین کے لئے بھی روزگار فراہم کرنے کے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
اس کانفرنس میں’ڈیپ فیک‘ کا بھی تذکرہ ہوا مگر آن لائن فریب، سائبر فراڈ یا اس سے بچنے کی ترکیب نہیں بتائی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حکومتیں کس طرح راحت دے سکتی ہیں۔ فراڈ کو روکنے اور اس کے متاثرین کو راحت پہنچانے کے لئے قوانین کے سخت کئے جانے اور عالمی شراکت کی بھی ضرورت ہے۔ ہندوستان نے تو بعض سخت قوانین بنائے بھی ہیں مگر عالمی سطح پر وہ سب نہیں ہوا ہے جو تنہا ہندوستان کر رہا ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان لوگوں تک قانون کے ہاتھ ہندوستان میں بھی نہیں پہنچے ہیں جو انتظامیہ میں بیٹھ کر فراڈ کرنے والوں کی مدد کر رہے ہیں۔ فراڈ کرنے والوں کو آخر کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کس کے اکاؤنٹ میں کتنا روپیہ ہے یا اس کا روپیہ بالکل نئے لوگوں یا اکاؤنٹ میں کیسے ٹرانسفر ہوا ہے۔ ڈیپ فیک اور فرضی آڈیو اور ویڈیو کے استعمال کو ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرکے روکا جاسکتا ہے۔
مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ کہا جاسکے کہ یہ کانفرنس ناکام رہی۔ ہم تسلیم کرسکتے ہیں کہ ہندوستان یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا کہ اس کے پاس ’ایکو سسٹم‘ بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے یہ صلاحیت اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعہ ہی حاصل کی ہے۔ یوپی آئی اس کی مثال ہے جس کی تعریف اس کانفرنس میں موجود فرانس کے صدر میکرون نے بھی کی۔ تاریخ بھی بتاتی ہے کہ انسانی معاشرے میں جتنی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ حوصلوں اور امیدوں کے ذریعہ ہی حاصل کی گئی ہیں۔
اس کالم نگار نے بالائی سطور میں جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ تجربات کی وجہ سے کیا ہے اور موجودہ حالات میں تو عوام کی یہ توقعات بڑھی ہیں کہ حکومت انہیں پریشانیوں سے نجات دلائے گی۔ اس کانفرنس میں وزیراعظم نے جو ’مانو منتر‘ دیا ہے اس کے بعد ایسی توقعات کا بڑھنا ضروری بھی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب کچھ ملک اور طاقتیں تمام وسائل پر قابض ہونے کی کوشش کر رہی ہیں تو ’اجارہ داری‘ ختم ہونا ضروری ہے مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وزیراعظم ان کالی بھیڑوں کی ان دیکھی کریں جو ان کی انتظامیہ کا حصہ ہو کر بھی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔ اے آئی کے غلط استعمال کا روکا جانا ضروری ہے چاہے یہ غلط استعمال ہندوستان کے باہر کے لوگوں کے ذریعہ ہو یا ہندوستانی انتظامیہ میں شامل لوگوں کے ذریعہ۔
یہ باتیں شاید شرکاء کانفرنس اور کانفرنس کے میزبان ملک کے ذمہ داروں کے ذہن میں تھیں ورنہ بل گیٹس کا خطاب منسوخ نہ کیا جاتا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اس منسوخی کی کیا وجہ بتائی گئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ بل گیٹس کا خطاب یا کلیدی خطبہ منسوخ کیا گیا ہے اور ہر شخص اس کی وجہ یا وجوہ سمجھنے کی کوشش کرنے میں آزاد ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کے اس بیان کو بھی اسی ضمن میں پیش کیا جاسکتا ہے کہ اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کو چند ارب پتیوں کی خواہشات کا یرغمال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ غطریس نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر جلد ہی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے تو عالمی سطح پر عدم مساوات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اچھا ہے کہ پچھلے دنوں ہندوستان نے ڈجیٹل قوانین سخت کئے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ امریکہ اور چین کے مقابلے ہندوستان کا ڈجیٹل سفر ابھی شروع ہی ہوا ہے۔ سیمی کنڈکٹر، مشین لرننگ، اے آئی کا استعمال تو اور بھی نیا ہے۔ حکومت غیر ملکی کلاؤڈ کمپنیوں کو ملک میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ’امپیکٹ سمٹ‘ سے ان سب کو مدد ملے گی۔ یہ بات کسی خوش فہمی کی بنیاد پر یا یونہی نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ کانفرنس میں شریک کئی سربراہان مملکت کا امید بھری نگاہوں سے ہندوستان کی طرف دیکھنا اس کی بنیاد ہے۔ دہلی، حیدرآباد اور بنگلورو میں اس سلسلے میں جو کام ہوئے ہیں وہ نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔ مثال فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا بیان ہے جو ہندوستان کی ڈجیٹل ترقی پر فدا دکھائی دیئے۔
شانتنو نارائن جو ایڈو دی کے سی ای او ہیں کے اس بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ’ڈیپ فیک‘ کے خطروں کے درمیان اصلی نقلی کا فرق بڑھتا جا رہا ہے مگر اس معاملے میں ہندوستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ کالم نگار یہی چاہتا ہے کہ اے آئی میں ہندوستان مزید ترقی کرے اور اس کی ترقی کے امکانات روشن ہیں مگر ڈیپ فیک یا سائبر فراڈ یا اے آئی کے منفی اثرات سے سب کو بچانے کی بھی مثال قائم کرے جس سے عالمی سطح پر اس کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
’طرز کہن‘ پہ اڑنے یا جدید ترقیات سے دور رہنے کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا مگر جذبہ ترقیات نے فراڈ کی جو راہیں استوار کی ہیں ان سے آنکھیں بند بھی نہیں کی جاسکتیں۔n