Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’قانون ساز اداروں میں خواتین کوریزرویشن صدی کا سب سے بڑا فیصلہ‘‘

Updated: April 14, 2026, 8:48 AM IST | New Delhi

جمعرات کو پارلیمنٹ میں بل پیش کئے جانے سے قبل وزیراعظم مودی کا ’ناری شکتی وندن پروگرام‘ سے خطاب میں دعویٰ، حد بندی سے متعلق بل بھی پیش ہوگا

Prime Minister Modi`s address at the `Nari Shakti Vandana` program (Photo: PTI)
وزیراعظم مودی کا ’ناری شکتی وندن پروگرام‘ سے خطاب (تصویر: پی ٹی آئی)

وزیراعظم مودی نے خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلیوں میں ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے سے متعلق ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے نفاذ کیلئے لائے جانے والے ترمیمی بل کو۲۱؍ویں صدی کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر ناری شکتی کیلئے وقف ہے۔ وزیراعظم نے اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی پارلیمنٹ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے قریب ہے جو ماضی کے تصورات اور مستقبل کے عزائم کو پورا کرے گی۔
   جمعرات کوپارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے اس ترمیمی بل سے قبل پیر کو یہاں وگیان بھون میں ’ناری شکتی وندن پروگرام‘ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان۲۱؍ویں صدی کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک کرنے جا رہا ہے، ایک ایسا فیصلہ جوناری شکتی کیلئے وقف ہے۔ انہوں نے اس لمحے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملک ایک ایسے مساوی ہندوستان کا تصور کرتا ہے جہاں سماجی انصاف محض ایک نعرہ نہیں بلکہ کام کرنے کے کلچر کا لازمی حصہ ہو۔ انہوںنے کہا کہ ریاستی اسمبلیوں سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک، دہائیوں کا انتظار اب ختم ہونے والا ہے۔
 وزیراعظم نے کہا کہ۲۰۲۳ء میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں ناری شکتی وندن ادھینیم کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اسے ہر حال میں ۲۰۲۹ء تک نافذ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا  کہ اس کیلئے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا خصوصی سیشن۱۶؍ اپریل سے شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش اور ترجیح یہ ہے کہ یہ کام مباحثہ ، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے مکمل کیا جائے، جس سے پارلیمنٹ کا وقار بڑھے گا۔ اس مسئلے پر خواتین میں پائے جانے والے ملک گیر جوش و خروش کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر کی خواتین اسمبلیوں اور لوک سبھا تک پہنچنے کی اپنی خواہشات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے خوابوں کو نئی پرواز ملی ہے اور ملک میں ایک مثبت ماحول پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے تمام خواتین سے اس پورے عمل میں فعال شرکت برقرار رکھنے اور اپنے اراکینِ پارلیمنٹ سے مل کر اپنے خیالات اور توقعات شیئر کرنے کی اپیل کی۔
 ایک جانب اس بل کی جہاں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی ہے، وہیںاسی کےساتھ پیش کی جانے والی حد بندی بل کیخلاف تمام اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے پیرکو اپنے تمام لوک سبھا اراکینِ پارلیمنٹ کیلئے ایک سخت ’تھری لائن وہپ‘ جاری کیا ہے، جس میں انہیں۱۶؍ سے۱۸؍ اپریل تک ایوان میں لازمی موجودگی کی ہدایت دی گئی ہے۔ پارٹی نے خصوصی سیشن کے دوران زیرِ بحث آنے والے معاملات اور ووٹنگ کو ’انتہائی اہم مسائل‘ قرار دیا ہے۔اس ہدایت نامے میں پارٹی نے اپنے تمام اراکین کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعرات، جمعہ اورسنیچر کو’صبح۱۱؍ بجے سے ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے تک موجود رہیں اور’’ہرحال میں پارٹی کے موقف کی حمایت کریں‘‘۔ اس مراسلے پر’انتہائی اہم‘  درج کیا گیا ہے، جو کہ آنے والی قانون سازی کی کارروائی کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
 کانگریس کے سوشل میڈیا شعبہ کی چیئرپرسن سپریہ شرینیت نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ستمبر۲۰۲۳ء میں لائے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے وقت ہی حکومت کی نیت صاف نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ پہلے مردم شماری اور پھر حد بندی ہوگی، اس کے بعد ہی خواتین کیلئے ریزرویشن کا نفاذ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے بغیر کسی شرط کے۲۰۲۴ء میں ہی خواتین کے ریزروشن کے  نافذ کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ خواتین فوری طور پر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ۳۰؍  ماہ بعد وزیراعظم مودی اپنی ہی حکومت کے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کی سازش رچ رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK