جنوری میں عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹ کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ٹرائل میں تاخیر خود بخود ضمانت کا جواز نہیں بن سکتی۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
جنوری میں عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹ کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ٹرائل میں تاخیر خود بخود ضمانت کا جواز نہیں بن سکتی۔
گزشتہ پانچ سال سے جیل میں قید طلبہ لیڈر اور سماجی کارکن عمر خالد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور عدالت کے ۵ جنوری کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے جس میں دہلی فسادات کی ’بڑی سازش‘ کے معاملے میں ان کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کو بدھ کے دن سماعت کیلئے فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
اپنے گزشتہ فیصلے میں، جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے عمر خالد اور ان کے ساتھی ملزم شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ تاہم، عدالت نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان سمیت دیگر ملزمین کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نوٹ کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ٹرائل میں تاخیر خود بخود ضمانت کا جواز نہیں بن سکتی۔ ساتھ ہی بنچ نے واضح کیا کہ قانون پہلے سے ضمانت سے انکار کا حکم نہیں دیتا اور عدالتوں کے پاس یہ اختیار برقرار ہے کہ وہ مناسب جگہ پر ریلیف فراہم کریں۔ بنچ نے تبصرہ کیا تھا کہ خالد اور امام ’محفوظ گواہوں‘ کے بیان قلمبند ہونے کے بعد یا ایک سال مکمل ہونے پر نئی ضمانت کی درخواستیں دائر کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کی بایو میٹرک ووٹنگ پر سماعت، مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس
واضح رہے کہ یہ کیس فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ہے جس کے نتیجے میں ۵۳ افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ متاثرین کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اس معاملے میں عمر خالد اور دیگر ملزمین کو جنوری اور ستمبر ۲۰۲۰ء کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر یو اے پی اے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی روک تھام کا ایکٹ، آرمز ایکٹ اور تعزیراتِ ہند کی دفعات سمیت سخت الزامات عائد کئے گئے تھے۔
جانچ ایجنسیوں نے ملزمین پر الزام لگایا ہے کہ یہ تشدد نریندر مودی کی قیادت میں مرکز کی بی جے پی حکومت کو بدنام کرنے کیلئے ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔ پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کی آڑ میں منظم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں دہلی پولیس نے ان مبینہ اقدامات کو مربوط ”تبدیلی حکومت کی کارروائی“ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ارکانِ پارلیمنٹ کا ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے پر اظہار افسوس
تاہم، ملزمین نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ پرامن احتجاج کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے دلیل دی ہے کہ یہ کیس اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کی عکاسی کرتا ہے اور ان کی طویل قید کسی سزا کے بغیر سزا دینے کے مترادف ہے۔