میتھیو گیلگر نامی شخص کی ’میڈوی ‘ نامی یہ کمپنی موٹاپا کم کرنے کی دوا فروخت کرتی ہے اوراس کا ۱۶؍ہزار کروڑ روپے کا ٹرن اوور ہے۔
میتھیو گیلگر نے اس سے قبل ۶۰؍ملازمین پر مشتمل کمپنی بنائی تھی لیکن وہ ناکام ہوگئی۔ تصویر :آئی این این
امریکہ کے لاس اینجلس شہر کے ایک سادہ سے مکان میں رہنے والے۴۱؍ سالہ میتھیو گیلاگر نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کی پیشگوئی سیم آلٹ مین نےکبھی کی تھی۔ جی ہاں ! بغیر کسی بڑے دفتر، سینکڑوں ملازمین یا بھاری سرمایہ کاری کے، میتھیو نے صرف اے آئی اور اپنی مہارت سے کاروباری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی صرف۲۰؍ہزار ڈالر (تقریباً۱۸ء۵؍ لاکھ روپے) سے شروع کی۔ ستمبر۲۰۲۴ء میں شروع ہونے والی یہ کمپنی۲۰۲۶ء تک ۱۶؍ ہزار۷۰۰؍کروڑ روپے کے ٹرن اوور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یعنی آج وہ روزانہ تقریباً۲۸؍کروڑ روپے کما رہے ہیں۔
شروعات سے تیزی سے ترقی
نیویارک ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق،جب میڈوی شروع ہوئی تب پہلے مہینے میں ہی اس سے ۳۰۰؍ صارفین جڑ گئے اور دوسرے مہینے تک یہ تعداد ایک ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔۲۰۲۵ء میں، اپنے پہلے مکمل کاروباری سال میں کمپنی نے۴۰ء۱؍کروڑ ڈالر (تقریباً ۳۷۰۰؍ کروڑ روپے) کی فروخت کی، جس پر۱۶ء۲؍ یعنی تقریباً۶۰۰؍ کروڑ روپے منافع ہواجو اس شعبے کی بڑی کمپنی’ہِمس اینڈ ہرس ہیلتھ‘ کے ۵ء۵؍فیصد منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے گیلاگر نے۶۰؍ ملازمین والی کمپنی چلائی تھی جو خسارے میں جا کر بند ہو گئی تھی۔
سیم آلٹ مین نے کیا پیشگوئی کی تھی؟
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ۲۰۲۴ءمیں کہا تھا کہ جلد ہی ایک اکیلا انسان اے آئی کی مدد سے ایک ارب ڈالر کی کمپنی بنا سکے گااور گیلاگر نے اسے حقیقت بنا دیا۔ گیلاگر کے مطابق ان کی سب سے بڑی طاقت تیز فیصلے کرنا ہے۔ جہاں بڑی کمپنیاں میٹنگز اور ای میلز میں الجھی رہتی ہیں، وہیں وہ اے آئی کی مدد سے منٹوں میں بڑے فیصلے لے لیتے ہیں۔
۱۲؍ اے آئی ٹُولز سے چلارہے ہیں کاروبار
’میڈ وی ‘کا پورا نظام اے آئی پر مبنی ہے۔ گیلاگر اکیلے ہی ایک پوری کمپنی کا کام سنبھال رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس درجنوں اے آئی اسسٹنٹس ہیں۔
- کوڈنگ کیلئے چیٹ جی پی ٹی ، کلاؤڈ اور گروک
- اشتہارات کے لئے مِڈجرنی اور رَن وے
- صارفین سے بات چیت کے لئے ایلیون لیبس کے اے آئی وائس سسٹم
یہاں تک کہ انہوں نے اپنی آواز کا اے آئی کلون بھی بنایا ہوا ہے ۔ دواؤں کی ڈیلیوری اور ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کا انتظام بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خودکار ہے۔
اس ملٹی ملین ڈالر کمپنی میں میتھیو گیلاگر کے علاوہ صرف ایک ملازم ہے،ان کا چھوٹا بھائی ایلیٹ گیلاگر۔ ایلیٹ کا کردار کسی مینیجر جیسا نہیں بلکہ ایک ’فلٹر‘ جیسا ہے، جو غیر ضروری کالز اور پیغامات کو روکتا ہے تاکہ گیلاگر مکمل توجہ بزنس حکمت عملی پر دے سکیں۔
رپورٹ کے مطابق آج’میڈوی ‘ روزانہ تقریباً۳۰؍ لاکھ ڈالر (یعنی۲۸؍ کروڑ روپے) کما رہی ہے۔ لیکن گیلاگر اس دولت کو صرف اپنے لیے نہیں رکھتے بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ بے گھر نوجوانوں اور جانوروں کی فلاح کے لیے عطیہ کر دیتے ہیں۔ یہ حقیقی کہانی اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو اے آئی نہ صرف کاروبار کو بدل سکتا ہے بلکہ ایک فرد کو بھی غیر معمولی کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔گیلاگر کی یہ حصولیابی نوجوان کاروباریوں کو ترغیب وتحریک دینے والی ہے کہ ٹیکنالوجی ،انفرادی سوچ ،اختراعی قدم اور انتھک محنت کے امتزاج سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
(بشکریہ :نیوز۱۸؍اور ایجنسی)