شعبہ ٔ تعلیم میں مصنوعی ذہانت

Updated: September 25, 2022, 9:17 AM IST | Mumbai

شعبۂ تعلیم میں مصنوعی ذہانت وہ موضوع ہے جو اِس وقت پوری دُنیا میں زیر بحث ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ایسے ڈجیٹل پروگرام مرتب کئے جاسکتے ہیں جن کے ذریعہ طالب علم کی تعلیمی استطاعت، مہارت، حصول علم کی رفتار، اہداف تک رسائی وغیرہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت
Artificial Intelligence

 شعبۂ تعلیم میں مصنوعی ذہانت وہ موضوع ہے جو اِس وقت پوری دُنیا میں زیر بحث ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ایسے ڈجیٹل پروگرام مرتب کئے جاسکتے ہیں جن کے ذریعہ طالب علم کی تعلیمی استطاعت، مہارت، حصول علم کی رفتار، اہداف تک رسائی وغیرہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ پروگرام (سسٹم) طلبہ کے سابقہ تعلیمی ریکارڈ، تعلیم میں اس کی کمیاں، اس کیلئے موزوں کورسیز کی تفصیل وغیرہ کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ یہ فائدہ بھی بتایا جارہا ہے کہ طلبہ کو اپنے اساتذہ صرف کلاس روم میں میسر آتے ہیں اس لئے مصنوعی ذہانت پرمبنی سسٹم، استاد کے بغیر بھی اُن کی مشکلات کو دور کرسکتا ہے۔ اس میں اتنی صلاحیت ہوگی کہ طالب علم کے کسی سوال کا جواب ۲ء۷؍ سیکنڈ میں فراہم کردے۔مصنوعی ذہانت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ وہ ایسے اسٹوڈنٹ کی مدد نہیں کرسکتے جو رات میں پڑھائی کا عادی ہے۔ اگر رات ۱۲؍ بجے اُسے ریاضی کے کسی سوال کو سمجھنا ہے تو وہ اتنی رات کو اپنے استاد کو نہیں جگائے گا۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت اس کی مدد کیلئے کافی ہوگی۔
  ایسے کئی دعوے تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے حامیوں کی جانب سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ یہی ’سفارش‘ کیا کم تھی کہ اب یونیسکو نے اسٹیٹ آف ایجوکیشن رپورٹ (برائے ہندوستان) ۲۰۲۲ء میں اس کی پُرزور سفارش کردی اور اسے پائیدار ترقی کے حوالے سے تعلیم کو زیادہ مؤثر بنانے، غیر جانبداری کو یقینی بنانے وغیرہ کیلئے ضروری قرار دیا چنانچہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ عنقریب وزارت تعلیم اس کے نفاذ کا منصوبہ بنائے گی اور جس طرح لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن تعلیم پرانحصار کرکے طلبہ کے تعلیمی سفر کو جیسے تیسے جاری رکھا گیا بالکل اُسی طرح عین ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بھی اسکولوں کالجوں میں داخل کرنے پر زور دیا جائے۔ اب تک تو ہر خاص و عام یہی سمجھ رہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا عمل دخل اُنہی شعبوں میں رہے گا جہاں مشکل اور مشقت طلب کاموں کیلئے انسانی وسائل نامناسب ہیں، افرادی قوت بھی زیادہ لگتی ہے اور وقت بھی زیادہ درکار ہوتا ہے چنانچہ یہ کام مصنوعی ذہانت کے سپرد کردیئے جائینگے مگر تعلیم جیسے اہم شعبے میں اس کو شامل کرنے کا ارادہ، پروگرام، پالیسی یا منصوبہ محل نظر ہے۔ 
 اس لئے محل نظر ہے کہ تعلیم ، تدریس اور تحصیل استاد کے بغیر ممکن نہیں۔ استاد صرف پڑھاتا نہیں ہے، سمجھاتا بھی ہے، سکھاتا بھی ہے، مشکلات کو حل بھی کرتا ہے اور ہر ذہنی سطح کے طلبہ پر مشتمل کلاس میں اپنی تدریسی مہارت کے ذریعہ مضامین کی تفہیم اس انداز میں کرتا ہے کہ جہاں ذہین طالب علم استفادہ کررہے ہیں وہیں کم ذہین اور غبی طلبہ بھی استفادہ کریں، محروم نہ رہ جائیں۔ استاد اپنے طلبہ کی ذہنی استطاعت سے واقف ہوتا ہے اور تدریس کو کلاس کی اوسط ذہانت کے مطابق ڈھالتا ہے۔ استاد کی اس مہارت میں شفقت، جذبۂ خدمت اور مشکل مضامین کیلئے تدریس کو آسان بنانے کی نزاکت اور ضرورت کا احساس بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ اوصاف مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم میں کیونکر پیدا کئے جاسکتے ہیں؟ مشین آخر مشین ہے ۔ اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نئے دور میں اس کے بروئے کار لانے کی ضرورت کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا مگر چند شعبے ایسے ہیں جہاں فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں۔ آن لائن تعلیم کا تجربہ خو شگوار نہیں تھا تو کس بنیاد پر مان لیا جائے کہ مصنوعی ذہانت کا تجربہ خوشگوار ہوگا؟ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK