Inquilab Logo Happiest Places to Work

عین جنگ کے وقت مؤتہ کا میدانِ جنگ آپؐ کی نگاہوں کے سامنے کردیا گیا تھا

Updated: May 12, 2023, 10:59 AM IST | Maulana Nadeem-al-Wajidi | Mumbai

سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں غزوۂ موتہ کا تذکرہ جاری ہے۔ آج کی قسط میں پڑھئے کہ آپؐ کے سامنے کوئی پردہ نہ تھا اور آپؐ بہتے اشکوں کے ساتھ جنگ کی جزئیات صحابہؓ سے بیان فرما رہے تھے

The war was going on in Mota and he was informing the companions of the war from the pulpit of the Prophet`s Mosque in Madinah.
موتہ میں جنگ جاری تھی اور آپؐ مدینہ میں مسجد نبویؐ کے منبر سے صحابہ کرامؓ کو جنگ کی ایک ایک تفصیل سے آگاہ فرما رہے تھے

مدینے میں معجزہ رونما ہوا
ادھر شام کی دو ر افتادہ زمین پر یہ معرکہ (غزوۂ موتہ) انجام پارہا تھا، دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جنگ کی خبر دے رہے تھے اور اس کے واقعات بتلا رہے تھے۔ روایات میں ہے کہ عین جنگ کے وقت مدینہ سے شام تک کے تمام حجابات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ہٹا دیئے گئے، یا زمین ہٹادی گئی اور سب کچھ اس طرح نظر آنے لگا جیسے آنکھوں کے سامنے ہی دونوں فوجوں کے درمیان لڑائی جاری ہو۔ آپؐ نے اعلان کرایا کہ تمام صحابہؓ مسجد میں حاضر ہوجائیں، جب سب لوگ جمع ہوگئے تو  آپؐ  منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ زید بن حارثہؓ نے علم اٹھایا، اور دشمنوں سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوئے، زید کے بعد جعفرؓ ابن ابی طالب نے جھنڈا اٹھایا، انہوں نے بھی جنگ کی یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوئے، وہ فرشتوں کے جھرمٹ میں اپنے بازوؤں کے ساتھ جنت میں اڑتے پھرتے ہیں…‘‘ 
اتنا فرمانے کے بعد آپؐ نے سکوت اختیار فرمایا، انصار کے چہرے اس اندیشے سے پیلے پڑ گئے کہ کہیں عبد اللہ بن رواحہؓ نے حکم عدولی نہ کی ہو۔ کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’پھر اسلام کا جھنڈا عبد اللہ بن رواحہؓ نے پکڑا، انہوں نے بھی دشمنوں سے قتال کیا، وہ بھی شہید ہوگئے، یہ تینوں حضرات جنت میں اٹھا لئے گئے ہیں، وہ سونے کے تخت پر متمکن ہیں، البتہ میں عبد اللہ ابن رواحہؓ کا تخت کچھ ہلتا ہوا دیکھتا  ہوں، جب کہ ان کے دونوں ساتھیوں کے تخت اپنی جگہ جامد ہیں، میں نے کہا کہ عبد اللہ ابن رواحہؓ کا تخت کیوں ہل رہا ہے، مجھے بتلایا گیا کہ ابتداء میں ان کو کچھ تردد تھا، بعد میں وہ تردد ختم ہوگیا اور وہ آگے بڑھے، جب کہ زیدؓ اور جعفرؓ بلا تردد آگے بڑھے۔‘‘ (مزید تفصیل آگے آرہی ہے)
اس تقریر کے دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے اشک بہتے رہے، اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’پھر سیف من سیوف اللہ (خالد بن ولیدؓ )نے اسلام کا جھنڈا اٹھایا۔‘‘ (الطبقات الکبری: ۲/۱۳۰، مجمع الزوائد للہیثمی: ۶/۱۶۰) 
میدان جنگ سے ایک صحابیؓ  کا خبر دینے کے لئے آنا
جب جنگ ختم ہوگئی تو ایک صحابیؓ کو جلد از جلد مدینے پہنچنے کے لئے کہا گیا تاکہ وہ واقعات کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیں، چنانچہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ عرض کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو ہمیں بتلا دو ورنہ ہم تمہیں بتلاتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا، صحابیؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپ ہی بتلادیجئے، چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان جنگ کے تمام واقعات تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیئے۔ صحابیؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے آ پؐ نے تمام واقعات بلا کم وکاست بیان فرمادیئے، کچھ بھی تو نہ چھوڑا، واقعی یہ تمام واقعات اسی طرح پیش آئے جس طرح آپؐ نے بیان فرمائے ہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جس وقت لڑائی جاری تھی اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو اٹھا دیا تھا یعنی اس کی دوری ختم کردی تھی۔ (سیرۃ حلبیہ: ۳/۱۶۰)
اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ عین جنگ کے وقت مؤتہ کا میدان جنگ آپؐ کی نگاہوں کے سامنے کردیا گیا تھا اور آپؐ ایک ایک منظر اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ہم قریب کی کوئی چیز پوری طرح دیکھ لیا کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ان تینوں حضرات کی شہادت کے بعد آپؐ نے ان تینوں کو جنت کے سنہرے تخت پر اس طرح لیٹے ہوئے دیکھا جیسے کوئی شخص اپنی مسہری پر آرام سے سورہا ہو، البتہ حضرت عبداللہ ابن رواحہؓ کا تخت کچھ ہل رہا تھا، اور ایسا اس لئے تھا کہ جس وقت یہ دونوں حضرات شہید ہوگئے تو انہیں جھنڈا اٹھانے میں لمحہ بھر کو کچھ تردد ہوا۔ خوف انسانی فطرت کا تقاضا ہے، یہ تردد بھی اسی خوف کی وجہ سے تھا، لیکن جلدی ہی انہوں ان تمام اندیشوں اور وسوسوں کو دل سے جھٹک دیا اور میدان جنگ کی طرف بڑھ گئے۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ عین اس وقت جب حضرت عبد اللہ ابن رواحہؓ جھنڈا اٹھانے جارہے تھے، شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کیا، کچھ لمحوں کے لئے انہیں بہ تقاضائے بشریت تردد ہوا لیکن جلدی ہی وہ شیطان کو شکست دینے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ (سیرت حلبیہ: ۳/۱۶۰)
صحابۂ کرامؓ کی شہادت اور رسول اللہ ﷺکا رنج وغم
آپ ﷺ اس واقعہ ٔ شہادت سے شدید طور پر رنجیدہ نظر آئے۔ جس وقت منبر پر بیٹھ کر آپ ؐ میدان جنگ کے احوال بیان فرمارہے تھے اس وقت بھی آپؐ رنج وغم کی تصویر بنے ہوئے تھے اور چشم مبارک سے لگاتار اشک بہہ رہے تھے۔ اس کے بعد آپ حضرت جعفرؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت اسماء بنت عمیسؓ کہتی ہیں کہ جب جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت تک میں چالیس کھالوں کو دباغت دے چکی تھی، میں نے اپنے بچوں کو نہلا دیا تھا، میں آٹا گوندھ چکی تھی اور اب بچوں کے سروں پر تیل لگا رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور مجھ سے فرمایا کہ جعفرؓ کے بچوں کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں بچوں کو آپؐ کے پاس لے کر آگئی، آپؐ نے ان کے سروں پر بوسہ دیا، اس وقت آپ کی چشم مبارک سے آنسو ٹپک رہے تھے، میں نے گھبرا کر عرض کیا: یارسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپؐ کیوں رو رہے ہیں، آپؐ نے فرمایا کہ جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں مجھے یہ خبر ملی ہے کہ وہ جنگ میں شہید کردیئے گئے ہیں۔ یہ سن کر میں کھڑی ہوگئی اور رونے چلانے لگی، میری آواز سن کر عورتیں میرے پاس آگئیں۔ آپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے، اور گھر والوں سے فرمایا کہ جعفرؓکے بیوی بچوں کی طرف سے غافل نہ رہنا، ان کے لئے کھانا تیار کرکے بھجوا دینا، وہ لوگ اس وقت جعفرؓ کے صدمے میں مبتلا ہیں۔ (سنن ابن ماجہ: ۱/۵۱۴، رقم الحدیث: ۱۶۱۱) اسی سے فقہاء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرکے بھجوانا ایک مستحسن امر ہے، کیوں کہ اس کی موت سے وہ صدمے میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں کھانا بنانے بلکہ کھانا کھانے تک کا ہوش نہیں رہتا، رشتے داروں اور پڑوسیوں کو چاہئے کہ وہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا نظم کریں، ان کو اصرار کرکے کھلائیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ جس دن حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی وفات کی خبر ملی اس دن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر رنج وملال کے آثار دیکھے۔ اسی دوران ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسولؐ اللہ! عورتوں نے رو رو کر ہمیں عاجز کردیا ہے اور ہمیں پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، آپ نے فرمایا: واپس جاؤ اور انہیں خاموش کرو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور آپؐ کے چہرۂ مبارک پر حزن وملال کی کیفیت محسوس کی گئی، یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے، جس کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ہے، البتہ بیان کرکے رونا، یا شدت غم کی وجہ سے سینہ کوبی کرنا، مرنے والے کا ذکر کرکے خود بھی رونا اور دوسروں کو بھی رُلانا ممنوع ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو آنسو آنکھ سے ہو اور جو غم دل سے ہو وہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس کی رحمت کا حصہ ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی: ۴/۱۱۷، رقم الحدیث: ۷۱۶۰) اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے صحابیؓ سے فرمایا کہ جاکر جعفر کی بیوی کو اور دوسری خواتین کو خاموش کرائیں۔
اسلامی فوج کی واپسی
غزوۂ موتہ سے فارغ ہوکر لشکر ِ اسلام نے مدینہ طیبہ کا رُخ کیا، جب یہ لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرامؓ کے ہمراہ مدینہ سے باہر تشریف لے جاکر ان کا استقبال فرمایا، البتہ کچھ بچوں اور جوانوں نے غازیانِ اسلام پر آوازے کسے اور انہیں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کا طعنہ دیا، اور ان پر مٹی پھینکی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں یہ راہ فرار اختیار کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ یہ کرار ہیں یعنی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ام المؤمنین حضرت سلمہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ میں نے سلمہ بن ہشام بن المغیرۃؓ کی بیوی سے پوچھا کہ سلمہؓ رسولؐ اللہ کے ساتھ نماز میں کیوں نظر نہیں آتے، اس عورت نے جواب دیا کہ وہ تو گھر سے نکل ہی نہیں سکتے، کیونکہ جیسے ہی وہ گھر سے نکلتے ہیں لوگ آوازے کسنے لگتے ہیں کہ یا فرّار یا فرّار فی سبیل اللہ، اے راہ خدا سے بھاگ کر آنے والے۔
یہی وہ وواقعات ہیں جن کی بنا پر بعض سیرت نگاروں نے یہ رائے قائم کی ہے کہ غزوۂ موتہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی، یہ حافظ ابن سعد کی رائے ہے۔علامہ ابن القیمؒ کہتے ہیں کہ اس غزوے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، اور یہی حقیقت ہے۔ امام بخاری نے غزوۂ موتہ کے بیان میں حضرت انسؓ کی ایک روایت نقل فرمائی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدؓ، جعفرؓ اور عبد اللہ ابن رواحہؓ کے شہید ہونے کی خبر لوگوں کو سنادی، حالاں کہ (ابھی تک) ان کی کوئی خبر مدینہ میں نہیں پہنچی تھی، آپ نے فرمایا کہ پہلے زید نے (امارت اور قیادت کا) جھنڈا لیا، وہ شہید ہوئے، پھر جعفر نے سنبھالا، وہ بھی شہید ہوئے، پھر عبد اللہ ابن رواحہؓ نے جھنڈا اٹھایا وہ بھی شہید ہوگئے، یہ فرماتے ہوئے آپؐ کی آنکھوں سے اشک جاری تھے، پھر فرمایا اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولیدؓ) نے جھنڈا اٹھایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح دی۔ (صحیح البخاری: ۵/۲۷، رقم الحدیث: ۳۷۵۷)
رہی یہ بات کہ پھر واپس آنے والے صحابہ کو یَافَرَّار کہہ کر مطعون کیوں کیا جارہا تھا اوران پر مٹی کیوں پھینکی جارہی تھی، اس سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ میدان جنگ سے شہید ہوئے بغیر واپس ہونا گویا میدان سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض صحابہؓ عیسائیوں کے لشکر جرار کو دیکھ کر مدینے واپس ہوگئے ہوں، ایسے ہی لوگوں کو واپسی پر مطعون کیا گیا ہو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت کہنے والوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ان لوگوں نے فرار اختیار نہیں کی بلکہ یہ لوگ تو پھر جانے والے ہیں اوربار بار جانے والے ہیں۔ (جاری)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK