عشرۂ ذوالحجہ کے مبارک دن شروع ہوتے ہی آسمانوں پر رحمتوں کی بارش برسنے لگتی ہے، فرشتے زمین پر اترتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کو خاص نظرِ رحمت سے دیکھتا ہے۔
عشرۂ ذوالحجہ کے مبارک دن شروع ہوتے ہی آسمانوں پر رحمتوں کی بارش برسنے لگتی ہے، فرشتے زمین پر اترتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کو خاص نظرِ رحمت سے دیکھتا ہے مگر افسوس! آج ان بابرکت دنوں کو ہم نے بازاروں کی رونق، جانوروں کی نمائش، قیمتوں کے غرور، سوشل میڈیا کے شور اور ریاکاری کے زہر میں اس طرح دفن کر دیا ہے کہ عبادت کی اصل روح کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ کبھی قربانی اللہ کے حضور عاجزی، محبت اور اطاعت کا نام تھی، مگر آج بہت سے لوگوں کیلئے یہ صرف ایک رسم، ایک روایت، ایک دکھاوا اور ایک وقتی مقابلہ بن کر رہ گئی ہے۔ کبھی لوگ قربانی سے پہلے اپنے دل صاف کرتے تھے، اپنے گناہوں پر روتے تھے، راتوں کو اٹھ کر تہجد میں اللہ سے معافی مانگتے تھے، مگر آج لوگ جانور کی نسل، وزن، قیمت اور ویڈیو کے زاویے طے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو فکر نہیں کہ اُس کی نماز کا کیا حال ہے، اُس کے رزق میں حلال کتنا ہے، اُس کی زبان کتنے لوگوں کے دل زخمی کر چکی ہے، اُس کی آنکھیں کتنے گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہیں، اُس کے دل میں تکبر، حسد، بغض اور دنیا کی محبت کتنی بھری ہوئی ہے۔ قربانی کی روح تو یہ تھی کہ بندہ اپنے رب کے سامنے جھک جائے، اپنی خواہشات کو ذبح کر دے، اپنی انا کو ختم کر دے، مگر ہم نے اس عبادت کو بھی دنیاوی شہرت کا ذریعہ بنا لیا۔
قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے: ’’اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ مگر ہم نے گوشت کو مقصد بنا لیا اور تقویٰ کو بھلا دیا۔ آج اُمت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے عبادتوں کی روح کھو دی ہے۔ نماز جسمانی حرکت بن گئی، قرآن صرف ثواب کی تلاوت بن گیا، دعا صرف مشکل وقت کا سہارا بن گئی، اور قربانی صرف سالانہ تہوار۔ حالانکہ قربانی دراصل اعلان ہے کہ’’اے اللہ! اگر تُو چاہے تو میں اپنی سب سے محبوب چیز بھی تیرے راستے میں قربان کر دوں۔‘‘ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر اللہ کا حکم آ جائے تو خواہشات کو چھوڑ دو، اگر اللہ ناراض ہو رہا ہو تو دنیا کی خوشیاں ٹھکرا دو، اگر اللہ بلا رہا ہو تو گناہوں کی زنجیریں توڑ دو۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مہنگے جانوروں کے لئے لاکھوں خرچ کیے جاتے ہیں مگر کسی یتیم کے آنسو پونچھنے، کسی بیوہ کے چولہے کو جلانے یا کسی غریب طالب ِ علم کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
آج نوجوانوں کی بڑی تعداد ان بابرکت دنوں کو بھی فضول ویڈیوز، گانوں، کھیل تماشوں اور بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتی ہے۔ فجر کی اذانیں ہوتی رہتی ہیں مگر بستروں سے کوئی نہیں اٹھتا۔ قرآن الماریوں میں بند رہتا ہے مگر موبائل ہاتھوں سے نہیں چھوٹتے۔ تکبیراتِ تشریق کی صدائیں کم سنائی دیتی ہیں مگر دنیاوی باتوں کا شور ہر طرف ہے۔ یہ دن اپنے نفس کو ذبح کرنے کے دن ہیں۔ اپنی آنکھوں کے گناہوں کو قربان کرو، اپنی زبان کی تلخی کو قربان کرو، اپنی حرام کمائی کو قربان کرو، اپنی ضد، تکبر، حسد اور بغض کو قربان کرو۔ اگر قربانی کے بعد بھی تمہارا دل پہلے جیسا رہے، تمہاری نماز پہلے جیسی رہے، تمہاری زندگی پہلے جیسی رہے، تو سمجھ لو ابھی قربانی کی روح تمہارے اندر داخل ہی نہیں ہوئی۔