اسلام میں جن دو تہواروں کو عظمت اور تقدس کا مقام حاصل ہے ان میں ایک عیدالفطر ہے جو ایک اہم فریضہ دینی بلکہ اسلام کے ایک اہم رکن کی ادائیگی کے بعد منائی جاتی ہے اور دوسرا ہے عید قرباں جو موحد اعظم حضرت ابراہیم ؑ اور آپ کے لخت جگر حضرت اسماعیل ؑ کی یاد میں منائی جاتی ہے۔
اسلام میں جن دو تہواروں کو عظمت اور تقدس کا مقام حاصل ہے ان میں ایک عیدالفطر ہے جو ایک اہم فریضہ دینی بلکہ اسلام کے ایک اہم رکن کی ادائیگی کے بعد منائی جاتی ہے اور دوسرا ہے عید قرباں جو موحد اعظم حضرت ابراہیم ؑ اور آپ کے لخت جگر حضرت اسماعیل ؑ کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ان تہواروں کی نمایاں ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے جلو میں روح پرور پیغام رکھتے ہیں۔
عید قرباں توحید کے ایک ایسے علمبردار کی بے مثل قربانیوں سے عبارت ہے جس نے شرک وبت پرستی کی آلائشوں میں گرفتار معاشرہ اور وقت کے خدا نمرود کے ظلم واستبداد کی پروا کیے بغیر کائنات کے اصل خالق اور معبود حقیقی کی خوشنودی کو اپنی زندگی کا وطیرہ بنالیاتھا۔ آپ ماں باپ ، اعزہ واقربا اور دیگر افراد معاشرہ میں توحید کے شجر طیب کی تخم ریزی کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس مقدس مشن کی راہ میں ان کے والد اور معاشرہ کے دیگر افراد کو بڑی جگر سوزی کے ساتھ ایک خدا کی خدائی کی دعوت دی لیکن اس عظیم الشان حق پرست کی کوششیں صدابصحرا ثابت ہوئیں اور نہ یہ کہ صرف گھرانہ بلکہ پورے معاشرہ اور حکومت وقت نے بھی اس عظیم علم بردار حق کی مخالفت ومخاصمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے خرمن دل میں توحید کانشیمن تیار ہوچکاتھا اوروہ کسی بھی قیمت پر آبا و اجداد اور معاشرہ وحکومت کی دلدوز دھمکیوں پر جھکنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ایسے ماحول میں جہاں اپنے ہی ہاتھوں سے تراشیدہ خداؤں کی عبادت کو اعلیٰ درجے کی عبادت تصور کیا جارہا ہو، حضرت ابراہیمؑ اپنے والد اور اپنی قوم کو جرأت مندانہ مخاطب کرتے ہیں اور ان کے خداؤں کی حقیقت کو وا کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس جرأت مندی کو یوں بیان کیاہے:
’’جب وہ اپنے رب کی بارگاہ میں قلب ِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے، جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو؟، کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر اللہ رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔‘‘(الصّٰفّٰت: ۸۴۔۸۷)
حضرت ابراہیم کے داعیانہ کردار کی بے باکی کو ایک دوسری جگہ قرآن ان الفاظ میں حوالۂ قارئین کرتاہے’’اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کہا: کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔‘‘ (الانعام: ۷۴)
وقت کے پیغمبر نے جب دیکھا کہ آباء واجداد اور قوم کے افراد گم گشتۂ راہ ہیں اور کسی بھی حال میں اپنے جھوٹے خداؤں سے تعلق ختم کرکے کائنات کے اصل خالق اور معبود حقیقی سے رشتہ استوار نہیں کرنا چاہتے تو آپ نے ان کو اپنے قول اور عمل سے باور کرایا کہ وہ ان کے مسلک ومذہب میں ضم ہونے کیلئے کسی قیمت پر تیار نہیں ہیں اور یہ کہ اس کائنات کا حقیقی خالق ومالک ہی وہ ہستیٔ برتر ہے جس کے سامنے وہ سرعبودیت جھکاسکتے ہیں۔ چنانچہ قوم اور قوم کے جھوٹے خداؤں سے بیزار ہوجاتے ہیں اور ان الفاظ میں اعلان برأت کرتے ہیں:
’’میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ (سورہ الانعام: ۷۹)۔ وقت کا عظیم المرتبت نبی اس اعلان برأت پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے پورے وجود کو مرضی ٔمولا کے حوالے کردینے کا اعلان کرتا ہے۔ قرآن کریم کے یہ مقدس الفاظ حضرت ابراہیم کے اس موحدانہ اور مبارک ومحمود جذبہ کی پوری ترجمانی کرتے ہیں: ’’بلاشبہ میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرامرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اسی کامجھے حکم دیاگیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ (الانعام:۱۶۲۔۱۶۳)
دوسرا قیمتی سبق جو ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی سے ملتا ہے وہ یہ کہ احوال چاہے کیسے بھی ہوں، تمام احوال میں ایک کلمہ گو سے تقاضا ہوتا ہے کہ وہ باطل کے خلاف نبردآزما (Combatant)ہو۔ آپ کی زندگی سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ اللہ پر ایمان وایقان اُسی وقت معتبر ہے جب ہم پورے شعور کے ساتھ، جرأت مندی کامظاہرہ کرتے ہوئے اور بے جا مصلحت پسندی کا شکار ہوئے بغیر لاالٰہ بھی کہیں یعنی اللہ عزوجل کا صحیح اقرار واعلان منحصر ہے تمام باطل خداؤں کے انکار پر۔ آج مسلمانوں کی جو بھی اندوہناک حالت ہے اور جو بھی زوال ہے، خواہ سیاسی ہو یا معاشی، تعلیمی ہو یا تہذیبی ،سماجی ہو یا اخلاقی، ان تمام کی واحد اور خاص وجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کاتعلق دین سے رسمی طور پر ہے، ہونا تو یہ تھا کہ دین سے تعلق مضبوط ومستحکم ہو جاتا اور وقتی مفاد دین پر عمل پیرا ہونے میں مانع ومزاحم نہ بنتا۔ کاش اللہ تعالیٰ کایہ ارشاد دین کے علمبرداروںکیلئے اور ملت براہیمی کے فرزندوں کیلئے بانگ درا بن جاتا:
’’اے ایمان لانے والو! اسلام میں پورے کے پورے طور پر داخل ہوجاؤ۔‘‘ (البقرۃ: ۲۰۸)۔ اگر آج خدائے واحد کے پرستاروں اور عقیدۂ توحید کے علمبرداروں نے دین سے تمسک (Strong Relation) اور استقامت (Consistency) کی یہ پالیسی اختیار کرلی تو وہ دن دور نہیں جب کہ اللہ کی رحمتوں کی مینہ ان پر برسے گی اور اللہ اپنے فرشتوں کی فوج کے ذریعہ ان کو فائز المرام بنائے گا۔ اللہ رب العزت کا یہ اعلان سنیے:
’’بلاشبہ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے ، پھر وہ اس پر جم گئے، اللہ تعالیٰ ان پر فرشتوں کو نازل کرتا ہے (اور فرشتے ان سے مخاطب ہوتے ہیں) کہ خوف نہ کھاؤ اور نہ ہی مغموم ہو او راس جنت سے خو ش ہوجاؤ، جس کاتم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ ہم تمہارے دنیا میں بھی کارساز ہیں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لئے آخرت میں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جسے تمہاری زبانیں مطالبہ کریں گی۔‘‘
(سورہ حم السجدۃ:۳۰۔۳۱)۔