Inquilab Logo Happiest Places to Work

عیدالاضحیٰ : ایثار، محبت اور انسانیت کا پیغام

Updated: May 28, 2026, 10:29 AM IST | Nayla Rehan | Mumbai

عیدالاضحی مسلمانوں کے لئے محض ایک تہوار نہیں بلکہ جذبۂ قربانی، اطاعت ِ الٰہی اور ایثار و محبت کا عظیم پیغام ہے۔

Goats.Photo:INN
بکرے۔ تصویر:آئی این این
عیدالاضحی مسلمانوں کے لئے محض ایک تہوار نہیں بلکہ جذبۂ قربانی، اطاعت ِ الٰہی اور ایثار و محبت کا عظیم پیغام ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی ہر خواہش کو قربان کردیا۔ اسی جذبے کو زندہ رکھنے کے لئے ہر سال مسلمان سنتِ ابراہیمی ادا کرتے ہیں۔
آج کے مادّی دور میں جبکہ انسان اپنی ذات، خواہشات اور مفادات میں گم ہوتا جارہا ہے، عیدالاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اپنی انا، خود غرضی اور نفسانی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کردینے میں ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر موجود تکبر، حسد، بغض اور لالچ کو ختم کرنے کا پیغام بھی ہے۔یہ عید ہمیں غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کا احساس دلانے کے لئے بھی آتی ہے۔ قربانی کے گوشت میں ان لوگوں کا حصہ رکھنا جو گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، دراصل اسلام کی خوبصورت تعلیمات کا عملی مظہر ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی بھوکا، پریشان یا محروم رہ جائے تو ہماری خوشیاں ادھوری ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ عید کی مسرتوں میں سب کو شریک کیا جائے۔
خواتین اس موقع پر گھروں کی رونق اور نظام کی اصل نگہبان ہوتی ہیں۔ ان کی محنت، سلیقہ اور خوش اخلاقی ہی عید کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ قربانی کے ایام میں صبر، محبت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور نئی نسل کو بھی ایثار، صفائی، تعاون اور خدمتِ خلق کا درس دیں۔ بچوں کی تربیت میں ماؤں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، اس لئے اگر ماں قربانی کی حقیقی روح کو سمجھ کر اپنی اولاد کو سکھائے تو ایک بہترین معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔ 
عیدالاضحی ہمیں اتحاد، بھائی چارہ اور باہمی محبت کا درس بھی دیتی ہے۔ آج امت ِ مسلمہ جن حالات سے گزر رہی ہے ان میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم اختلافات اور نفرتوں کو ختم کرکے محبت، رواداری اور خیر خواہی کو فروغ دیں۔ یہی عید کا اصل پیغام اور اسلام کی حقیقی روح ہے۔ آئیے اس عید پر ہم یہ عہد کریں کہ صرف جانور ہی نہیں بلکہ اپنی بری عادتوں، منفی سوچوں اور خود غرض رویوں کو بھی قربان کریں گے، اور اپنے معاشرے کو محبت، ہمدردی اور اخلاص کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اس کی حقیقی روح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ دیکھ رہا ہے
یہ محض چار لفظ ہیں۔ ان سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ وہ شخص جو پڑھا لکھا ہے وہ بھی جانتا ہے کہ اس کا معنی کیا ہے اور جو پڑھا لکھا نہیں ہے وہ بھی جانتا ہے۔ ہر شخص جانتا ہی نہیں مانتا بھی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ مگر ہمارا یہ ماننا ہمیں گناہ سے روکتا نہیں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، مانتے بھی ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے مگر اللہ کا خوف جس قدر ہونا چاہئے نہیں ہے اس لئے ہم ’’اللہ دیکھ رہا ہے‘‘ کے باوجود خود کو گناہ سے نہیں روک پاتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں ’’اللہ دیکھ رہا ہے‘‘ کے احساس پر محنت کرنی ہوگی تاکہ احساس ڈر میں تبدیل ہو۔ جس دن احساس ڈر میں تبدیل ہوگا، اس دن کایا پلٹ ہوجائیگی اور ہم گناہ سے بچنے لگیں گے۔ اس کی ٹریننگ کیلئے ہمیں بتایا گیا ہے کہ نماز پڑھو تو ذہن میں یہ بات رہے کہ مَیں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ اگر یہ کیفیت نہ پیدا ہو تو یہ ذہن میں رکھو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔اس سے نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ہر جگہ اور ہر وقت یہ احساس پیدا کرنے کی ٹریننگ بھی ملتی ہے کہ مجھے گناہ نہیں کرنا کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ صاحبو، یہ کامیابی کی کنجی ہے کہ ہر شخص اپنے اندر ’’اللہ دیکھ رہا ہے‘‘ کا احساس پیدا کرے۔ اس سے زندگی میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوگی جو غیر معمولی کامیابی کو راہ دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK