• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعظم خان، ۵۰؍ ماہ جیل، کچھ دن کیلئے ’بیل‘ اور پھر جیل، یہ کیا ہورہا ہے؟

Updated: December 16, 2025, 4:15 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

۲۰۱۷ء کے بعد اتر پردیش میں مسلم قیادت کو جس طرح کچلا گیا، ملک میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے، اعظم خان انہی میں سے ایک ہیں جن سے اب مخالفین بھی ہمدردی کا اظہار کرنےلگے ہیں۔

When 77-year-old Azam Khan was released from prison on September 23, it seemed that his troubles might now be over, but that was not to be. Picture: INN
۲۳؍ ستمبر کو جب ۷۷؍ سال کے اعظم خان کی جیل سے رہائی ہوئی تو ایسا لگا تھا کہ اب شاید ان کی مصیبتیں ختم ہو جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ تصویر: آئی این این
مرکز اور اتر پردیش میں بی جےپی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مایاوتی  نے سیاست سے کم وبیش کنارہ کشی سی اختیار کرلی ہے۔ خال خال ہی ان کے بیانات نظر آتے ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ ایسا لگ  رہا ہے کہ ۲۰۲۷ء کے اسمبلی الیکشن سے قبل ایک بار پھر ان کی پارٹی کو جھاڑ پونچھ کر نکالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ حال ہی میں ہونےوالی بی ایس پی کی ایک ریلی اوراس میں  امڈنے والی  بھیڑ اس کا اشاریہ ہے۔ یہ بھی  دلچسپ  ہے کہ سیاست سے کنارہ کشی اور اپنے خول میں سمٹ جانے  کے دوران  اگر مایاوتی نے کوئی بیان دیا بھی تو ان کے نشانے پرحکمراں محاذ کم  اور خود اپوزیشن زیادہ  رہا۔  اس کے باوجود  جن معدودےچند  موقعوں   پر    انہوں نے حکومت اور بی جےپی کو نشانہ بنایا ،ان میں  اعظم خان کی حمایت میں ان کا وہ بیان اہمیت کا حامل ہے جو انہوں   نے مئی ۲۰۲۲ء میں  دیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر    انہوں  نے  اپنے کٹر سیاسی مخالف حریف کے ساتھ  ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  کہا تھا کہ اعظم خان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ عوام کی نظر میں ’’انصاف کا گلا گھونٹ دینے‘‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے اپنے مذکورہ بیان میں  یوگی حکومت پر اتر پردیش میں  ’’غریبوں، دلتوں ، قبائلیوں  اور مسلمانوں‘‘ کو ظلم وستم کا نشانہ بنانے ا ور ان میں خوف پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے افسوسناک بھی قراردیاتھا۔ 
اعظم خان کے بارے میں بھلے ہی یہ کہا جائے کہ ’’قانون  اپنا کام‘‘ کررہاہے مگر ان کے خلاف یکے بعد دیگرے جس طرح  مقدمے درج ہوئے اور پھر جس طرح انہیں  ہی نہیں ان کے خاندان کے ہر فرد کو جیل میں پہنچایاگیا،وہ  اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اعظم خان سیاسی انتقام کا شکار ہوئے ہیں۔  بلکہ اس سے آگے بڑھ کر شاید  ان کا یہ ’’حشر‘‘ اتر پردیش کے مسلمانوں کیلئے یہ پیغام بھی ہے کہ جب ۱۰؍ بار کے ایم ایل اے، ۲؍ بار کے ایم پی اور کئی بار کے وزیر کے ساتھ یہ رویہ  روا رکھا جاسکتا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیاجن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔اسے اس پس منظر میں بھی دیکھا جانا چاہئے کہ اتر پردیش  کے سیاسی منظر نامہ سے مسلم قیادت کو کم وبیش ختم کردیاگیاہے۔
بہرحال   ۲۳؍ ستمبر کو جب  ۷۷؍ سال کے اعظم خان کی   جیل سے  رہائی ہوئی تو ایسا لگا کہ اب شاید ان کی مصیبتیں ختم ہو جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ محض۵۴؍ دنوں کی آزادی کے بعد ۱۷؍   نومبر کو پھر انہیں  پابند سلاسل ہونا پڑا کیوں کہ بیٹے عبداللہ اعظم کے ۲؍ پین کارڈ کے کیس میں عدالت نے انہیں بیٹے کے ساتھ  ۷؍ سال قید کی سزا سنادی تھی۔ عدالت میں ہی پولیس نے انہیں حراست میں لےلیا اور جیل منتقل کردیا۔ جس وقت وہ جیل جا رہے  تھےاس وقت ان کے ہاتھ میں بسکٹ کے ۲؍ پیکٹ اور چشمے کا ڈبہ تھا۔ پولیس کی گاڑی سے اتر کرجب وہ سخت سیکوریٹی میں جیل کی طرف بڑھے تو میڈیا نے ان سے ان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی مگر چٹان کی طرح سخت رہنےوالے اعظم خان  جو اپنے کاٹ دار جملوں کیلئے جانے جاتے ہیں، کی زبان سے اُس وقت نکلنےوالے الفاظ ان کی بے بسی کا رونا رو رہے تھے۔ ان کابہت ہی مختصر سا جواب تھا کہ’’بہتر ہے، کورٹ نے گنہ کار سمجھا تو سزا سنائی ہے۔‘‘۵؍ سال میں ۶۰؍ مہینے ہوتے ہیں اور اعظم خان ان ۶۰؍ مہینوں میں  سے ۵۰؍ مہینے جیل میں گزار چکے ہیں اور پھر جیل میں ہیں۔ان کی مایوسی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں جب ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بہنیں  جیل میں ان سے ملاقات کیلئے پہنچیں تو اعظم خان نے  ملنے سے انکار کردیا۔  ان کےبیٹے  عبداللہ اعظم کو جمعہ کو ۲؍ پاسپورٹ کے معاملے میں بھی ۷؍ سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ 
یہ واضح  ہے کہ اعظم خان کیلئے راوی ابھی چین نہیں لکھتا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان میں  اعظم خان کا بیٹا  واحد شخص ہے جس کے ۲؍ پین کارڈ ملے ہیں، یا جس نے ۲؍ پاسپورٹ بنوانے کا جرم کیا ہے۔ البتہ ایسا ضرور ہے کہ قانون کا اطلاق اعظم خان اوران کے بیٹے پر بطور خاص ہوا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح  ’’نفرت انگیز‘‘ تقریر کے معاملے میں ذیلی عدالت نے انہیں  ۳؍ سال کی سزا سنائی اور ان کی رکنیت چلی گئی جبکہ ملک میں  نفرت انگیز تقاریر کی باڑھ آئی ہوئی  ہے اور شاید ہی کسی کیس میں اب تک کسی بھگوا شدت پسند کو سزا ہوئی ہو۔ بالکل اسی طرح  جیسے سی اے اے این آر سی کے جلسوں میں تقاریر کی پاداش میں  عمر خالد ،شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ،میراں حیدر، خالد سیفی اور دیگر تو برسوں سے جیل میں  ہیں مگر سرعام تشدد کی دھمکی دینے والےکپل مشرا رکن اسمبلی ہیں۔   
یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ ’نفرت انگیز‘ تقریر کے جس کیس کی پاداش میں اعظم خان کو ۳؍ سال قید کی سزا ہوئی اور جس کی وجہ سے ان کی اسمبلی کی رکنیت ہی نہیں گئی بلکہ  ۲۰۲۷ء تک الیکشن میں ووٹ دینے سے بھی وہ محروم کئے گئے ،اس کیس  میں اپیل کے بعد وہ بری ہوگئے۔ انہیں بری کرتے ہوئے عدالت نے  اس  بات کا بھی نوٹس لیا کہ’’استغاثہ کے گواہ نمبر ایک‘‘انل کمار چوہان نے جس نے اعظم خان  کے خلاف کیس درج کیاتھا،اپنی گواہی میں  اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ کیس اس نے رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کے دباؤ میں درج کیا تھا۔  یہ الگ بات ہے کہ اس بری کئے جانے کو  یوگی سرکار  نے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے۔
اتر پردیش کے اس سابق وزیر پر ۸۱؍ سے زیادہ مقدمات ہیں جبکہ ان کےبیٹے اور اہلیہ پر ۴۰؍ کے آس پاس معاملات درج ہیں۔ یہ سارے معاملات یوگی آدتیہ ناتھ  کے برسراقتدار آنے کے بعد ہی  درج ہوئے  ہیں۔مرغی اورکتاب چوری سے لے کر زمین پر قبضہ تک ان پر ایسے ایسے مقدمات ہیں جو ان کے شایانِ شان بھی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میںکوئی بھی کیس کمیشن خوری یا رشوت کا نہیں ہے۔  
زمین پر قبضہ  کے تعلق سے ان کے خلاف کیس کا اندراج ۲۰۱۹ء میں ہوا۔ اس کی دلچسپ حقیقت معروف ماہر قانون کپل سبل نے گزشتہ دنوں اپنے یوٹیوب چینل پر اعظم خان سے گفتگو کے دوران بتائی ۔ زمین قبضہ کے تعلق سے ان کے خلاف ۲۷؍ ایف آئی آر درج ہوئیں،  ان کے اندراج کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ مضحکہ خیز ہے بلکہ مقصدکو بھی ظاہر کرتا ہے۔ زمین پر قبضہ کے سلسلے میں پہلی ایف آئی آر ۱۳؍ سال بعد۱۳؍ جولائی  ۲۰۱۹ء کو  ۴؍ بجکر ۵۶؍ منٹ پر ہوئی ، دوسری  اسی دن ۵؍ بجکر ۴۷؍ منٹ پر ، تیسری ۱۴؍ جولائی کو ایک بجکر ۲۱؍ منٹ پر اور  پانچویں ۱۵؍ جولائی کو ۱۱؍ بجکر ۱۴؍ منٹ پر ہوئی۔اس کے بعد پھر ۱۶؍ جولائی کو  ایک ہی دن میں ۸؍ ایف آئی آر درج کی گئیں جو   ۱۰؍ بجکر ۲۲؍ منٹ پر، ۱۰؍ بجکر ۳۴؍ منٹ پر، ۱۰؍ بجکر ۴۰؍ منٹ پرپھر ۱۰؍ بجکر ۴۲؍ منٹ پھر ۱۱؍ بجکر ۲؍ منٹ، ۱۱؍ بجکر ۱۱؍ منٹ  پر اور پھر ۱۱؍ بجکر ۱۸؍ منٹ  پر درج ہوئیں۔یعنی ۱۳؍ سال بعد ۲۷؍  کسانوں کو اچانک یہ خیال آیا کہ اعظم خان نےان کی زمین پر قبضہ کیا ہے اور انہیں مقدمہ درج کروانا ہے۔ مقدموں کے اندراج کا یہ پیٹرن اپنے آپ میں  بہت کچھ  بیان کررہا ہے۔ اعظم خان  اپنے خلاف درج تمام مقدمات کوفرضی قرار دیتے ہیں۔  انہیں یہ یقین بھی ہوگا کہ’نفرت انگیز‘ تقریر کے مقدمہ کی طرح آج نہیں تو کل اعلیٰ عدالتوں میں  پہنچ کردیگر مقدمات سے بھی وہ بری ہوجائیں گے مگرکیا وہ انصاف ہوگا۔
یہ بھی کم دلچسپ نہیں کہ جس وزیراعلیٰ کے دور میں اعظم خان  کے خلاف کھود کھود کر اور ڈھونڈڈھونڈ کرمقدمات درج کئے گئے اس نے برسراقتدار آنے کے بعدخود کو خودہی کلین چٹ دی اور  اپنے اوپر درج فساد اور نفرت انگیزی کے مقدمات اپنی حکومت کا فائدہ اٹھا کر واپس لئے۔یہ طرفہ تماشہ نہیں،ہندوستانی جمہویت  کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK