• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کے ۱۵؍ سینیئر وکلاء نے دیپک کمار کے جم کی ممبرشپ خریدی، مفت قانونی امداد کی بھی پیشکش

Updated: February 13, 2026, 6:04 PM IST | Dehradun

بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر اور انسانی حقوق کیلئے سرگرم سماجی کارکن ہرش مندر نے بھی لوگوں سے دیپک کمار کی جم کو مالی سہارا دینے کے لیے اس کی رکنیت لینے کی اپیل کی ہے۔

Deepak Kumar and `Hulk Gym.` Photo: X
دیپک کمار اور ’ہلک جم۔‘ تصویر: ایکس

اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں ایک ۷۰ سالہ مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے والے ہندوتوا تنظیم کے ممبران سے الجھنے کے بعد مبینہ معاشی بائیکاٹ کا سامنا کررہے دیپک کمار کی حمایت کے لیے سپریم کورٹ کے ۱۵؍ سینیئر وکلاء کے گروپ نے آگے آکر ان کی جم کی ممبرشپ خریدنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ ۲۶ جنوری کو دیپک کمار بجرنگ دل کے ممبران سےالجھ پڑے تھے جو مبینہ طور پر معمر مسلم دکاندار پر اپنی دکان کے نام سے لفظ ”بابا“ ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ دیپک نے دکاندار کا ساتھ دیتے ہوئے خود کو ”محمد دیپک“ کے طور پر متعارف کرایا تھا اور ہندوتوا تنظیم کے مطالبہ پر سخت اعتراض کیا تھا۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ چند صارفین نے کوٹ دوار میں بدری ناتھ روڈ پر واقع دیپک کمار کے `ہلک جم` (Hulk Gym) کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق، اس واقعے سے پہلے جم کے تقریباً ۱۵۰ ممبران تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف ۱۵ رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ سے دیپک کی مالی حالت شدید متاثر ہوئی ہے۔ وہ جم کی عمارت کا ماہانہ ۴۰ ہزار روپے کرایہ اور ہوم لون کی ۱۶ ہزار روپے قسط ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی میں مؤرخ عرفان حبیب پر پانی سےبھری بالٹی پھینکی گئی

اس صورتحال کے جواب میں، ۱۵ سینیئر وکلاء نے دیپک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر ۱۰-۱۰ ہزار روپے ادا کرکے جم کی ایک سالہ رکنیت حاصل کی۔ انہیں اس مہم کی تحریک سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس سے ملی، جنہوں نے اس سے قبل جم کا دورہ کیا تھا اور اس کی رکنیت حاصل کی تھی۔

مالی مدد کے علاوہ، وکلاء کے گروپ نے دیپک کو اس واقعے سے پیدا ہونے والے کسی بھی قانونی کارروائی سے نمٹنے کے لیے مفت قانونی امداد فراہم کرنے کا عہد بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق، ۲۰ سے زائد وکلاء `پرو بونو` (مفت قانونی نمائندگی) فراہم کرنے کی اس کوشش میں شامل ہو گئے ہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر اور انسانی حقوق کیلئے سرگرم سماجی کارکن ہرش مندر جیسی عوامی شخصیات نے بھی لوگوں سے دیپک کمار کی جم کو سہارا دینے کے لیے اس کی رکنیت خریدنے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ’ایکس‘ اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے مدد کی پیشکش کے لیے جم کے اکاؤنٹ کی تفصیلات طلب کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پی ایم مودی پر ’’دی وائر‘‘ کا اینی میشن ویڈیو بلاک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت

جے پور سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اوی ڈانڈیا نے اعلان کیا کہ وہ جم میں پہلے ۱۰۰ درخواست گزاروں کی ایک ماہ کی رکنیت کی فیس اپنی جانب سے ادا کریں گے۔ کچھ حامیوں نے دیپک کو آن لائن فٹنیس سیشن شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کا حصہ ضرور بنیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK