اپوزیشن اتحاد’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کا پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 8:21 AM IST | Islamabad
اپوزیشن اتحاد’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کا پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ
پاکستان کے اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ (ٹی ٹی اے پی) نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی خراب صحت اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف جمعہ کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے باہر دھرنا دیا۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کا اعلان جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک رپورٹ کے پیش ہونے کے چند گھنٹے بعد کیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف۱۵؍ فیصد رہ جانے کا ذکر ہے۔
سپریم کورٹ میں مذکورہ رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیش کی جنہیں عدالت عظمیٰ نے ’عدالت کا دوست‘ مقرر کرتے ہوئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملنے اور وہاں ان کی صورتحال پر تفصیل جمع کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔
سلمان صفدر بدھ کو تقریباً تین گھنٹے اڈیالہ جیل میں رہے اور حکام کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے۔ انہوںنے اپنی رپورٹ پی ٹی آئی کے بانی سے متعلق بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ میں صرف۱۵؍ فیصد بینائی رہ گئی ہے۔
عدالت نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کاحکم دیا
رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے ۲؍ رکنی بنچ نے۱۶؍ فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان (عمران خان) کی ان کے بیرون ملک مقیم بیٹوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا۔
اپوزیشن اتحاد کا کیا کہنا ہے؟
ایکس پر ایک بیان جاری کرکے تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کیا۔بیان کے مطابق ہم پارلیمنٹ کے گیٹ کے باہر ڈی چوک پر دھرنا دے دیں گے اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل نہیں کردیا جاتا اور وہاں ان کا ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج نہیں کروا دیا جاتا۔
اسی دوران جمعہ کو دھرنے سےمتعلق ایکس پر پی ٹی آئی نے بتایاکہ پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنے میں شرکت سے روکنے کے اقدام کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ کے پی ہاؤس اسلام آباد کے باہر موجود رہےجہاں اسلام آباد پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل
خان آفریدی نے کیاکہا؟
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ منتخب نمائندوں کے ساتھ پولیس کا رویہ غیر مناسب ہے، جبکہ جعلی طریقے سے آنے والوں کو پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس عوام کی نہیں بلکہ شہباز شریف کی ذاتی ملازم بنی ہوئی ہے۔