پاکستان کی جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی ۸۵؍ فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے، اس خبر کے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی حالت کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 6:04 PM IST | Islamabad
پاکستان کی جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی ۸۵؍ فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے، اس خبر کے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی حالت کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ۔
پاکستان کی جیل میں بندسابق وزیراعظم عمران خان نے ملک کی اعلیٰ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً۸۵؍ فیصد بینائی ختم ہو چکی ہے، جس پر سپریم کورٹ نے ان کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے لیے میڈیکل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔واضح رہےکہ عمران خان، جو اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں طویلقید تنہائی میں ہیں، طویل عرصے سے جیل میں ناروا سلوک کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ان کے معاونین پاکستان کے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں خان کے ساتھ جان بوجھ کر، غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر نے کا خدشہ
دریں اثناء رپورٹ کے مطابق، خان نے کہا کہ تقریباً تین سے چار ماہ پہلے، اکتوبر۲۰۲۵ء تک، ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی معمول کے مطابق تھی۔ اس کے بعد انہیں مسلسل دھندلا پن محسوس ہونے لگا، جس کے بارے میں انہوں نے بارہا اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اطلاع دی، لیکن جیل حکام نے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق، خان کا ۲۴؍ جنوری کی رات اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں طبی معائنہ کیا گیا، جس کی تصدیق کئی دن بعد ہوئی اور بظاہر خاندان کو اس کا علم نہیں تھا۔بعد ازاں پاکستان کے چیف جسٹن یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’’عمران کی صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اورمداخلت ضروری تھی۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: کم جونگ اُن کی ۱۳؍ سالہ بیٹی اگلی حکمران ہوں گی
طبی عدم توجہی اورقید تنہائی کا براہ راست نتیجہ:
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس پیشرفت کو ’’قید تنہائی اور طبی عدم توجہی کا براہ راست نتیجہ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ ’’یہ ۹۲۲؍ دنوں کی قید تنہائی، طبی عدم توجہی اور جیل میں مناسب علاج سے جان بوجھ کر انکار کا براہ راست نتیجہ ہے‘‘اور کہا کہ "ذمہ داری براہ راست حکومت، آرمی چیف اور ان عہدیداروں پر عائد ہوتی ہے جو اس ظلم کو ممکن بنا رہے ہیں۔‘‘ تاہم پاکستان سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ عمران خان کو اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ ڈان کی خبر کے مطابق، عدالت کے ذریعے حکم دیا گیا ہے کہ آنکھ کا معائنہ اور فون کالز دونوں۱۶؍ فروری سے پہلے کرائی جائیں۔یاد رہے کہ خان فی الحال متعدد مقدمات میں قید ہیں، اور متعدد رپورٹس کے مطابق انہیں کم از کم۵؍ بڑی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔