ہوشیار باش!صاحبِ عالم تشریف لارہے ہیں

Updated: January 03, 2021, 12:48 PM IST | Prof Syed Iqbal

جیف بیزوس ایسے لوگوںکا مشن نہ غریبی کا خاتمہ کرنا ہے، نہ کینسر کا علاج دریافت کرنا ہے، نہ انہیں کائنات کے راز ہائے سربستہ جاننے کا جنون ہے، انہیں علم وتعلیم کے فروغ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں صرف اپنے منافع سے دلچسپی ہے۔ یہ نہ رتن ٹاٹا ہیں ، نہ عظیم پریم جی ، جن کی دولت کا ایک بڑا حصہ رفاحی کاموں کیلئے وقف ہے۔فی الوقت ان کی آمدنی۱۸۷؍ بلین تک پہنچ چکی ہے مگر....

Jeff Bezos - Pic : INN
جیف بیزوس ۔ تصویر : آئی این این

سال ۷۰ء کی دہائی میں جب ہم شہر چھوڑکر مضافات میں منتقل ہوئے تو وہاں کی ویرانی دیکھ کر ایک لمحے کو احساس ہوا کہ شاید ہم نے فیصلہ کرنے میں عجلت کردی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ  وہاں کی سہولتوں کا اندازہ ہوا تو اپنے فیصلے پر پیار آنے لگا۔ اسکول ، دواخانے، بینک ، بس اسٹاپ اور ریلوے اسٹیشن سب قریب تھے۔ ہاں! تفریح کی جگہیں کچھ دوری پر تھیں۔ اچھے ہوٹل بھی نہیں کھلے تھے۔دکانیں تھیں مگر بوسیدہ اور قدیم۔ جب اناج خریدنے کانتی بھائی کی دکان پر پہنچے تو لگا کہ گجرات سے ہجرت کر کے انہوںنے یہاں کاروبار تو کھول لیا مگر دکان کی سجاوٹ پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔  کانتی  بھائی کی زبان بڑی میٹھی تھی۔ وہ ہر گاہک سے اس خوش اخلاقی سے پیش آتے کہ لوگ ان کی دکان کی بوسیدگی بھول کر صرف  انہیں سے سامان خریدتے۔ سامان زیادہ ہوتا تو وہ اپنے ملازم کے ذریعہ گھر تک بھجوانے کا انتظام بھی کرتے۔ چونکہ ان دنوں فون عام نہیں تھے اسلئے ہر بار ان کی دکان پر حاضری  دینا پڑتی تھی۔ اس طرح گاہکوں سے ان کی اچھی خاصی دوستی ہوجاتی۔ انہیں مسلمانوں کے تہواروں کا بھی پتہ تھا۔ رمضان میںکھجوریں اور روح افزا لینے کیلئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس طرح عید کیلئے چھوارے ، سویّاں اور میوے بھی وہیں مل جاتے۔ کسی کا انتقال ہوجاتا توکانتی بھائی تعزیت کیلئے بھی  پہنچ جاتے۔ ہمیں پڑھا لکھا دیکھ کر ہمارا کچھ زیادہ ہی خیال رکھتے۔ جب فون آگئے اور ہم فون پر آرڈر لکھوانے لگے تو ملازم کے ہاتھ سامان کے ساتھ بل بھی بھجوادیتے۔ یہ ان کی شرافت تھی کہ کبھی بل کا تقاضا نہیں کیا۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کے صاحبزادے اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہم اپنا پرانا گھر بدل کر کچھ دور چلے گئے ہیں مگر آج بھی ہمارے ہاں انہی کے دکان سے سامان آتا ہے۔ کبھی اتفاقاً اس علاقے سے گزر ہوتا ہے تو ہم رک کر ان کے صاحبزادے سے صاحب سلامت ضرور کرلیتے ہیں۔
 کیا کسی شاپنگ مال سے اس حسن ِ سلوک کی توقع کی جاسکتی ہے؟ ان مالز میں ایک دنیا آباد ہے۔فلم تھیٹر، فوڈ کورٹ ، بچوں کے کھیلنے کیلئے مخصوص ایریا اور ضرورت کی ہرچیز یہاں مل جاتی ہے مگر سارا کاروبار اس مشینی انداز میں ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ہم خود کو بھی مشین سمجھنے لگتے ہیں۔ شاپنگ مالز سے پہلے ڈپارٹمنٹ اسٹور ہوا کرتے تھے۔ یہاں صرف روزانہ استعمال کی اشیاء ملتی تھیں لیکن ۸۰ء کی دہائی میں بیشتر ڈپارٹمنٹ اسٹور اپنی موت آپ مرگئے اور ان کی جگہ خوبصورت مالز نے لے لی۔ ان ایئر کنڈیشنڈ مالز میں ہر برانڈ بکنے لگا اور گاہکوں کو ہر بار ایک  نئے  تجربے سے روشناس کرانے کیلئے انہیں تفریح گاہ میں تبدیل کردیا گیا۔یعنی آپ کچھ خریدنا چاہیں یا نہ چاہیں، چند گھنٹے یہاں بآسانی گزار سکتے تھے۔ کچھ نہیں تو مالز کے اندرون کا ایک چکر لگالیں، فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر کچھ کھالیں، واش روم کا استعمال کرلیں اور یوں نکل آئیں جیسے آپ کو اپنی پسند کی کوئی چیز نہیں ملی۔ شایدکوئی صاحب سوچیں کہ ان مالز سے کس کو فائدہ ہوا ہوگا۔ سرمایہ دار مالز بناتا ہے، اس میں دکانیں نکالتا ہے اور پھر مختلف برانڈ والوں کو کرائے پر اٹھادیتا ہے۔ مالز چل گیا تواس کے وارے نیارے ، ورنہ مالز بند کردیئے جاتے ہیں۔ نقصان  پھر بھی نہیں ہوتا کیونکہ مالز کی زمین کے دام بڑھ چکے ہوتے ہیں اور سرمایہ دار بظاہر نقصان اٹھاکر بھی فائدے میں رہتا ہے۔ ویسے بھی مالز والے اپنا مال تھوک کے  دام  پر اور بڑی تعداد میں خریدتے ہیں، اسلئے ان کا منافع یوں بھی کم نہیں ہوتا۔ ان سوپراسٹورز میں سب سے بڑا ’وال مارٹ‘تھا  جس کے مالک نے دنیا بھر میں اپنے اسٹورس کھول کر اربوں روپے کمائے۔اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور’بھائی ‘بھی میدان میں کود پڑے اور جی بھر کے کمائی کی۔
  لیکن  جیف  بینروس نے Retail کے کاروبار کو یکسر بدل ڈالا۔ اس نے محسوس کرلیا تھا کہ ای کامرس کی ہوا  زیادہ  دنوں تک نہیں چلنے والی کیونکہ لوگوں نے شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور مضافات میں رہنا شروع کردیا ہے۔ کاروں کے سبب گھر اور آفس کا فاصلہ بھی کم ہوچکا ہے اوراسٹورز جانے کیلئے بھی کار استعمال کی جاتی ہے۔ آج یورپ ، امریکہ اورکناڈا میں ہرطرح کی دکانوں اوراسٹورز کیلئے الگ جگہیں مخصوص ہیں۔ برطانیہ میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ ہاں! پرانے رہائشی علاقوں میں بنے اسٹورز آج بھی پرانی جگہوں پر قائم ہیں لیکن جوں جوں آبادی بڑھتی جارہی ہے نئے Utility اسٹورز اپنی مخصوص جگہوں پر ابھرنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود شاپنگ کرنا آج بھی سردرد ہے۔ اولاً تو کار چلا کر اسٹور تک جایئے ،  پھر وہاں کارپارکنگ ڈھونڈیئے، کسی طرح کارپارک کرکے اسٹور کے طویل وعریض  ہال میں اپنی مطلوبہ اشیاء ڈھونڈھئے،  پھر ٹرالی لے کر کیشیئرکے سامنے لگی قطارمیں کھڑے  ہوجائے۔ جیف بیروس نے سوچا کیوں نہ مٹی اور گارے کے ان اسٹورز ہی کو غائب کر دیا جائے۔ قدیم زمانے کا انسان بھی جب شکار پر جاتا تھا تواس کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ شکار آسانی سے مل جائے۔ نہ کسی دشمن کا خوف  ہو نہ کوئی اور خطرہ مول لینا پڑے۔ جوں ہی شکار ہاتھ آیا، اسے اٹھاکر غارتک لائے اوراپنے بہادر ہونے کا بھرم رکھ لے۔ جیف بیزوس نے بڑے شہروں کے ریل اسٹیشنوں اور ایئر پورٹ کے قریب کرائے پر گودام لئے اوران میں فروخت کرنے کیلئے کتابیں اور’ ڈی وی ڈی‘ رکھیں۔ اندر سے ان ویئر ہاؤز کو کچھ اس طرح بنایا کہ روبوٹ کو کتابیں نکالنے میں زحمت نہ ہو۔ باہر ٹرک تیار رکھے جو گاہکوں کے پیکٹ اٹھاکر دوڑتے ہوئےان کے دروازے تک پہنچ جاتے۔ مصنفین اور اشاعتی گھروں کو کمیشن دیئے ۔ کتابوں پر مثبت ریویو لکھنے والوں کو مشاہرہ دیا اوراپنے گودام میں رکھی کتابوں کیلئے ایسی فضا تیارکی کہ ہر فون پر اسے خریدار ملنے لگے۔ یوں نہایت کم عرصے میں ’امیزون‘ اپنی کتابوں اور ڈی وی ڈی کیلئے مشہور ہوگیا۔ حالانکہ جیف بیزوس کمپیوٹر سائنس میں ڈگری رکھتا ہے لیکن اتنا دوراندیش ہے کہ گاہکوں کی نفسیات جان چکا ہے اوراخراجات کم کرکے منافع کی شرح بڑھالی ہے۔ اولاً تو اس نے ملازمین نہ رکھنے کی قسم کھالی ہے، دوسرے  اس نے گاہکوں کو مطلوبہ اشیاء اپنے حریفوں کے مقابلے میں نہایت قلیل عرصے میں پہنچانے کا انتظام کرلیا ہے۔ اپنے شراکت داروں سے کہہ رکھا ہے کہ آپ اتنا سرمایہ لگائیں کہ کوئی اور اتنا سرمایہ لگانے کی ہمت ہی نہ کرسکے۔ ہوسکتا ہے پہلے منافع نہ ملے مگر ایک بار گاڑی  چل نکلی تو پھر منافع ہی منافع ہے۔
  اوریہی ہوا۔ اس نے امیزون کے نام پر ہرشئے بیچی۔ کپڑےبھی، جوتے بھی، میک اپ کا سامان بھی اورکھلونے بھی۔ دنیا کے کسی کونے میں کوئی گاہک کوئی چیز طلب کرے، یہ اسے نہایت مختصر سے وقت میں پہنچا دیتا ہے۔ امیزون زمین کے ساتھ ہواؤں اور سمندروں کو بھی مسخر کرچکا ہے۔ اس کا کارگو پانی کے جہاز سے بھی جاتا ہے اورہوائی جہاز سے بھی۔ انسانی  تاریخ میں نقل وحمل (Logistics) کا ایسا انقلاب کہیں نہیں دکھائی دیتا۔ گاہک کو صرف اپنے موبائل فون پر امیزون سے اپنی پسند کی چیز طلب کرنی ہے۔ اسکرین پر اس شئے سے ملتی جلتی دس چیزیں آپ کو دکھادی جائیں گی۔ اگر قیمت مناسب لگے تواپنے کریڈٹ کارڈ سے اس کی ادائیگی کردیں۔ پھر وہ کوئی کوریئر دستک دے کر آپ کے دروازے پر اس چیز کو چھوڑجائے گا۔
 امریکہ میں اس نے ایسے اسٹور بھی کھول  رکھے ہیں جہاں داخل ہوکر آپ کو صرف مطلوبہ سامان اٹھانے  ہیں اور باہر نکل جانا ہے ۔دروازے پر لگے سینسر آپ کی بیگ سے سامان کی قیمت معلوم کرکے اورآپ کے کریڈٹ کارڈ سے پیسے نکال کرفون پر آپ کو مطلع کردیں گے۔ اگر آپ کے گھر میں Alexa موجود ہے توکہیں جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ صرف Alexa کواپنی فہرست سنادیجئے۔ وہ امیزون سے سارا سامان بھجوادے گی۔ ایک نا قابل یقین بات یہ بھی ہے کہ امیزون کےپاس ہرگاہک کی پسند ناپسند کی ساری تفصیل موجود ہے۔ آپ کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں ، کیا پڑھتے ہیں اورکون سی فلم دیکھتے ہیں، یہ سب ان کے ڈیٹا بینک میں محفوظ ہے۔ جیف بیزوس اپنی حکمت عملی سے آج دنیا کا امیر ترین شخص بن چکا ہے۔ وارن بفیٹ اور بل گیٹس نمبردواور نمبر تین پر پہنچ چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریٹیل کا کاروبار کرنے والے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شکست دے چکے ہیں۔ چین کے ’علی بابا‘ کی دن بہ دن ترقی بھی اس کی مثال ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ موصوف صرف یورپ کی فتوحات پر قانع نہیں ہیں۔ وہ دنیا کے ہر ملک میں اپنا جھنڈا گاڑنا چاہتے ہیں۔ جناب نے اب تک امبانی اور اڈانی سے بھی بات کرلی ہوگی اور عجب نہیں جو چند ہفتوں یا مہینوں میں ان کی باقاعدہ موجودگی کی خبر آجائے ۔
  جیف بیزوس ایسے لوگوںکا مشن نہ غریبی کا خاتمہ کرنا ہے، نہ کینسر کا علاج دریافت کرنا ہے، نہ انہیں کائنات  کے راز ہائے سربستہ جاننے کا جنون ہے، انہیں علم وتعلیم کے فروغ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں صرف اپنے منافع سے دلچسپی ہے۔ یہ نہ رتن ٹاٹا ہیں ، نہ عظیم پریم جی ، جن کی دولت کا ایک بڑا حصہ رفاحی کاموں کیلئے وقف ہے۔ فی الوقت ان کی آمدنی۱۸۷؍ بلین تک پہنچ چکی ہے مگر کہیں  سے کوئی خبر نہیں آئی کہ انہوںنے کسی نیک کام میں اپنی آمدنی کا تھوڑا بہت حصہ لگایا ہو۔ امیزون کا شیئراپنے پہلے دن (۱۹۹۷ء) میں ایک ڈالر کا ہوا کرتا تھا جو ۲۰۰۸ء میں۷۰؍ ڈالر کا ہوگیا اورآج اس کی قیمت تین ہزار ڈالر ہے۔ہم ہندوستانی اتنے سادہ لوح ہیں کہ جوں ہی کسی بڑی کمپنی کی آمد کی خبر ملتی ہے، ہمیں امید بندھ جاتی ہے کہ ان کے ذریعہ ہمیں ہزار ہا ملازمتیں مل جائیں گی جبکہ ان بڑی کمپنیوں کے انتظام وانصرام کے چند ذمہ داران ہی تگڑی تنخواہ پاتے ہیں، بقیہ ملازمین گنگوتیلی کی طرح چند ہزار روپوں پر ٹرخادیئے جاتے ہیں۔ کاش لوگ سمجھ پائیں کہ جنہیں دنیا پر راج کرنے کا چسکا لگ جائے وہ کسی کو نہیں بخشتے۔ یہ کمپنیاں حکومتوں سے سبسیڈی لیتی ہیں، بینکوں سے قرض لے کر اپنا کام چلاتی ہیں اور مناسب موقع  دیکھ کر اپنے قرضہ جات بھی معاف کروالیتی ہیں۔ اس پر ٹیکس کی چوری الگ جاری رہتی ہے۔ انہیں مزدوروںکی بہبود کی پروا ہوتی ہے نہ ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا ارادہ۔ شاندار مکانوں میں رہنا ، عیش سے چھٹیاں گزارنا اورایک آرام دہ زندگی گزارتے ہوئے اپنے کاروبار کو ترقی دینا ان کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ انہیں کروڑوں صارفین کی  ضرورت کا خوب پتہ ہے اورانہیں پورا کرکے ان کی جیب سے پیسے نکالنا بھی انہیں خوب آتا ہے۔  ہماری حکومت تواپنے  سرمایہ دار دوستوںکی ناز برداری کی نئی تاریخ مرتب کررہی ہے، اسلئے کل جیف بیزوس ہندوستانی مارکیٹ میں چھاجائیں تو تعجب نہ کیجئے گا۔ ویسے ہم سوچ رہے ہیں کہ کانتی بھائی کے صاحبزادے جو آج بھی چھوٹی سی کرانہ کی دکان لئے اپنے والد کی روایات قائم رکھے ہوئے ہیں  جیف بیزوس کی آمد پر اُن پر کیا گزرے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK