ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں

Updated: September 25, 2020, 12:01 PM IST | Hasan Albana

یہ بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ’ہم مطیع ہو گئے‘ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے

Jama Masjid
جامع مسجد

یہ بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ’ہم مطیع ہو گئے‘ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے ۔حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے لوگ ہیں۔‘‘  ( الحجرات:۱۴۔۱۵)
 سورہ حجرات کی مذکورہ آیات کے سلسلے میں امام بغویؒ کا خیال ہے کہ یہ آیات بنو اسد کے اس وفد کے بارے میں نازل ہوئیں جو قحط کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام کا اظہار کیا،  حالانکہ حقیقت میں وہ مومن نہیں تھے۔
 امام سدیؒ کہتے ہیں کہ ان آیات کا سبب ِ نزول وہ اعرابی ہیں جن کا ذکر سورہ فتح میں ہوا ہے۔ قبیلہ جہینہ، مزنیہ، اسلم اور غفار کے لوگ کہتے تھے کہ ’ہم ایمان لائے‘ تاکہ ان کی جان و مال  محفوظ ہوجائے، لیکن جب یہ لوگ حدیبیہ کی طرف چلے گئے تو اپنی بات سے پھر گئے۔
  بہرحال،  آیات کا سبب ِ نزول جو بھی ہو ، مگر ان میں جو نکات بیان فرمائے گئے ہیں وہ گہرے غور و فکر کے طالب ہیں۔ پہلا نکتہ ایمان کی حقیقت اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق ہے اور دوسرا نکتہ ایمان و اسلام کا فرق ہے۔
ایمان کی حقیقت:
  ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عقیدہ ہے جو دل میں راسخ ہوتا ہے، نفس پر غالب آتا ہے اور قلب پر حکمرانی کرتا ہے۔ اسی لئے بندۂ مومن ہر وقت اپنے اس عقیدہ کو یاد رکھتا ہے، اس پر اپنی  جان نثار کرنے کو تیار رہتا ہے اور اس کے راستے میں ہر طرح کی قربانی اس کا شعار اور طرۂ امتیاز بن جاتی ہے۔ لیکن عزیز من! ایمان کے درجات مختلف ہوتے ہیں، سب کا ایمان یکساں و برابر نہیں ہوتا۔ تم کسی چیز کی تصدیق کرتے ہو، اس کے بارے میں سنتے ہو مگر جب اس کے بارے میں پڑھتے ہو تو اس پر تمہارا یقین و اعتماد پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔ جب اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرتے ہو تو یقین دل میں راسخ ہوجاتا ہے اور جب اس پر نگاہِ حقیقت پڑتی ہے اور اس کا ظاہر و باطن سامنے آتا ہے تو یہ یقین اپنے کمال کو پہنچ جاتاہے، ملاحظہ کیجئے یہ آیات: 
 (ترجمہ): ’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے ۔‘‘  
(البقرہ:۸؍تا۱۰)
 ٹھیک اسی طرح ایمان باللہ کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ کچھ لوگ محض ایمان کا دعویٰ کرتے  ہیں لیکن اپنے دعویٔ ایمان میں جھوٹے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ آیت میں فرمایا گیا۔ انسانوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو فراخی میں تو مومن ہوتی ہے مگر جب مصائب آتے ہیں تو الٹے پاؤں پھر جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا :
 ’’اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ یہ صریح خسارہ  ہے۔‘‘
 (الحج:۱۱)
 کچھ لوگ صرف زبانی مومن ہوتے ہیں، اُن کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سورۂ حجرات کی مذکورہ بالا آیتوں میں زیربحث ہیں۔
 مومنین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں کو ایمان سے طمانیت اور روح کو سکون ملتا ہے اور وہ اسے اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور ہر چیز سے بڑھ کر اسی کے حریص ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن ان الفاظ سے یاد کرتا ہے:  ’’حقیقت میں تو امن انہی کے لئے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔‘‘   (انعام:۸۲)
ایمان کے اثرات
 ایمان جب اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے اور دلوں میں اس طرح جاگزیں ہوجاتا ہے تو انسان کی زندگی پر اس کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔ کیونکہ ایمان کسی جامد چیز کا نام نہیں ہے بلکہ  وہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ انسانی زندگی پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ دن سے زیادہ روشن و تابناک ہوتے ہیں۔ مثلاً:
 l ایمان کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو اپنی سعادت اور لازوال انعام سے محبت ہوجاتی ہے، ایسی محبت جو ان کی رگ و پے میں سرایت کرجاتی ہے:
 ’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۱۶۵)
 lایمان کا دوسرا اثر یہ ہوتا ہے کہ مومن وہ راحت و سکون محسوس کرتا  ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی شقاوت کا احساس تک نہیں ہوتا، تعذیب کا کوئی ڈھنگ ان کے عقیدہ کو متزلزل نہیں کرپاتا۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔  اس نے کہا اللہ کی قسم! میں تجھے ذلیل کرکے رہوں گا۔ بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا: ذلت تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ سن کر شوہر نے حیرت سے پوچھا : کیوں؟ بیوی  نے جواب دیا: میری سعادت، میرے ایمان میں ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے اور دل پر کسی کا زور نہیں چلتا۔
 یہ وہ ایمان ہے جو صرف حقیقی مومن کو حاصل ہوتا  ہے اور ہوسکتا ہے۔
  شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قید کی مشقت ان پر طویل ہوگئی تو ان کے شاگرد ان کی مزاج پرسی کے لئے گئے اور رہائی کی کوششیں کرنے لگے۔ جب امام صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو کہا: ’’قید کو میں خلوت گاہ، قتل کو شہادت اور جلاوطنی کو سیاحت تصور کرتا ہوں اور  یہ سب تزکیۂ نفس کے انعامات ہیں۔‘‘
 اللہ اکبر! یہ ہے ایمان کی حقیقت جس کے ساتھ مصائب و مشکلات بھی نعمت و راحت محسوس ہوتے ہیں اور بڑے بڑے غم و اندوہ سے انسان لذت و راحت محسوس کرتا ہے۔ کتنی سچی اور پیاری بات اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی کہ ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ خیر ہے۔ نعمتیں ملتی ہیں تو سجدۂ شکر بجا لاتا ہے اور جب مصائب آتے ہیں تو جادۂ صبر پر قائم رہتاہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الزہد والرقا’ق)
  حضرت  جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ ’’اگر ان بادشاہوں کو معلوم ہوجائے کہ ہمیں ایمان میں کتنی لذت ملتی ہےتو وہ ہمیں قتل کرادیں۔‘‘
 l ایمان کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے مومن اپنے رب کا عزیز بن جاتا ہے اور اسےاپنی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ  اس کی نگاہ میں کوئی اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اس کی عزت و شوکت مخلوق سے نہیں بلکہ اللہ سے وابستہ ہے جو عزیزوں کا عزیز ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK