خبردار! عرش الٰہی پربددُعا کی قبولیت کیلئے مسلم اورغیرمسلم کا کوئی امتیازنہیں ہے

Updated: July 22, 2022, 2:05 PM IST | Maulana Naseem Akhtar Shah Qaisar | Mumbai

اللہ رب العزت کے یہاں ظالم کے لئے کوئی گنجائش نہیں نہ کوئی رعایت کا خانہ ہے اور نہ اس کو ڈھیل دینے کا کوئی معاملہ۔ ظالم ظلم کرتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں آئے گا۔ یہ اس کی بھول ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

انسان کو اس کا حکم ہوا کہ اچھے کام کرے، نیک زندگی گزارے، گناہوں سے دور رہے، برائیوں کے قریب نہ جائے، لوگوں کی مدد کرے، مجبوروں کے کام آئے، ضرورت مندوں کی جہاں تک ممکن ہو حاجت روائی کرے، جو مدد کے طالب ہیں ہر امکانی حد تک ان کی مدد کے لئے آگے آئے، خیر کے کاموں میں حصہ لے اور  خود کو ان امور سے بچائے جن سے پشیمانی ہو، ندامت ہو،شرمندگی اور خجالت کا سامنا کرنا پڑے۔ہر طرح سے اس کا خیال رکھا گیا کہ خدا کا کوئی بندہ ایسی زندگی نہ گزارے جو اس کی تباہی کا سامان فراہم کرے بلکہ وہ ایسی زندگی کا خوگر ہو جس سے اللہ کی قربت و خوشنودی حاصل ہو۔ انسان برائیاں کرتا ہے  اور  گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے،مگر اللہ تعالیٰ سچے دل سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتے ہیں، ان کی توبہ یقیناً قبول ہوتی ہے۔ جو اس کا عزم وارادہ کرتے ہیں کہ آئندہ گناہ نہ کریںگے، توبہ پر قائم بھی رہتے ہیں اور گناہوں کے قریب نہیں جاتے۔ گناہوں میںایک بڑا گناہ ظلم ہے جو اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں۔ طاقتور کمزورپر ظلم ڈھائے ، حاکم اپنے ماتحت پر جبر کرے، عزت پامال کرے، ستائے،آنسو بہانے پر مجبور کرے، بے نوا اور بے سہارا لوگوں کوتکلیف اور اذیت دے یہ اللہ کوسخت ناپسند ہے۔ اللہ کے یہاں مظلوم کی آہ فوری سنی جاتی ہے، مظلوم کی بددعا رد نہیں کی جاتی۔ جیسے ہی کوئی مظلوم اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا اور گڑگڑاتا ہے، اللہ رب العزت اس بندے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ ظالم یہ سمجھتا ہے کہ مظلوم کی مدد کرنے والا کوئی نہیں، اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں، اس کی طاقت کے سامنے کون ہے جو مظلوم کا ساتھ دے گا لیکن  وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ایک ذات ایسی ہے کہ وہ سب سے زیادہ بااختیار ہے اورجس کااقتدار ہر طرح مکمل اورانتہائی ہے، کوئی اس کو چیلنج نہیں کرسکتا، کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہوسکتا۔  حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے  حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو انہیں یہ نصیحت فرمائی:’’مظلوم کی بددعا سے بچنا کیوں کہ اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مظلوم کی دعا رد نہیں ہوتی، حق تعالیٰ شانہ اسے بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری مدد ضرور کروںگا گو (کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔‘‘ جاننا چاہئے کہ بددعا کی قبولیت کے لئے آدمی اور جانور کی کوئی تخصیص نہیں ہے، مسلم اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز نہیں ہے، مسلمان اگر غیر مسلم پر ظلم کرے گا زیادتی اور تعدی سے کام لے گا اور مظلوم اللہ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا تو اس کی بددعا بھی قبول کی جائے گی اوراگر ظلم جانوروں پر ہوگا اور آدمی نے جانوروں کو ستایا ہوگا تو جانوروں کی فریاد کو بھی رد نہیں کیاجائے گا۔ ظلم کسی بھی صورت میں ہو مظلوم کوئی بھی ہو، ظالم کوئی بھی ہو، ظلم بہرقیمت ناپسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں ہاں کبھی یہ ضرور ہوتا ہے کہ بددعا تو قبول ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ ہاتھ کے ہاتھ سامنے نہیں آتا، یہ بددعایا تو آخرت کے لئے رکھ دی جاتی ہے یا گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے یا پھر من وعن نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ ماہنامہ ’’نقوشِ اسلام‘‘ مظفر آباد سہارنپور کے جولائی اگست ۲۰۱۸ء کے شمارے میں حضرت مدنی علیہ الرحمہ کے حوالے سے مظلومین کے دوواقعے نقل کئے گئے ہیں جنھیں ہم یہاں پر جوں کا توں پیش کرتے ہیں:
 ’’کابل کے ایک شخص نے اپنی آنکھوں دیکھا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ کابل کے جنگلات میں جنگلی جانوروں کی بڑی کثرت تھی اس کی وجہ سے باغات اورکھیتی کو سخت نقصان پہنچتا تھا، ایک مرتبہ ان جانوروں کو گھیر کر جنگل میں آگ لگادی گئی ، جب آگ نے چاروں طرف سے گھیر لیاتوان حیوانات کے گلہ  میںسے ایک خنزیر سامنے آیا اورآسمان کی طرف منھ اٹھاکر چیخنا شروع کیا، یکبارگی آسمان پر بادل گھر آئے اور موسلا دھار بارش برسنے لگی، جنگل کی تمام آگ بجھ گئی اور گھرے ہوئے جانور نکل گئے۔‘‘ 
(تذکرہ شیخ مدنی:ص/۲۱۶) فتنۂ  تاتارکے اس عبرتناک واقعہ کو یاد کرو جب چنگیزخان نے خوارزم کے ظلم کے مقابلہ میں اللہ سے فریاد کی تھی اور تین رات ایک پہاڑی پر کھڑے ہوکر خدا سے التجا کرتا رہا، اے خدا! خوارزم شاہ نے میری قوم پر ظلم کیا ہے، میری قوم مظلوم ہے، اگر یہ سچ ہے کہ تو مظلوم کی مدد کرتا ہے، تو میری قوم کی مدد کر، تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آتش پرست چنگیز خان اوراس کی قوم کی کس طرح امداد کی، چنگیز خان ایک خانہ بدوش قبیلہ کو لے کر اٹھا اور تمام اسلامی سلطنتوں کو تہہ وبالا کرتا چلا گیا آج وہ تاریخ کا سب سے بڑا فاتح شمار کیاجاتا ہے۔‘‘(تذکرہ شیخ مدنی:ص/۲۱۶) ان دونوں واقعات سے یہ اندازہ لگالینا مشکل نہیں ہے کہ اللہ رب العزت کے یہاں ظالم کے لئے کوئی گنجائش نہیں نہ کوئی رعایت کا خانہ ہے اور نہ اس کو ڈھیل دینے کا کوئی معاملہ۔ ظالم ظلم کرتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں آئے گا۔ یہ اس کی بھول اور بڑی غلطی ہے ، ظلم کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے کہ ظلم کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی سلطنتیں ، طاقتور حکمراں اور بے انتہا دولت کے مالک لوگ جب ظلم کی راہ پر چلے تو خداوند ِ عالم نے انھیں صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ وہ کہ جن کی حکومت کا دور دور تک چرچا تھا اور وہ کہ جن کے نام سے دنیا کانپتی تھی اور وہ کہ جن کی عالم میں شہرت تھی، مظلوم کی آہ کا شکار بنے اور معدوم ہوگئے۔ بلاشبہ کمزور کے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ نہیں ہوتامگر اس کے آنسو، اس کی بے بسی اس کے دل کی آہ اور اس کی زبان پر فریاد کے الفاظ جاری ہوتے ہیں تو بارگاہِ الٰہی تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے کہا گیا کہ مظلوم کی آہ سے بچو۔ جس وقت مظلوم مصروف آہ وگریہ ہوتا ہے تو پھر اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ تمام حجابات اٹھ جاتے ہیںاور ہر رکاوٹ سامنے سے ہٹ جاتی ہے۔  وہ ایسا وقت ہے جب اللہ مظلوم کی فریاد کو سنتے ہیں اور فیصلہ فرماتے ہیں۔ ظالم کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر جب فیصلہ  ٔ خداوندی کا نفاذ ہوتا ہے تو پھر اس کے پاس کچھ نہیں رہتا، ایسی سخت آزمائشوں اور مصیبتوں میں گھرتا ہے کہ جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اللہ رب العزت کمزوروں کوستانے والوں اور ناتوانوں پر ظلم کا پہاڑ توڑنے والوں کو کسی قیمت پر نہیں بخشتا۔ ظلم ظلم ہےاور اسکے خطرناک نتائج ضرور سامنے آئیں  گے ان نتائج کو بھگتنے کیلئے ظالم کو تیار رہنا چاہئے اس دنیا میں اس کے ساتھ جو ہوگا اور جو آخرت میں  ہوگا اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK