Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئینوں کے اُس پار

Updated: April 27, 2026, 2:10 PM IST | Dr. Zakir Khan Zakir | Mumbai

اسی مکان کے ایک حبس زدہ کمرے میں، ادیب حسن ایک نیم دیوانہ سا ادیب، کاغذوں کے بےترتیب انبار میں ایسا الجھا رہتا، جیسے لفظوں کی مسافت طے کرتا کوئی تھکا ہوا مسافر۔کمرے میں پڑی میز کی دراڑوں سے وقت رِستا تھا اور روشن دان سے آتی نحیف سی روشنی میں اڑتی دھول اس کے خیالات کی پرچھائیاں محسوس ہوتیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شہرِ وجود کی پرہجوم اور بے ترتیب گلیوں میں ایک نیم تاریک گوشہ ایسا بھی تھا، جہاں شعور، خوابوں کی گرد میں لپٹا، وقت کی پرانی گٹھری کھولتا رہتا۔ایسی گٹھری جس میں خوابوں کے پرانے کاغذ، مٹتے ہوئے حروف، اور وقت کی جھریوں سے رِستے ہوئے لمحے محفوظ تھے۔اسی گوشے میں ایک شکستہ سا مکان بھی تھا، جس کے جھکے ہوئے کواڑوں سے صدیوں پرانی سانسوں کی بو آتی تھی، جس کی دیواروں پر یادوں کے کائی زدہ نقوش اور فرش پر سوچوں کی شکستہ پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اس مکان کی کھڑکیاں وقت کی گزرگاہوں پر کھلتی تھیں، جہاں ماضی کی دھند میں لپٹے لمحے آج بھی سانس لیتے تھے۔
اسی مکان کے ایک حبس زدہ کمرے میں، ادیب حسن ایک نیم دیوانہ سا ادیب، کاغذوں کے بےترتیب انبار میں ایسا الجھا رہتا، جیسے لفظوں کی مسافت طے کرتا کوئی تھکا ہوا مسافر۔کمرے میں پڑی میز کی دراڑوں سے وقت رِستا تھا اور روشن دان سے آتی نحیف سی روشنی میں اڑتی دھول اس کے خیالات کی پرچھائیاں محسوس ہوتیں۔ ادیب وہ تھا جو لفظوں کے اسرار میں غرق ہو کر، کائناتی معنویت کی تلاش میں اپنی عمر ریزہ ریزہ کرتا آیا تھا۔ اس کے قلم سے نکلنے والے الفاظ گویا ایسی خاموش صدائیں تھیں، جو کسی دور افتادہ صداقت کے عقب میں گم ہو جایا کرتی تھیں۔ وہ اکثر خود سے سوال کرتا:
’’کیا لفظ میرے اندر کے خلا کو بھر سکتے ہیں؟‘‘کبھی کھڑکی کے پار خلا میں جھانکتا اور سرگوشی کرتا،’’یہ روشنی، یہ ہوا..... سب کسی نہ کسی راز کا استعارہ ہیں۔‘‘اس کے خیالات کی زنجیر کا کوئی واضح آغاز یا انجام نہ تھا۔ شعور کا دریا مسلسل بہتا رہتا، دھارے بدلتا، موجیں بناتا، اور پھر اچانک کسی گہری سوچ میں غوطہ زن ہو جاتا۔ کمرے کی چھت پر مکڑیوں کے جالے نہیں، بلکہ خیالات کی چادر تنی ہوئی تھی۔ میز پر رکھی سیاہی کی دوات گویا ایک کائناتی کنواں تھی، جہاں سے وہ شعور کی رو میں ڈوب کر تخلیق کے موتی چنتا۔وہ کاغذ پر محض لفظ نہیں، اپنے گمشدہ وجود کی پرچھائیاں رقم کرتا۔ اس کی تحریریں آئینے کی مانند تھیں، جن میں وقت اپنی صورت بدل بدل کر جھلکتا۔ وہ جب لکھتا، تو ’’خود‘‘ کو لکھتا جاتا تھا لیکن وہی ’’خود‘‘ جو لمحہ بہ لمحہ تحلیل ہو رہا تھا۔
ایک دن، جب ہوا میں خزاں رسیدہ پتوں کی سرسراہٹ کچھ زیادہ ہی تھی، دروازے پر دستک ہوئی۔ سامنے غزل کھڑی تھی۔غزل ایک نوآموز محقق، جذب آشنا اور مطالعہ کی دیوانی ۔اس کی آنکھوں میں سوالات کی ایک پوری کائنات آباد تھی، ایسی کائنات جس میں ہر ستارہ کسی بھید کا نشان تھا، ہر کہکشاں ایک ان کہی کہانی کی گواہ۔اس کی موجودگی میں وقت جیسے تھم سا جاتا اور لمحے معنی خیز سرگوشیوں میں بدل جاتے۔ اس کی آواز میں ایسی نرمی تھی جیسے شام کے سائے میں بجتی کوئی مدھم سی بانسری۔ وہ بولی،’’میں آپ کی کہانیوں کے بین السطور کو سمجھنا چاہتی ہوں۔‘‘
ادیب نے سر اٹھا یا،لمحے بھر کی خامشی چھا گئی۔ پھر جیسے لفظوں کا در کھلا،’’تو کیا تم لفظوں سے ماورا سناٹوں کی زبان جانتی ہو؟‘‘غزل کی آمد گویا ایک نئی فصلِ تخلیق تھی۔ اس کی باتوں میں جستجواور خاموشی میں صدا تھی۔ ادیب کا ذہن، جو اب تک خود سے مخاطب تھا، غزل کی موجودگی میں دو سطحوں پر بٹ گیا، ایک وہ شعور جو لفظوں میں ڈھلتا رہا اور دوسرا وہ لاشعور جو غزل کی خامشی میں گونجتا رہا۔
وہ اس کے سوالوں کو سنتا اور ذہن کی تہہ میں ایک داخلی مکالمہ شروع ہو جاتا،’’کیا یہ وہی کیفیت ہے جو نشاط کے ساتھ تھی؟‘‘’’نہیں.... نشاط عکس تھی، غزل شاید آئینہ ہے۔‘‘’’اور آئینے میں تو کچھ نہ کچھ چھپا رہتا ہے۔‘‘
غزل کی گفتگو میں تحقیق کی کھنک اور خاموشی میں وجدانی لمس تھا۔ اُس کی موجودگی میں ادیب کے تخیل کی پرتیں کھلتی چلی گئیں۔ وہ اب جو کچھ بھی لکھتا، اس میں ماضی، حال اور آئندہ ایک ساتھ بہتے نظر آتے۔ شعور کی رو اب ندی نہ رہی، وہ ایک بےکراں سمندر میں ڈھل چکی تھی، جہاں خواب، حقیقت اور یادیں یکجا تیر رہی تھیں۔
ایک دن غزل نے ادیب کے کمرے میں ایک بوسیدہ بکس دیکھا۔ اُس پر سنہری روشنائی سے لکھا تھا،’’یادیں، جنہیں کبھی لکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔‘‘غزل نے اجازت لی اور بکس کھولا۔ اندر زرد کاغذات پر خوابوں کے سائے تیر رہے تھے۔ کچھ خطوط، چند نظمیں، کچھ غزلیں، اور ایک نیم مکمل مخطوطہ ’’آئینہ خانۂ خواب‘‘یہ محض ایک شعوری تحریر نہ تھی، بلکہ ادیب کے لاشعور کا بین السطور تھا۔ وہاں نشاط کے تذکرے بار بار آتے تھے۔ نشاط، ایک فنونِ لطیفہ کی طالبہ تھی.....ایسی طالبہ جو دکھوں کو رنگوں میں، ادیب کو خطوط میں اور خاموشی کو اشکوں کے شفاف عکس میں ڈھالنا جانتی تھی۔وہ ادیب کی باطنی کائنات کا پہلا در تھی۔ مگر اس کا چہرہ کبھی مکمل واضح نہ ہوا، بس ایک دھندلا سا عکس بن کر رہ گیا جیسے شیشے کے پار جلتی بجھتی شمع۔’’نشاط کے لبوں پر جو لفظ ٹھہرے تھے، وہ شاید شہود کے منظر پر آنے سے انکار کرتے تھے۔‘‘
اب غزل محض ایک محقق نہ رہی تھی، وہ ادیب کے شعور کا آئینہ بن چکی تھی۔ اُس کی موجودگی میں ادیب کے اندر بکھرے عکس ایک نئی ترتیب سے جھلکنے لگے۔ وہ اب خود سے نہیں، بلکہ غزل سے بھی ہمکلام تھا۔’’کیا تحریر نجات ہے؟ یا محض ایک گریز؟‘‘’’شاید تحریر وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنے اندر کے زخموں کو ترتیب دے سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیںا

ایک شام جب بارش کی بوندیں الماری کے زنگ آلود ہینڈل پر بج رہی تھیں،جب کمرے میں نمی کی مخصوص مہک پرانی کتابوں، نم دیواروں اور گزرے ہوئے لمحوں کا امتزاج بنی ہوئی تھی۔جب کھڑکی کے پار برستی بارش میں شام کسی ادھ کھلے خط کی مانند لرز رہی تھی،غزل نے میز پر پھیلے کاغذ سمیٹے اور پراسرار سکوت کو چیرتے ہوئے پوچھا،’’کیا آپ نے کبھی ’خود‘ کو مکمل تحریر کیا ہے؟‘‘ادیب نے نظریں جھکا لیں:’’خود کو مکمل لکھنے کے لئے خود سے فرار ممکن نہیں.... اور میں ہمیشہ اپنے آپ سے بھاگتا آیا ہوں۔‘‘پھر خاموشی کے دریچے وا ہوئے۔ ادیب نے اپنے نئے افسانے کا پہلا صفحہ غزل کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس میں لکھا تھا،’’جب آئینے بولنے لگتے ہیں، تو چہرے خاموش ہو جاتے ہیں۔‘‘
اب ادیب ہر سطر میں غزل کی خامشی سنتا، ہر جملے میں کوئی ان کہی بات چھپی ہوتی۔ وہ دوبارہ لکھنے لگا، مگر اب محض تخلیق نہیں کرتابلکہ اپنے شعور کی تہوں کو کریدتا۔ اب اُس کی تحریریں خوابوں کی نہیں، جاگتی آنکھوں کی عکاس تھیں، جو ہر قاری کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔
غزل نے ادیب کے تخلیقی سفر پر ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا:’’فن، وجود، اور آئینگی: ادیب حسن کے افسانوں میں شعور کی رو کا بین المتونی مطالعہ۔‘‘یہ مقالہ علمی دنیا میں فکری ارتعاش کا سبب بن گیا۔ اس میں اسلوبیاتی گہرائی، نفسیاتی تحلیل اور بیانیاتی تجزیے کی وہ سطح تھی جو قاری کو محض افسانے سے وجود کے فلسفے تک لے جاتی۔
ایک دن غزل ادیب کو مقالہ دکھانے کے ارادے سے اس کے مکان پر پہنچی تو دروازہ بند تھا۔ مکان اب بھی تھا، مگر ادیب حسن کہیں نہ تھا۔ اُس نے کھڑکی سے جھانکا کمرے میں محض ایک آئینہ رکھا تھا، جس پر لکھا تھا،’’شعور کی رو بہتی رہتی ہے، مگر بعض عکس زمان و مکان کے حاشیوں سے ماورا ہوتے ہیں۔‘‘
غزل آہستہ سے جھکی اور آئینے میں جھانکا۔ اسے لگا جیسے اپنی آنکھوں کے اندر کوئی پرچھائیں لرز رہی ہو، وہی پرچھائیں جو ادیب حسن کی تھی، جیسے وہ کبھی تھا اور شاید اب بھی ہے..... کہیں ان کہی سطروں کے بیچ، یا شاید خود غزل کی خامشی میں۔اچانک، آئینے کے ایک کونے میں نمی ابھری، ایسی نمی جو نہ تو آنکھوں سے گری تھی، نہ موسم نے برسائی تھی۔ وہ شاید کسی ایسے جملے کی باقیات تھی جو کبھی مکمل نہ ہو سکا، جو لفظ بننے سے پہلے ہی احساس میں تحلیل ہو گیا۔
غزل نے ایک لمحے کے لئے پلکیں جھپکائیں، مگر جب دوبارہ آئینے میں دیکھا تو آئینہ خالی تھا۔یا شاید.....آئینے کے اُس پار کوئی اور ’غزل‘ جھانک رہی تھی۔
وہ لمحہ ٹھہر سا گیا۔غزل نے پھر جھانکا اور اس بار اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ محض ایک چہرہ نہیں، بلکہ ایک سوال دیکھ رہی ہو، ایسا سوال جو شعور کے کنارے پر جنم لیتا ہے اور وجود کے منطقے میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
اب جو منظر آئینے میں ابھرا، وہ ادیب حسن نہ تھا۔نہ کوئی مرد، نہ عورت؛نہ افسانہ نگار، نہ کسی یاد کی شبیہ؛بلکہ وہ تحریر کا وہی ماورائی چہرہ تھا جو ہر متن کے پس منظر میں چھپا ہوتا ہے، جو قاری کے باطن سے مخاطب ہوتا ہے۔غزل کی آنکھوں میں آنسو نہ تھے صرف سوال تھے۔اور اُسی لمحے وہ سمجھ گئی۔ادیب حسن کبھی محض ایک فرد نہ تھا۔وہ شعور کا ایک مظہر تھا، ایک استعارہ، جو آئینوں کے اُس پار جا بسا تھا ۔جہاں سوال، جواب میں تحلیل ہو جاتے ہیں.....اور تحریر وجود میں...

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK