Inquilab Logo Happiest Places to Work

ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیںا

Updated: April 26, 2026, 1:20 PM IST | Ehtsham Hussain | Mumbai

ادب انسانی شعور کی وہ تخلیق ہے کہ جس میں ادیب اپنے ذہن سے باہر کے مادی اور خارجی حقائق کا عکس مختلف شکلوں میں فنی قیود اور جمالیاتی تقاضوں کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

The social significance of literature cannot be understood unless we consider the writer to be conscious. Photo: INN
ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔ تصویر: آئی این این

ادب اور فنون لطیفہ کی دوسری شکلوں کا خواب کثرت تعبیر سے ہمیشہ پریشان رہا ہے۔ کسی قسم کی مادی بنیاد کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے شعروادب کی دنیا اکثر و بیشتر خواب وخیال کی دنیا سمجھی گئی جس کی نہ تو راہیں متعین ہیں اور نہ سمت مقرر ہے، یعنی ادیب اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار کے لئے آزاد ہے اور کوئی ضرورت نہیں کہ ہم اس کے جذبات اور خیالات کی بنیاد وں کی جستجو کرکے اسے کسی قسم کا مشورہ دیں کیونکہ خیالات کی غیر مادی نوعیت اور جذبات کے بے روک بہاؤ سے الجھنا کوئی معنی نہیں رکھتا، مگر خیالات کی یہ رفتار زیادہ دن قائم نہیں رہ سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: مشکل الفاظ کا درست اِملا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں؟

تاریخ اور سماج کے مطالعہ نے بتایا کہ خیالات اور ان کے فنی مظاہر بھی انسان کی مادی زندگی کے عروج و زوال سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان جس طرح کا سماجی اور معاشی نظام رکھتا ہے، اسی کے مطابق اس کے خیالات اور شعور کا ارتقا ہوتا ہے۔ اس تاریخی حقیقت نے اس فلسفیانہ اصول کی طرف رہنمائی کی کہ انسان کا مادی وجود اس کے شعور کا تعین کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن حقیقتوں کا خالق نہیں ہے بلکہ مادی حقائق خود ذہن کی تخلیق کرتے ہیں اور انسانی ذہن سے باہر ان کا ایک مادی وجود ہوتا ہے۔
اس اصول کو پیش نظر رکھ کر دیکھیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑےگا کہ ادیب کے تخلیقی کا رنامے ان حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیں جو سماج میں پائی جاتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ کوئی ادیب اس فلسفے سے واقف نہ ہو  پھر بھی اس کی تخلیق میں وہ حقیقتیں کسی نہ کسی شکل میں نمایاں ہوں گی جو اس کے گرد وپیش ہیں، جو اس کے ذہن کی تشکیل کرتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو خیال اور شعور کی حیثیت بھی مادی ہو جاتی ہے اور جب ادب کے مادی تصور پر غور کیا جائےگا تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ادب میں جن جذبات، خیالات اور تجربات کا اظہار کیا گیا ہے ان کے مادی اور سماجی پس منظر کو پیش نظر رکھا جائے تاکہ حقائق کی اصل بنیاد کا علم ہو سکے۔
بعض لوگوں کے خیال میں یہ ایک مفروضہ ہے۔ اگر اسے ایک مفروضہ بھی مان لیں تو نقصان نہیں ہوتا کیونکہ سماجی تاریخ، تغیرات کی بنیاد کو اس طرح واضح کر دیتی ہے کہ مفروضہ حقیقت بن جاتا ہے۔ انسانی  خیالات و افکار کی تاریخ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر

ادیب کے گردوپیش کی دنیا، اس کا حسن اور اس کی بدصورتی، اس کی کشمکش اور اس کا الجھاؤ، اس میں بسنے والوں کی امیدیں اور مایوسیاں، خواب اور امنگیں، رنگ اور روپ، بہار اور خزاں اس کے موضوع بنتے ہیں اور مختلف تاریخی ادوار میں انسانی جذبات سے ان کا تعلق یکساں نہیں ہوتا بلکہ انسان کی معاشی زندگی اور اس کی پیچیدگیوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا ادب اپنا مخصوص رنگ رکھتا ہے، جس طرح ہر دور کا شعور اپنی مخصوص ہیئت رکھتا ہے، یہی نہیں بلکہ ہر ادیب کے شعور کے مطابق ایک ہی دور کے ادبی کارناموں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس طرح ایک بات اور واضح ہو جاتی ہے، معاشی زندگی اور طریق پیداوار، مادی ارتقاء اور ادبی شعور میں تعلق تو لازمی طور پر ہوتا ہے لیکن یہ تعلق ایک سیدھی لکیر کی طرح واضح اور متعین نہیں ہوتا۔ اس تعلق کو تلاش کرنے کیلئے کسی ملک، قوم یا دور کے معاشی ڈھانچے اور اس ڈھانچے پر بننے والی زندگی اور اس کی تاریخ کو بڑی گہری نظر سے دیکھنا چاہئے۔ اسی کے ساتھ الگ الگ ہر ادیب کے شعور کا مطالعہ بھی اس نظر سے کرنا ہوگا کہ اس کا تعلق سماجی ارتقاء کے ساتھ کس قسم کا ہے۔ فلسفہ ٔ مادّیت کے بعض مبلغوں نے اس مسئلے کو خالص میکانکی نظر سے دیکھا  اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے کہ مادّی حالات انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن صرف انفعالی طور پر نہیں بلکہ انسان خود سماج اور فطرت کے خلاف جدوجہد کرکے مادی حالات میں تغیر پیدا کرتا ہے اور حالات بدلنے کے دوران خود بھی بدل جاتا ہے۔ یہ عمل میکانکی طور پر اثر قبول کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ ایک صورت میں انسان بالکل بے اختیار نظر آتا ہے، دوسری  میں باشعور اور صاحب اقتدار دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جس معاشرے میں اَدب زندہ اور متحرک ہوتا ہے، وہ معاشرہ فکری جمود کا شکار نہیں ہوتا

ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔ اس لئے ادب کا مادی تصور سب سے پہلے اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ ادب انسانی شعور کی وہ تخلیق ہے کہ جس میں ادیب اپنے ذہن سے باہر کے مادی اور خارجی حقائق کا عکس مختلف شکلوں میں فنی قیود اور جمالیاتی تقاضوں کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ عکس فوٹوگراف کی طرح ساکن یا بنا بنایا نہیں ہوتا بلکہ متحرک حقیقتوں کا متحرک عکس ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK