Updated: April 26, 2026, 10:04 PM IST
| Gaza
اسرائیلی نژاد امریکی اسکالر عمر بارتوف نے ہفتے کو کہا کہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی کی ایک شکل ہے، دی نیویارکر میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ کے واقعات اور صیہونیت پر اپنی تنقیدوں کے بارے میں عمر بارتوف نے تفصیل سے بات کی۔
اسرائیلی نژاد امریکی اسکالر عمر بارتووف۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی نژاد امریکی اسکالر عمر بارتووف کے مطابق غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی کی ایک شکل ہے۔امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں ہولوکاسٹ اور نسل کشی کے مطالعے کے پروفیسر عمر بارتوو ف نے دی نیویارکر میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ کے واقعات اور صیہونیت پر اپنی تنقیدوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی، جو ان کی نئی کتاب ’’اسرائیل: کیا غلط ہوا؟‘‘ میں شامل ہیں۔غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہونے کا بیان دیتے ہوئے بارتوو نے زور دیا کہ بڑی تعداد میں فلسطینیوں کا قتل، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ فلسطین میں دیودار کے جنگلات اور ماحولیاتی تباہی کی حقیقت بے نقاب
واضح رہے کہ دو سال سے زائد جاری نسل کشی کی جنگ میں اسرائیل نے غزہ کے رہائشی علاقوں میں بے تحاشہ بمباری کی ، جس کے نتیجے میں ۷۲؍ ہزار سے زیادہ عام فلسطینی شہید اور۱۷۲۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں،ان مہلوکین اور زخمیوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کا تقریباً۹۰؍ فیصد بنیادی شہری دھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں طبی نظام بھی مکمل تباہ ہوچکا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ کو امداد کی ترسیل کے تمام راستوں کو بند کر رکھا ہے، جس کے سبب اس محصور خطے میں غذا اور تمام انسانی زندگی کی ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہوچکی ہے، جس نے وہاں انسان ساختہ قحط کے حالات پیدا کردئے۔اس کے علاوہ صاف صفائی ، اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام ختم ہوچکا ہے، جا بجا کوڑے، اور ملبے کا انبار ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہاہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: فلسطین ایکشن کی حمایت پر گرفتاری جاری، ۱۳۰؍ معروف شخصیات کا کھلا خط
بعد ازاں ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو امریکہ کی ثالثی میں ہوئی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں کم از کم۷۶۵؍ فلسطینی شہید اور ۲۱۴۰؍زخمی ہو چکے ہیں۔اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گمان ہے کہ ان تمام عوامل کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے بعد عمر باتوف اس نتیجے پر پہنچے کہ اسرائیل کی یہ جارحیت فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کے مترادف ہے۔