بہارمیں راجیہ سبھا اورکونسل کیلئے انتخاب کی سرگرمیاں تیز

Updated: March 15, 2020, 2:30 PM IST | Dr Mushtaque Ahmed

یہاں ذات پات کی سیاست کوغیرمعمولی اہمیت حاصل ہے لیکن اس قبیل کی سیاست میں اگر کوئی خسارے میں ہے تو وہ مسلمان ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کو اب یہ خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی سے اکثریتی طبقہ ناراض ہو جائے گا

Nitish Kumar and Tejashwi Yadav - Pic : INN
نتیش کمار اور تیجسوی یادو ۔ آئی این ان

 ریاست بہار میں سالِ رواں کے نومبر ماہ سے پہلے اسمبلی انتخاب ہونا ہے اور اس کی تیاری تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے طورپر شروع بھی کردی ہے۔ حکمراں جماعت میں جنتا دل متحدہ اور بی جے پی کے ساتھ لوک جن شکتی پارٹی کا اتحاد قائم ہے اور حالیہ بیان کے مطابق نتیش کمار کی قیادت ہی میں  این ڈی اے آئندہ بہار قانون ساز اسمبلی کی۲۴۳؍سیٹوں پر انتخاب لڑے گی اور وزیر اعلیٰ کے طورپر نتیش کمار ہی پیش کئے جائیں گے جبکہ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طورپر کوئی متفقہ نام سامنے نہیں آیا ہے ، البتہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل نے تیجسوی یادو کی قیادت  ہی میں  انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
 چوں کہ بہار کی سیاست میں ذات پات کی سیاست کو مرکزیت حاصل ہے اس لئے ہر سیاسی جماعت حالیہ راجیہ سبھا انتخاب اور آئندہ ماہ ہونے والے بہار قانون ساز کونسل کے انتخاب کیلئے امیدواروں کے انتخاب میں سماجی تانے بانے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ بہار سے راجیہ سبھا کی پانچ سیٹیں خالی ہوئی ہیں، ان میں سے تین این ڈی اے اور دو راشٹریہ جنتا دل اتحاد کے حصے میں آئی ہیں ۔جنتا دل متحدہ نے اپنے۲؍ امیدوار ہری ونش سنگھ اور رام ناتھ ٹھاکر کو دو بارہ راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کہکشاں پروین کو جگہ نہیں مل پائی ہے۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع سے یہ خبر مل رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہکشاں پروین کو بہار قانون ساز کونسل میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سیٹ  بی جے پی کو ملی ہے جس پر بی جے پی کے امیدوار سی پی ٹھاکر کے بیٹے آدتیہ ٹھاکر کو بنایا گیاہے۔غرض کہ راجیہ سبھا کی سیٹوں کو لے کر این ڈی اے میں کسی طرح کی رسّہ کشی کا ماحول نہیں ہے جبکہ عظیم اتحاد یعنی راشٹریہ جنتا دل او رکانگریس کے درمیان ان سیٹوں کو لے کر کچھ چہ می گوئیاں چل رہی ہیں لیکن لالو پرساد یادو نے کانگریس سپریمو سے یہ طے کرالیا ہے کہ وہ دونوں سیٹوں پر راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار ہی کو  راجیہ سبھا بھیجیں گے۔ پارٹی نے اپنے پرانے چہرے پریم کمار گپتا کے ساتھ ایک نیا چہرہ امریندر دھاری سنگھ کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا ہے اور ان دونوں امیدواروں کا منتخب ہونا بھی یقینی ہے لیکن راشٹریہ جنتا دل کے اس قدم سے کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی کے اندر تھوڑی سی ناراضگی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس لئے اگر کوئی آزاد امیدوار میدان میں آجاتے ہیں تو پھر ووٹنگ کا مرحلہ یقینی ہو جائے گا او رایسی صورت میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے کیوں کہ اگر پانچ امیدوار ہوتے ہیں تو این ڈی اے کے تین اور راشٹریہ جنتا دل کے دو  یعنی  دونوں خیموں کے امیدواروں کا بلا مقابلہ راجیہ سبھا جانا طے ہےلیکن ایک آزاد امیدوار رضا شاہ نے پرچۂ نامزدگی داخل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ راجیہ سبھا کا انتخاب دلچسپ ہوگا۔
 واضح ہو کہ اس راجیہ سبھا کے انتخاب میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد دونوں نے مسلم امیدواری سے پرہیز کیا ہے اور اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہار کی سیاست میں کس ذات کی کتنی پکڑ ہے اس پر بھی نظر رکھی ہے۔ مثلاً جنتا دل متحدہ نے ایک اعلیٰ طبقے یعنی راجپوت امیدوار کے طورپر ہری ونش جی کو دوبارہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ویسے وہ ایک معقول امیدوار ہیں اور  ایک بڑے صحافی  ہیں اور صاف وشفاف کردار کے شخص ہیں۔ اس وقت راجیہ سبھا کے وائس چیئر مین بھی ہیںجبکہ دوسرا امیدوار انتہائی پسماندہ طبقے سے رام ناتھ ٹھاکر کو لیا گیا ہے۔ رام ناتھ ٹھاکر آنجہانی کرپوری ٹھاکر کے بیٹے ہیں،  ان کی بھی سیاسی شبیہ صاف ستھری ہے اور بہار میں بیک وارڈ پالٹکس میں کرپوری ٹھاکر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اسلئے نتیش کمار نے رام ناتھ ٹھاکر کو دوبارہ راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اس طبقے کا انہیں فائدہ مل سکے ۔ دوسری طرف  راشٹریہ جنتا دل نے پریم کمار گپتا کو دوبارہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ، ان کا تعلق بھی بنیا ذات سے ہے اور وہ بھی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ راشٹریہ جنتا دل کو مالی فائدہ پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں، اسلئے انہیں ارب پتی امیدوار بھی کہا جاتا ہے جبکہ امریندر دھاری سنگھ کا تعلق فارورڈ کلاس سے ہے۔اس طرح راشٹریہ جنتا دل نے بھی آئندہ اسمبلی انتخاب کو سامنے رکھا ہے مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ بہار میں ۴۰؍ سے زیادہ اسمبلی سیٹوں کے نتائج کو اثر انداز کرنے والی اقلیت مسلم طبقے کو کلّی طورپر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ این ڈی اے اور عظیم اتحاد دونوں اس کی بھرپائی کا وعدہ کر رہی ہے۔ 
 واضح ہو کہ آئندہ ماہ اپریل میں بارہ سیٹیں بہار قانون ساز کونسل کی خالی ہو رہی ہیں اور گورنر بہار کے ذریعہ بھی بارہ امیدواروں کی نامزدگی ہونی ہے اور یہ نامزدگی بھی حکمراں جماعت کی سفارش پر ہی کی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ اساتذہ حلقے اور گریجویٹ حلقے کی ۸؍ سیٹوں پر بھی انتخاب ہونا ہے ۔ چوں کہ بہار میں حکمراں اتحادکے بعد سب سے بڑی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل ہے، اسلئے کونسل میں اسے فائدہ ہو سکتا ہے ۔ غرض کہ این ڈی اے کی سیٹ کم ہوگی اور عظیم اتحاد کی سیٹیوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ کانگریس کے پاس ۲۷؍ ممبر اسمبلی ہیں اور ہندوستانی عوام مورچہ کے پاس بھی ایک ممبر اسمبلی ہے اور کئی آزاد امیدواروں کی حمایت بھی راشٹریہ جنتا دل کو حاصل ہے ۔ بایاں محاذ کی بھی ۴؍ سیٹیں ہیں ۔ اس طرح غیر این ڈی اے جماعت کو بہار قانون ساز کونسل میں بڑا فائدہ مل سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ سبھی غیر این ڈی اے سیاسی جماعت اتحاد کے ساتھ اپنے امیدوار کھڑا کریں اور کانگریس کیلئے بھی کچھ قربانیاں دیں کیونکہ راجیہ سبھا میں کانگریس کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اورآج بہار کا جو سیاسی منظر نامہ ہے اس میں کانگریس کو چھوڑ کر چلنا عظیم اتحاد کیلئے خسارہ ثابت ہو سکتا ہےلیکن اب تو فیصلہ ہو چکا ہے ۔
  آنے والے دنوں میں بہار کے سیاسی منظر نامے میں عجیب وغریب تبدیلی نظر آئے گی اور اسمبلی انتخاب سے پہلے کئی چونکانے والے فیصلے بھی سامنے آسکتے ہیں ،اسلئے ان دنوں بہار میں راجیہ سبھا اور بہار قانون ساز کونسل کے انتخاب کو لے کر سرگرمیاں بڑھی ہوئی ہیں اور اس کے فوراً بعد چوںکہ کونسل کا انتخاب ہونا ہے اور گورنر کے ذریعہ ۱۲؍ کونسل ممبران کی نامزدگی کا مرحلہ طے ہونا ہے، اسلئے بھی تمام سیاسی جماعتوں کے اندر ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔بالخصوص حکمراں جماعت کیلئے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ اسے آئندہ اسمبلی انتخاب کو سامنے رکھ کر ہی امیدواروں کا فیصلہ کرنا ہے اور حزب اختلاف کی بھی یہ مجبوری ہے کہ وہ کانگریس ، ہندوستانی عوام مورچہ اور اوپیندر کشواہا کی پارٹی آرایل پی کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ساتھ ہی ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت وی آئی پی کے نام سے مکیش سہنی نے بنائی ہے ۔ چوں کہ بہار میں سہنی برادری کے ووٹوں کی تعداد بھی اچھی ہے اسلئے اس کی حصہ داری بھی کچھ معنی رکھتی ہے۔ 
 غرض کہ راجیہ سبھا ، بہار قانون ساز کونسل کے ساتھ دیگر سیاسی عہدوں پر تقرری کا عمل حکمراں جماعت بھی پھونک پھونک کر کر رہی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف بھی ذات پات کی سیاست کو ترجیحات میں شامل کر رہی ہے کہ بہار میں ذات پات کی سیاست کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اوراس سیاست میں اگر کوئی خسارے میں ہے تو وہ صرف اور صرف اقلیت مسلم طبقہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اب یہ خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی سے اکثریتی طبقہ ناراض ہو جائے گا۔یہ جمہوریت کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ذات پات کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے اور ایک بڑی آبادی کو نظر انداز کرنے کی سوچی سمجھی شطرنجی چالیں چلی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK