• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بکھیرنے کیلئے کوشاں نابینا حضرات

Updated: January 31, 2026, 8:14 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اپنی ہی طرح بینائی سے محروم دوسروںکی فلاح و بہبود کیلئے انہوں نے ’ریلیف اینڈ ویلفیئر سوسائٹی فار دی بلائنڈ‘ کے نام سے تنظیم بھی بنائی ہے جو ۴۵؍ سال سے کام کر رہی ہے۔

Mubeen Sheikh (left) and the organization`s secretary Muhammad Jamshed can be seen talking on the phone. Picture: INN
مبین شیخ (بائیں) اور فون پر گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے سیکریٹری محمد جمشید کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
 نابیناؤں نے بھی اوروں کی طرح  اپنی کمیونٹی کو متحد کرنے، ان کے مسائل حل کرنے اور ان کی فلاح وبہبود کی غرض سے ’ریلیف اینڈ ویلفیئر سوسائٹی فار دی بلائنڈ‘  قائم کی ہے۔ نابیناؤں کی اس تنظیم کا قیام۴۵؍ سال قبل عمل میں آیا۔ اس تنظیم کے مالونی میں۲؍ دفاتر ہیں۔ ایک دفتر گیٹ نمبر ۵؍ پلاٹ نمبر۱۵؍ میں ہے تو دوسرا ٹاؤن شپ میونسپل اسکول ، گیٹ نمبر ایک اور چارکوپ ناکہ کے قریب واقع ہے۔
۱۹۸۰ء میں سعید احمدنے اس تنظیم کی اُس وقت داغ بیل ڈالی تھی اور اس کا رجسٹریشن کروایا تھا جب شہر سے مالونی آنا آسان نہیں تھا۔ ذرائع سفر محدود تھے ، آبادی محدود تھی اور سہولتوں کا فقدان تھا۔ ان کی دور اندیشی اور خیر خواہی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ دفتر کیلئے انہوں نے اپنی جگہ بھی فراہم کروائی۔  ٹرسٹ کا ضابطہ کچھ اس طرح بنایا گیا کہ اس ٹرسٹ کا ذمہ دار کوئی مسلم نابینا شخص ہی ہوگا۔ جگہ وقف کرنے اور نابیناؤں کی بہتری کیلئے قدم اٹھانے والے سعید احمد کا تعلق سہارن پور (یوپی) سے تھا۔ ان کے انتقال کے بعد رفیق الدین کو ذمہ داری سونپی گئی۔ ان کے انتقال  کے بعد حافظ ابوالکلام صدر بنائے گئے جنہوں نے اس ادارے کو آگے بڑھانے میں کافی تگ ودو کی ۔ ان کی موجودگی میں یہ تنظیم کسی نہ کسی حوالے سے سرخیوں میں  رہی۔ ان کے انتقال کے بعد فی الوقت محمد مبین شیخ کو ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ نگرانی شیخ محمد جمشید کو دی گئی ہے۔ 
نمائندہ انقلاب نے ان کے دفتر اور گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور تفصیلات حاصل کیں اور یہ جاننا چاہا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور اس تعلق سے انہیں کس طرح کی دشواریاں درپیش ہیں۔
اس تنظیم کے۵۰۰؍ سے زائد نابینا ممبران ہیں۔ ان میں سے بیشتر مالونی میں جبکہ کچھ دیگر علاقوں کلیان، ڈومبیولی، وسئی، نالاسوپارہ، کرلا، گورے گاؤں، اندھیری ، ملنڈ، تھانے اور جوگیشوری وغیرہ میں مقیم ہیں۔ اس تنظیم کی  باڈی میں۹؍ ممبران ہیں،جن کی ہر مہینے میٹنگ ہوتی ہے اور جنرل باڈی کی سالانہ میٹنگ بلائی جاتی ہے۔  
اس تنظیم کا بنیادی مقصد بطور خاص فیملی والے نابیناؤں کی فلاح وبہبود ہے۔ اس تنظیم کی آمد و خرچ کا باقاعدگی سے آڈٹ کرایا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی  بلائنڈ حضرات کے  علاج معالجہ، ماہانہ راشن کی فراہمی، گھر دلانا ، کاغذات کی درستی ، راشن کارڈ ، بارش کے ایام میں تال پتری، چھتری  ، چھڑی، کمبل، بچوں کی اسکول فیس، اسکول بیگ  اور کتابوںوغیرہ کے علاوہ حسب گنجائش شادی بیاہ میں اور ٹرینوں میں سامان بیچنے کیلئے مدد کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی کمپیوٹر کلاسیز، ٹیوشن کلاسیز اور سلائی کلاسیز بھی چلائی جاتی ہیں۔  سلائی کلاس سے فی الوقت۴۰؍ سے زائد خواتین اور بچیاں استفادہ کررہی ہیں۔ ان سے۲۰۰؍ روپے ماہانہ فیس لی جاتی ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کلاس میں۱۵؍ کمپیوٹر ہیں۔ کمپیوٹر سیکھنے والے کچھ  بچوں کو مفت اور کچھ بچوںسے فیس لی جاتی ہے۔ 
 
 
نابینا حضرات نے اپنی معذوری کے باوجود اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے انہیں اچھی تعلیم دلائی ہے۔ ان میں سے کچھ کے بچے ملازمت بھی کررہے ہیں۔ وہ اپنی معذوری کے باوجود اس بات کیلئے بھی کوشاں ہیں کہ وہ عام لوگوں کی زندگی میں روشنی بکھیرنے میں مددگار بن سکیں۔ اس کی عملی صورت سلائی ، کمپیوٹر اور ٹیوشن کلاس کے علاوہ پلاٹ نمبر۶۹؍ میں جاری مکتب ہے۔ ان کے عزا ئم بہت بلند  ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فنڈ کی فراہمی کی کوئی بہتر صورت پیدا ہوجائے تو وہ رفاہی کاموں کو مزید توسیع دے سکیں اور اپنی کمیونٹی کا معیار زندگی بلند کرسکیں۔ 
انہیں اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد نہیں دی جارہی ہے، حالانکہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ان کا حوصلہ اور ان کی کوشش کا اندازہ اس سے بھی بآسانی کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے رہائش کا مسئلہ حل نہ ہونے پر چند سال قبل منترالیہ کا گھیراؤ بھی کیا تھا۔  یہ اور بات ہے کہ متعدد میمورنڈم دینے کے باوجود  اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وہ حکومت پر تعصب کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔
 
 ادارے کےزیر اہتمام جاری سلائی کلاسیز میں خواتین اور بچیاں کپڑا کاٹنے کی مشق کررہی ہیں۔ 
ٹاؤن شپ میونسپل اسکول میں واقع دفتر کا بی ایم سی کو  سالانہ۶۰؍ ہزار روپے کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ پہلے یہاں بلائنڈ اسوسی ایشن کو تین کمرے الاٹ کئے گئے تھے مگر اسکول کی نئی عمارت بننے کے بعد اب محض ایک کمرہ ہی ان کیلئے رہ گیا ہے۔ اس پر بھی بی ایم سی کا۳؍ لاکھ۹۷؍ ہزار روپے کرایہ باقی ہے، جس کا ایک سے زائد مرتبہ نوٹس دیا جاچکا ہے۔ ان کی تنظیم اور اس کے ذریعے انجام دی جانے والی خدمات عوامی چندے ، خصوصی تعاون اور کبھی کبھار سیاسی جماعتوں کے ذریعے ملنے والی مدد سے کسی طرح پوری کی جاتی ہیں۔
حکومت سے ان کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ ان کیلئے رہائش کا نظم کیا جائے خواہ وہ عمارت کی شکل میں ہو یا جگہ کی فراہمی کی صورت میں۔فی الوقت یہ لوگ اپنے طور  پر رہائش کا نظم کئے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کے پاس ذاتی مکان ہے تو بیشتر کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ پی سی او بوتھ کیلئے کوشش کی گئی لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح اسٹال الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیاتاکہ وہ گزر اوقات کیلئے چھوٹا موٹا کاروبار کرسکیں، لیکن اب تک حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ 
ان نابیناؤںمیں بیشتر کا تعلق مہاراشٹر ، کولکاتا، آسام، بہار اور اترپردیش سے ہے جبکہ ممبران میں مسلم، ہندو، سکھ  اور عیسائی بھی شامل ہیں۔یہ تمام تفصیلات ہیڈ آفس میں ذمہ داری ادا کرنے والی انجم انصاری،مبین شیخ(صدر) اور محمد جمشید (سیکریٹری) سے بات چیت پر مبنی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK