Inquilab Logo Happiest Places to Work

صدقہ ٔ فطر (فطرہ): مقصد ، حکمت اور ہماری ذمہ داری

Updated: March 17, 2026, 3:00 PM IST | Haseebur Rahaman Fatehpuri | Mumbai

یہ نماز ِ عید الفطر سے قبل ادا کردیا جانا چاہئے۔ اگر نماز کے بعد ادا کیا تو صدقۂ فطر نہیں رہتا عام صدقہ شمار ہوتا ہے۔

Fitrah is a charity whose payment is tied to a specific time. Photo: INN
فطرہ صدقہ ہے جس کی ادائیگی ایک مقررہ وقت کے ساتھ وابستہ ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کیا جانے والا ’’صدقۂ فطر “اسلام کی اہم عبادت ہے۔ اسے فطرہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا صدقہ ہے جس کی ادائیگی ایک مقررہ وقت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اگر اسے عیدالفطر کی نماز کے بعد ادا کیا گیا تو وہ صدقۂ فطر نہیں رہتا بلکہ عام صدقہ شمار ہوتا ہے۔

  شریعت ِ اسلامی میں اس صدقے کو واجب قرار دینے کے پیچھے گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ احادیثِ  مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر کے دو بنیادی مقاصد ہیں: پہلا  مقصد یہ ہے کہ رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہوئے انسان اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ روزے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے؛ لیکن بشری کمزوریوں کے باعث بعض اوقات معمولی لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں کہ آدمی کھانے پینے سے تو رک جاتا ہے لیکن بے فائدہ گفتگو، لغویات اور نامناسب باتوں سے مکمل طور پر بچنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا؛ اسی لئے سرکار دو عالم، نبی کریم ﷺ نے صدقۂ فطر کو روزوں میں ہونے والی ان کمیوں کی تلافی اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہزار مہینوں سے بہتر رات حاصل ہوجائے تو صاحبِ قدر بن جائیں

اس کا دوسرا اہم مقصد معاشرہ کے ضرورت مند اور نادار افراد کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بھی عید کے دن کھانے پینے کا انتظام کر سکیں اور خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ بدقسمتی سے آج کل اس اہم مقصد پر کم توجہ دی جاتی ہے اور اکثر لوگ اسے رسمی ادائیگی سمجھ کر عید کی نماز سے پہلے جلدی سے ادا کر دیتے ہیں ؛حالانکہ اگر اجتماعی شعور کے ساتھ اس صدقے کو منظم انداز میں ادا کیا جائے تو معاشرہ  کے بہت سے غریب خاندانوں کی مدد ہو سکتی ہے اور اُن کی عید بھی کسی حد تک اُن خاندانوں جیسی ہوسکتی ہے جنہیں رب العالمین نے نوازا ہے۔

ادائیگی کا وقت

صدقۂ فطر کی ادائیگی کا بہترین وقت عیدالفطر کی نماز سے پہلے ہے۔ اگر کسی وجہ سے عید کی صبح مستحقین تک یہ مدد پہنچانا ممکن نہ ہو تو عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی اسے ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ غریب اور ضرورتمند افراد عید سے پہلے اپنی ضرورتوں کو پورا کرسکتے  ہیں اور اس طرح عید کی  خوشی  میں شریک ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے

کن چیزوں سے ادا کیا جائے

احادیث مبارکہ میں صدقۂ فطر کے لئے چار چیزوں کا ذکر ملتا ہے: گیہوں، جو، کھجور اور کشمش ۔ لوگ باگ  عموماً گیہوں کے حساب سے فطرہ ادا کرتے ہیں  اگرچہ اس سے ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے؛ لیکن موجودہ حالات میں فقراء کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے بہتر یہ ہے کہ صاحبِ استطاعت افراد کھجور، کشمش یا جو َکے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کریں تاکہ ضرورتمندوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔ اس معاملے میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔ 

 صدقۂ  فطر کی مقدار

روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع جو، کھجور یا کشمش اور آدھا صاع گیہوں مقرر فرمائی ہے تاہم بعض صحابہ کرامؓ  سے منقول ہے کہ جب گیہوں کی قیمت کم ہو گئی تو آپؐ نے لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ ایک صاع کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کریں۔

اسی بنا پر اہلِ استطاعت کیلئے ایک صاع کے حساب سے ادا کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

کن لوگوں پر واجب ہے

صدقۂ فطر ہر مسلمان مرد و عورت، بالغ و نابالغ اور آزاد شخص پر واجب ہے؛ بشرطیکہ اس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال موجود ہو جو نصاب کے برابر ہو؛ البتہ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کے وجوب میں فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کے لئے مال پر پورا سال گزرنا ضروری ہے جبکہ صدقۂ فطر کے لئے سال گزرنا شرط نہیں ہے۔

جہاں تک اس کے مستحقین کا تعلق ہے تو وہی لوگ اس کے حقدار ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اگر یہ صدقہ اپنے غریب رشتہ داروں کو دیا جائے تو اس میں دہرا اجر ملتا ہے: ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا؛  اس لئے بہتر ہے کہ انسان اپنے اردگرد نظر ڈالے یقیناً ایسے بہت سے گھرانے مل جائینگے جو معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ہماری مدد کے منتظر ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۳): بچی نے سوال کیا: ’’ابو! آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘

رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کیا جانے والا یہ صدقہ دراصل عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی ہمدردی اور باہمی تعاون کا بھی درس دیتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی، معاشی عدم توازن، بے روزگاری اور سماجی ناہمواری جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، وہاں صدقہ ٔ  فطر کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر ہم اس کے حقیقی مقصد کو سمجھ کر ادا کریں تو عید کی خوشیوں سے نہ صرف ہمارے گھر جگمگائیں گے  بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو بھی خوش ہونے اور اچھا کھا پی لینے کا موقع ملے گا-

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK