وہ ایک ایک سیب اٹھا کر دیکھنے لگی۔ جہاں نسبتاً کم خراب حصہ نظر آتا اسے الگ رکھ لیتی۔ داغدار سیبوں میں بھی بچوں کی خوشی تلاش کرتی ہوئی اس ماں کے لبوں پر مسلسل شکر کے الفاظ تھے۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 2:40 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
وہ ایک ایک سیب اٹھا کر دیکھنے لگی۔ جہاں نسبتاً کم خراب حصہ نظر آتا اسے الگ رکھ لیتی۔ داغدار سیبوں میں بھی بچوں کی خوشی تلاش کرتی ہوئی اس ماں کے لبوں پر مسلسل شکر کے الفاظ تھے۔
کلیان روڈ کو شہر کا داخلی دروازہ کہا جاتا ہے۔ پائپ لائن سے گزرتے ہوئے لکڑا بازار اور پھر نئی بستی کا علاقہ آتا ہے۔ بزرگوں کے مطابق اس بستی میں فسادات سے متاثرہ افراد کی باز آبادکاری کی گئی تھی۔ یہاں زیادہ تر مزدور اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ان ہی لوگوں کے لئے کے جی این چوک پر لگنے والی سبزی اور پھل مارکیٹ کسی نعمت سے کم نہیں۔ نمازِ ظہر ادا کرکے جب یہ ڈائری نگار نگینہ مسجد سے نکل کر کے جی این چوک پہنچا تو چلچلاتی دھوپ اپنے جوبن پر تھی۔ سڑک کے کنارے سبزی اور پھلوں کی دکانوں پر معمول سے زیادہ بھیڑ تھی۔ روزہ دار خواتین ہاتھوں میں تھیلے لئے افطار کیلئے خریداری میں مصروف تھیں۔ مَیں ابھی گھر سے ملی فہرست کے مطابق سبزی خریدنے بڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک حیرت بھری آواز سنائی دی‘ ’’اتنے مہنگے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے
میں نے چونک کر دیکھا۔ ایک برقعہ پوش خاتون پھل فروش سے مخاطب تھی جو کہہ رہا تھا: ’’جی بہن، پھل مہنگے ہیں آج کل۔‘‘ پھل فروش نے بے بسی سے جواب دیا۔ خاتون نے دھیمی آواز میں پوچھا: ’’سیب کیسے ہیں؟‘‘ ’’دو سو پچاس روپے کلو۔‘‘ ’’استغفراللہ‘‘ اس خاتون نے جواب دیا جیسے کوئی امید ٹوٹ گئی ہو۔ وہ پلٹنے ہی والی تھی کہ پھل فروش نے آواز دی:’’بہن! اگر چاہیں تو یہ لے لیجئے،صرف پچاس روپے کلو ہیں۔‘‘
اس نے ایک ٹوکری کی طرف اشارہ کیا جو الگ رکھی ہوئی تھی۔ میں نے بھی نظر دوڑائی۔ ٹوکری سیبوں سے بھری تھی مگر وہ چمکدار نہیں تھے، کچھ ایسے تھے جو آدھے خراب اور کچھ کے کنارے سڑ چکے تھے۔خاتون ایک لمحہ رکی، پھر جیسے دل میں کوئی امید جاگ اٹھی ہو۔ ’’ہاں، یہ دے دو۔ بچوں کی بڑی تمنا تھی سیب کھانے کی، اللہ نے ان کی خواہش پوری کر دی۔‘‘ وہ ایک ایک سیب اٹھا کر دیکھنے لگی۔ جہاں نسبتاً کم خراب حصہ نظر آتا اسے الگ رکھ لیتی۔ داغدار سیبوں میں بھی بچوں کی خوشی تلاش کرتی ہوئی اس ماں کے لبوں پر مسلسل شکر کے الفاظ تھے۔اس لمحے یوں لگا جیسے اس ٹوکری میں صرف سیب نہیں، ایک ماں کی محبت، شفقت اور صبر بھی رکھا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۵): بقول خریدار، ٹھیلے والے کے شاعری نما فقرہ میں ’قافلہ‘ نہیں تھا
بیسویں روزے کی تراویح ادا کرنے کے بعد کوٹر گیٹ مسجد کے سامنے واقع ایک شرٹ کی دکان پر ایڈوکیٹ سلیم یوسف شیخ اور ڈاکٹر مقیم شیخ جامعی سے ملاقات ہوگئی۔ رمضان، شہر اور معاشرہ کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو چل رہی تھی۔ سلیم صاحب بازاروں اور کھانے پینے کی دکانوں پر غیر معمولی بھیڑ دیکھ کر کچھ فکر مند دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا: ’’ایسا لگتا ہے جیسے رمضان عبادت اور ایثار کا مہینہ ہونے کے بجائے صرف کھانے پینے اور خریداری کا مہینہ ہو۔ تیسرا عشرہ بھی قریب الختم ہے مگر ہم اب بھی انہی مصروفیات میں گم ہیں۔ علما اور سماجی رہنماؤں کے سمجھانے کا کیا حاصل؟ ‘‘
اسی دوران ایک چائے فروش وہاں آ پہنچا۔ لمبا قد، گندمی رنگت، سر پر سفید ٹوپی اور چہرے پر سادہ سی مسکراہٹ۔ اس نے سلام کیا، سب کو چائے تھمائی اور خاموشی سے ہماری گفتگو سننے لگا۔ جب بات زکوٰۃ کے موضوع پر آئی تو وہ اچانک بول پڑا: ’’اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا نظام اسلئے مقرر کیا ہے کہ زکوٰۃ لینے والے چند برسوں بعد خود زکوٰۃ دینے والوں میں شامل ہو جائیں اور مسلم معاشرہ مفلسی سے نکل کر خوشحالی کی طرف بڑھے مگر آج ہم لاکھوں کی زکوٰۃ کو سیکڑوں اور ہزاروں میں بانٹ دیتے ہیں، جس سے اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اگر چاہیں تو ہر سال ایک یا دو افراد کو خود کفیل بنا دینا کچھ مشکل نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۴): ’’یہ شامی کباب نہیں، شام کے کباب ہیں، شام ہی میں بنتے ہیں‘‘
اس کی آنکھوں میں عجیب سی کسک تھی۔ خالی گلاس کریٹ میں رکھتے ہوئے وہ آہستہ سے بولا: ’’شاید آپ کو معلوم نہ ہو… میں پہلے غیر مسلم تھا۔ اللہ نے مجھے ایمان کی دولت دی۔ میں ایک خوشحال گھرانے سے تھا، مگر اسلام قبول کرنے کے بعد سب کچھ چھوڑنا پڑا۔ تقریباً دس برس سے یہاں بیوی بچوں کے ساتھ بڑی مشکل سے زندگی گزار رہا ہوں۔ قرض بھی ہے اور کاروبار شروع کرنے کی خواہش بھی… مگر زکوٰۃ کے نام پر کبھی اتنی مدد نہیں ملی کہ کوئی کام شروع کر سکوں۔ اگر مل جاتی تو شاید آج مَیں بھی زکوٰۃ دینے والوں میں شامل ہوتا۔‘‘یہ کہہ کر وہ دعائیہ کلمات ادا کرتا ہوا چائے کی کیتلی اٹھا کر دوسری دکان کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے جاتے ہی دکان پر خاموشی چھا گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کے سادہ مگر سچے الفاظ نے ہمارے دلوں پر دستک دی ہو۔ ہم سب نے نظریں جھکا لیں۔ وہ شخص شاید ہمیں یاد دلا گیا تھا کہ ایمان صرف نام یا خاندانی نسبت کا نہیں بلکہ احساس، ایثار، بہی خواہی، ہمدردی اور عملی ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔